درخشندہ آفتاب

درخشندہ آفتاب

18 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر:الواعظ نزار فرمان علی

“وہ (اللہ تعالیٰ) بڑی برکت والا ہے جس کے ہاتھ میں اختیار اعلیٰ ہے، اور وہ ہر چیز پر پوری پوری قدرت رکھنے والا ہے جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تمہاری آزمائش (کرکے ظاہر) کردے کہ تم میں سے کون عمل میں سب سے اچھا ہے اور وہ زبردست بڑا بخشنے والا ہے۔”(القرآن)

قارئین کرام! سرسلطان محمد شاہ آغاخان سوئم کی ولادت باسعادت ۲۵ شوال ۱۲۹۴ھ بمطابق ۲ نومبر۱۸۷۷ ؁ء بروز جمعۃ المبارک شہر کراچی بمقام محمد ٹیکری (آغا خان ٹیکری) میں ہوئی، جب آپ کی پیدائش کی خبر آپکے دادا جان کو ملی تو آپ نے نہایت خوشی سے بذریعہ تار فرمایا” اس کا نام محمد سلطان رکھو یہ دنیا میں سلطان بنے گا۔اور اسکے زمانے میں عجیب عجیب واقعات رونما ہونگے ،یہ دنیا بھر میں مشہور ہونگے۔”

اگر ہم اپنی تاریخ کا بغور جائزہ لیں تو آپ کی حیثیت ایک ایسے درخشندہ آفتاب کی ہے جس نے اپنا سب کچھ انسانیت ،امت اور جماعت کی خوشحالی کیلئے وقف کیا۔فلاح ملت اور قیام واستحکام پاکستان کیلئے آپ کی انتھک جدوجہد اورلا زوال قربانیاں ہمارا قومی سرمایہ ہیں۔سر آغا خا ن سوئم مسلم لیگ کی بنیاد رکھنے میں برصغیر کے ممتاز رہنماؤں میں نمایاں رہے،1906میں آپ مسلم لیگ کے بانی صدر کی حیثیت سے اپنا مضبوط رول ادا کرتے رہے۔آپ اتحاد امت کے عظیم داعی تھے ،مسلمانوں کواپنے فروعی اختلافات کو پس پشت ڈال کر آئندہ نسلوں کی خوشحالی بلخصوص قیام پاکستان کیلئے ٹھوس لائحہ عمل کو عملی جامہ پہنانے کیلئے تن ،من ،دھن سے کوشاں رہے۔پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد سرآغا خان نے اپنی تقاریر میں عربی زبان کو پاکستان کی قومی زبان کے طور پر اپنانے کی تجویز دی تھی جو ایک طرف مشرقی پاکستان کے بھائیوں کے جذبات کو اطمینان دیتے ہوئے قومی یکجہتی اور قومی ہم آہنگی کو یقینی بنائیگا، ساتھ ساتھ مسلم دنیا کے مابین ایک عظیم اتحادی قوت کا ذریعہ بھی بنے گا۔آپ نے فرمایا”عربی اسلام کی زبان ہے قرآن کریم عربی میں ہے، اسپین میں اسلامی ثقافت کا اعلیٰ ترین ورثہ بھی عربی میں ہی تھا۔۔۔”

سر آغا خان سوئم 1937کو لیگ آف نیشنز (اقوام متحدہ)کا صدر منتخب کیا گیا اس ادارے کے ذمے دنیا بھر کے مملکتوں کے مابین امن وہم آہنگی قائم کرنا تھا چونکہ عالمی ادارے میں زیادہ تر بااثر رکن ممالک کی نمائندگی تھی چنانچہ آپ نے بحیثیت صدر کئی مسلم ممالک کو نمائندگی دلانے کیلئے پرزور تگ ودو کی۔خصوصاً مصر و افغانستان کی ممبر شپ کیلئے مثالی کردار ادا کیا۔آپ نے عالمی برادری کو امن عالم کے حوالے سے بے جا فوجی طاقت بڑھانے اور وسیع پیمانے پر جنگی ساز وسامان بنانے کی حوصلہ شکنی فرمائی اور زور دیتے تھے کہ تمام انسان حضرت آدم کی اولاد ہیں ان کو صلح وخیر خواہی کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہئے ۔آپ نے بطورسربراہِ بین الاقوامی تنظیم دوسری جنگ عظیم روکنے کیلئے جہاں یورپی ممالک کے دورے کئے وہیں ہٹلر سے ملاقات کر کے اسے اس حرکت سے روکنے کی بھرپور کوشش کی مگرتوقعات کے برعکس جنگ چھڑنے کے ساتھ ہی لیگ آف نیشنز منتشرہوگئی۔بحیثیت عظیم انسانی فلاح کار اقوام عالم کی بلا تفریق رنگ ،نسل ومذہب ،خیر اندیشی و مدد کرتے تھے اس حوالے سے تعلیم،صحت اور سماجی خوشحالی کے میدانوں میں آپ کے جدوجہد تاریخ کا سنہرا باب ہے،مثلاً ہندوؤں کی بنارس یونیورسٹی کی مالی اعانت کا معاملہ ہو یا ایران کے زرتشتی کمیونٹی کے تعلیمی مسائل حل کرنے کیلئے سکولوں کے قیام کی کاوشیں ،افریقہ کے عیسائیوں کے معاشرتی بہبودکے امور ہوں یا ایران،عراق اور شام کے مسلمانوں کے معاشی حالات سنوارنے کے منصوبے جس میں مساجد کی تعمیر اور قرآن و سیرت نبویؐ پر کتابوں کی اشاعت اور علوم اسلامی کے فروغ میں بھرپور معاونت فرمائی۔مشرقی افریقہ کے پرتگیزی علاقے میں جہاں 70فیصد سے زیادہ آبادی مسلمانوں کی تھی جو نسلاً افریقی تھے سر آغا خان نے ان کی سماجی ترقی کیلئے تعلیمی و صحت عامہ کے ادارے قائم کئے اور ہمیشہ دست تعاون جاری رکھا۔پہلی جنگ عظیم کے دوران ترکی پر یورپی اتحادیوں کی طرف سے ظلم اور تھریس کے علاقے پر یونانیوں کے قبضے اور ترکی کے پایہ تخت استنبول کی طرف بڑھنے کی ہدایت پر برطانوی وزیر اعظم کو جلالی انداز میں خبردار کیا ۔’’مسٹر پرائم منسٹر یونانیوں کو ہم پر چھوڑ دو حالانکہ میں ضیف ہوگیا ہوں مگر ہم تلوار لے کر جائیں گے اور یونانیوں کو نکال دیں گے اور ہم اپنے جہازوں کا انتظام خود کریں گے۔‘‘

1945میں مسلم ویلفیئر سوسائٹی برائے افریقہ قائم کیا جس کے تحت تنزانیہ ،یوگانڈا،کینیا اور جنوبی افریقہ میں تبلیغ دین ،مدارس ومساجد کی تعمیر اور جہالت و افلاس کے خاتمے کیلئے بھی مالی امداد دیتے رہے۔سر سلطان محمد شاہ آغا خان نے انگلستان کے مسلمانوں کے مذہبی وتمدنی تشخص کی مضبوطی کیلئے دینی مدارس و مساجد کی تعمیر اور رہائشی مسائل کے حل خاص طور پر مسلم قبرستان کیلئے زمین دلوائی ،اسلامی علوم و معارف کی نشر واشاعت کے مد میں فنڈز فراہم کئے۔سرسلطان محمد شاہ آغاخان کے جشن امامت کی جوبلیوں یعنی سلور، گولڈن اور پلاٹینیم جوبلیوں میں شریک دنیا کی جماعتوں کی جانب سے پیش کئے جانے والے نذرانوں سے حاصل ہونے والی رقوم کو انسانیت و امت کی معاشی و سماجی ترقی کیلئے مختص کیا گیا۔ یقیناًسرآغاخان ثالث کی دوربینی نگاہوں نے یہ محسوس کرلیا تھا کہ برصغیر کے مسلمانوں کی معاشرتی و سیاسی، آزادی/ خود مختاری کا واحد ذریعہ تعلیم کو عام کرنے میں ہے۔چنانچہ یہ تصورگوادر کے ایک ساحلی ماہی گیروں کے چھوٹے سے گاؤں میں اسکول کے قیام سے حقیقت میں تبدیل ہوگیا۔اس دور میں شمالی علاقہ جات میں ڈی۔جے سکولز کا قیام اور ضرورتمند طلباء کیلئے بڑے پیمانے پر سکالرشپس اہم سنگ میل تھا۔ تاریخ سے واضح ہوتا ہے کہ آغاخان ایجوکیشن سروس پاکستان اس خطے کا اولین غیر سرکاری تعلیم رساں ادارہ ہے جو بڑی سرعت سے ترقی کرتے ہوئے ملکی و بین الاقوامی سطح پرمنفرد حیثیت رکھتا ہے۔

آپ نے شمعِ علم سے انسانی اذہان کو منور کرنے کیلئے ایشیاء اور افریقہ میں 200سے زائد آغاخان سکولز اور حفظان صحت کے معیار کو قائم رکھنے کیلئے سینکڑوں ہیلتھ سنٹرز قائم کئے۔ سنتِ نبوی ؐکی رو سے حصول علم کو لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے یکساں طور پر ضروری قرار دیااور مثال دی کہ’’ اگر کسی کے ہاں ایک بیٹا اور بیٹی ہو اور وہ صرف ایک کو پڑھانے کی سکت رکھتے ہوں تو انہیں اپنی بیٹی کی تعلیم کو ترجیح دیں تاکہ خاندان کو آئندہ نسلوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے۔‘‘برصغیر کے مسلمانوں کی تعلیمی و تمدنی عروج کی اساس، سرسید احمد خان کے تعلیمی مشن علیگڑھ کالج کو یونیورسٹی بنانے میں سرآغاخان کا کردار ناقابل فراموش ہے اس علمی جہاد میں نہ صرف اپنی جیب سے لاکھوں روپے پیش کئے بلکہ مذکورہ تعلیمی منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے ہندوستان کے شہر شہر ، گاؤں اور گھر جاکر دستِ مبارک پھیلاکر چندہ جمع کیا ۔”تاریخ شاہد ہے سر سلطان محمد شاہ کی علیگڑھ کی نشونما و پرداخت ، ترقی و مضبوطی میں کلیدی کردار رہا۔اسکی تکمیل کے بعد بھی مستقل رہنمائی، تعاون اور ہر طرح کا سپورٹ جاری رکھا۔علیگڑھ یونیورسٹی لائبریری کیلئے قیمتی کتابوں کا تحفہ اور آغاخان علیگڑھ سکالرشپ کا اجراء جیسے پائیدار اقدامات شامل ہیں۔ اسلئے جب علیگڑھ یونیورسٹی قائم ہوئی تو آپ کو رئیس الجامعہ منتخب کیا، ہز ہائینس تقریباََ18سال تک رئیس الجامعہ رہے۔

15فروری1936کو یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے آغا خان کے اعزاز میں خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا” آپ مسلمانوں کے انتہائی محترم، انتہائی بااعتماد اور انتہائی بااصول و شائستہ رہنما ہیں۔آپ کے تدبر اور تعلیم سے آپ کی دلچسپی کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔آپ ہی کی مساعی جمیلہ کے باعث آج ہماری مادر علمی کو عالمی یونیورسٹیوں میں مسلمہ حیثیت حاصل ہے۔”

دوسری گول میز کانفرنس میں آغاخان ثالث گاندھی کے مقابلے میں مسلمانوں کی قیادت کررہے تھے اس موقع پر آپ نے اپنی ٹیم کو منظم رکھا اور درپیش صورتحال کو بھانپتے ہوئے انتہائی دانشمندی، معاملہ فہمی، نواضع اور جرات سے قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے (۱۹۳۲ ؁ء میں) ڈاکٹر شفاعت رقمطراز ہوئے”آغا خان ایشیا بھر میں عظیم ترین رہنما ہیں۔”اس حوالے سے حضرت علامہ اقبالؒ کی رائے کیا خوب تھی”ہم نے آغا خان جیسے قابل قدر مدبر جس کے ہم سب مداح ہیں اور جس سے ہندوستان بھر کے مسلمان اس خون کے باعث جو اسکی رگوں میں رواں ہے ، کی رہنمائی میں اپنے مطالبات کانفرنس کے سامنے رکھ دئے ہیں۔”
مسلم تعلیمی کانفرنس دہلی جسکی صدارت متفقہ طور پر ہز ہائنس کو دی گئی تھی اس تقریب میں مولانا نذیر احمد،صدر محترم (آغا خان) کی کرسی کے پاس آئے اور اپنی تقریر شروع کرنے سے پہلے والہانہ اندازمیں ایک خوبصورت شعر سے مخاطب فرمایا۔

آفاقہا گردیدہ ام۔۔۔ترجمہ “جہانوں کو دیکھا ہے میں نے ، چاند جیسے چہرے دیکھے ہیں میں نے، بہت سی خوبیوں کا مشاہدہ کیا ہے میں نے، لیکن آپ (صدر) کچھ مختلف ہی ہیں۔”

مولانا شبیر نعمانی نے بھی ایک زبردست ‘نظم’ آپکی خدمت میں پیش کیا تھا جسکے ایک شعر کا ترجمہ :”اگر چہ شیعہ اور سنی عقیدے کے لحاظ سے سرآغاخان خدا نہیں ہیں لیکن وہ مسلمانان عالم کی کشتی کے ناخدا ضرور ہیں۔
سرآغاخان سوئم اپنی ذات میں اِک ایوان تھے۔ساری دنیا آپ کو ایک عظیم مدبر ،عالم و دانشور، عالمی سیاسی گتھیوں کو سلجھانے والے رہبر، اور مسلم دنیا کے معتبر لیڈر کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔آپ نے ہندوستان کے سلگتے مسائل ، آزادی اور بنیادی حقوق کے متعلق ایک جامع کتاب “انڈیا اِن ٹرانزیشن” تصنیف فرمائی،اسکے علاوہ آپ نے اپنی زندگی کے گوناگوں حالات و وقعات، چیلنجز، متعدد ممالک کا سفر اور اہم شخصیات سے ملاقات کا احوال ، عالمی جنگوں کی تباہ کاریوں، اسباب، ہتھیاروں کے روک تھام میں موثر کردار، دین اسلام کے تہذیبی و روحانی عناصر پر مبنی آب بیتی” دی میمائرس آف آغاخان”تحریر فرمائی۔مزید برآں شرق و غرب کے موقر اخبارات میں چھپنے والے مضامین ، خطوط ، مختلف مواقعوں پر دئے گئے انٹرویوز، تقاریر اور خطبات جو مسلم لیگ، مسلم تعلیمی کانفرنس، علیگڑھ تعلیمی جلسے ، سوشل فورمز، لیگ آف نیشنز اور پاکستان بننے کے بعد کئی جگہوں پر بصیرت افروز خیالات کا اظہار فرمایا، جس پرباقاعدہ تحقیق کرکے ملی سطح پر استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

جب ہزہائینس آغا خان کی زندگی کے آخری ایام کے متعلق انکے بڑے فرزند پرنس علی سلمان خان سے پوچھا گیا تو آپکا جواب تھا کہ اکثر اوقات وہ مجھے تلاوت قرآن مجید کے گراموفون ریکارڈ سنانے کو کہتے اس دوران میں انکے لبوں پر حرکت دیکھتا، وہ آیۂ قرآنی سنتے جاتے اور دہرائے جاتے۔امر الہٰی سے۱۱ جولائی۱۹۵۷ ؁ء بروز جمعرات جنیوا جھیل کے کنارے اپنی قیامگاہ “برکت ولا” میں دار فانی کو خیر باد کہا (اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنِّا اِلیہ راجِعُون)یوں ایک عظیم عہد کا اختتام ہوا۔جسکے اَنمِٹ نقوش ہر دور میں جہت نمائی کرتے رہیں گے ۔
آپکی تدفین مصر میں اسوان کے مقام پر ہوئی۔سر سلطان محمد شاہ کے وِل، مشن اور ویژن کے مطابق آپ کے پوتے پرنس کریم آغاخان چہارم اُنچاسویں اسماعیلی امام مقرر ہوئے۔سرآغاخان سوئم کا انمول قول “Work No Word”کام کیجئے باتیں نہیں، اس اصول کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ باتیں نہ کی جائیں اور کام کو مکمل کرنے کی کوشش کی جائے”بزم انسانیت کیلئے کامیابی کی اہم کلید ہے۔
یہی آئین فطرت ہے ، یہی اسلوب فطرت ہے
جو ہے راہِ عمل میں گامزن، محبوب فطرت ہے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔