گلگت بلتستان کی آزادی‎

گلگت بلتستان کی آزادی‎

22 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: محمد عثمان حسین

آذادی کا لفظ محبت کی طرح نرالی خصوصات کا حامل ہے .عمومی طور پر لوگ آزادی سے ہر قسم کی آزادی مراد لینے کے قائل ہے اور اس سے مکمل طور پر لطف انروز ہونے کے لیے قانون بھی ہاتھ میں لینے سے دریغ نہیں کرتے.لیکن مہذب معاشرے میں ایک انسان کی آذادی وہاں ختم ہوتی ہے جہاں وہ دوسرے کی آذادی میں رکاوٹ بنے. ہر سال 14 اگست کو پاکستان میں یوم آذادی منائی جاتی ہے.لیکن یہ بات سن کر آپ ضرور حیران رہ جائنگے کی پاکستان میں ایک خطہ ایسا بھی ہے جہاں سال میں دو دفعہ یوم آذادی منائی جاتی ہے. ہاں وہ خطہ گلگت بلتستان ہے. ہر سال 14 اگست کو گلگت بلتستان کے لوگ پاکستان کے عوام کے ساتھ مل کر یوم آذادی پاکستان مناتے ہے. اور یکم نومبر کو یوم آزادی گلگت بلتستان مناتے ہیں۔ اگست 1947 کو پاکستان کی آذادی کے بعد گلگت بلتسان کے غیور باشندوں نے بھی یہ عزم کر رکھا تھا کہ وہ بھی دو قومی نظرے کے تحت آذادی حاصل کرنئگے. آزادی کے عزم کو حقیقت میں بدلنے کی لیے گلگت بلتستان کی عوام نے یک جاں ہوکر مہاراجا کی سکھ اور ہندو افواج کو شکست دیتے ہوئے یکم نومبر 1947 میں گگت بلتستان کو ایک آذاد اور خودمختار ریاست میں تبدیل کرتے ہوئے علاقے میں عبوری حکومت نافذ کیا. راجہ شاہ رئیس خان کو ریاست کے صدر اور مرزاحسن کو کمانڈر چیف منتخب کیا گیا انگریز فوجی آفسر میجر براون حالات کو دیکھتے ہوئے پہلے ہی ریاست پاکستان کو ٹیلی گرام بھیج چکےتھے جس میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ گلگت بلتستان کی عوام نظریہ اسلام کے تحت ریاست پاکستان سے الحاق کے خواہاں ہیں. 15 دن کی عبوری حکومت کے بعد 16 نومبر 1947 کو پاکستان کی طرف سے پولیٹیکل ایجینٹ خان محمد عالم خان کے گلگت کی سرزمین میں آمد پر ریاست گلگت بلتستان کو پاکستان کے ساتھ الحاق کر دیا گیا.گلگت پر پاکستانی کنٹرول کے بعد مئی 1948 میں گلگت سکاؤٹ نے علاقے کے عوام کی مدد سے سکردو اور لداخ کے علاقے کو بھی آزاد کرواکر پاکستان میں شامل کیا گلگت بلتستان رقبہ کی لحاظ سے 72,971km2 ہے جو دنیا کے بہت سی آزاد ریاستوں سے بڑاہے.

قدرت نے علا قے کو ہر قسم کے وسائل سے مالامال کیا ہوا ہیں. ایک خودمختار ریاست کے طور پر بھی گلگت بلتستان کے تشخض کو برقرار رکھنا ممکن تھا لیکن یہاں کے لوگوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کو بہتر سمجھا. 1947 سے 1970 تک پاکستان نے گلگت بلتستان کو دو حصوں گلگت ایجنسی اور بلتستان ایجنسی میں تقسیم کرتے ہوئے حکومتی نظام کو برقرار رکھا حکومتے پاکستان نے گلگت بلتستان میں FCR جیسے قوانین نافز کردیئے اور علاقے کے عوام کو نیم آذادی کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور کردیا گلگت بلتستان کا جب بھی ذکر ہوگا ذوالقار علی بھٹو کو ضرور یاد رکھا جائے گا. 60 کی دہائی میں ذوالقارعلی بھٹو نے گلگت بلتستان سے FCR اور راجگی نظام کو ختم کرکے علاقے کی عوام کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے یہاں کے عوام پر بڑا احسان کیا .60 کی دہائی کے بعد گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جانے لگا. 2009 میں سیلف گورنمنٹ کی نفاذ کے بعد شمالی علاقہ جات کو اسکا اصل نام گلگت بلتستان دیا گیا. مختصر تاریخ بیان کرنے کے بعد اب گلگت بلتستان میں سال میں دو دفعہ منائے جانے والے یوم آزادی یعنی اپنے اصل زیر بحث موضوع پر آتے ہے . گلگت بلتستان میں 14 اگست کویوم آذادی پاکستان بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے. جس کے بعد یکم نومبر کو یوم آزادی گلگت بلتستان منایا جاتا ہے آزادی کے ہیرز کی یاد میں چنار باغ گلگت موجودہ گلگت بلتستان اسمبلی میں ایک پر وقار تقریب کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں گگلت بلتستان پولیس کے جوان جنگے آذادی کے شہداء کی مزاروں پر سلامی دیتے ہے.جس کے بعد پرچم کشائی کی تقریب ہوتی ہے یکم نومبر کو گلگت بلتستان میں عام تعطیل ہوتی ہے. نومبر کے مہینے میں علاقے میں آذادی کی یاد میں تقریبات کا ایک سلسلہ شروع ہوتا ہے جس میں کھیلوں کے مقابلے اور ثقافتی پروگرام سہرفرست ہے. کھیلوں کے مقابلوں میں پولو کھیل کے مقابلے بہت مشہور ہے . پولو گلگت بلتستان کا قومی کھیل ہے . فری سٹآئل میں یہ کھیل گلگت بلتستان ہی میں کھیلا جاتا ہے جس کو دیکھنے کیلئے دنیا بھر کے سیاح علاقے کا رخ کرتے ہیں . پولو کے علاوہ گلگت بلتسان کے دیگر اضلاع میں فٹ بال ,ہاکی, اور والی بال کی مقابلے بھی ہوتے ہیں . صوبائی سطح پر کھیلوں کے مقابلے کا انعقاد سٹی پارک گلگت میں کیا جاتا ہے. کھیلوں کے مقابلوں کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کی مشہور ثقافت کو عیاں کرنے کیلئے ثقافتی میلوں کا بھی انعقاد ہوتے ہیں جو باہر سے آنے والے لوگوں کی اپنی طرف مائَل کر دیتے ہیں. آذادی کے مہنے نومبر کے آغاز کے ساتھ علاقے میں دن بہ دن سردی بڑتی جاتی ہے اور نومبر کے مہینے کی اختتام کے ساتھ سردی اپنی عروج کو پہنچ جاتی ہے جس کی وجہ سے تقریبات کا سلسلہ زوال پزیر ہوجاتا ہے اور سیاح اپنے اپنے علاقوں کا رخ کرتے ہیں.

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔