ضلعی بجٹ اور نہ ہی ضلعی سیٹ اپ، نگر برائے نام ضلع

نگر ( تجزیاتی رپورٹ ) ضلعی بجٹ اور نہ ہی ضلعی سیٹ اپ نگر برائے نام ضلع ،تین سالوں تک کسی ایک بھی ضلعی محکمے کا دفتر نہیں بنایا جا سکا ۔ حتیٰ کہ ڈپٹی کمشنر کے لئے راہائش یا دفتر بھی نہیں تعمیر کے لئے ایک اینٹ بھی نہیں خریدی گئی۔ آج تک نگر میں سب ڈویژن کے لئے قائم کئے گئے دفاتر میں یا CRBCکی متروکہ کیمپوں میں ہی کام ہو رہا ہے ،جس بھی محکمے سے پوچھا جائے تو جواب ملتا ہے کہ ابھی پیسے نہیں ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر تک کے لئے اراضی کو مختص نہیں کیا جاسکا۔نگر سپریم کونسل کی جانب سے اڑھائی برس قبل ہی ہریسپو اس کو ضلعی ہیڈکوارٹر ڈیکلیئر کیا گیا جس کے بعد محکمہء داخلہ نے نوٹیفیکیشن جاری کیا ۔ قابل زکر بات یہ ہے چار اضلاع کے اعلان کے بعد سب سے پہلے نوٹیفائی ہونے والا ضلع ہے ۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نگر کے ضلعی سیٹ اپ میں جان بوجھ کر تعطل کا شکار کر رہی ہے تا کہ عوام مسائل کا شکار ہوں اور احتجاج ،ہڑتال اور دھرنے دینے پر مجبور ہوں ۔ عوامی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ صوبائی حکومت آخر کس بناء پر نگر ضلع کے سیٹ اپ کے لئے خصوصی فنڈز تو درکنار ضلعی سیٹ اپ کے لئے درکار فنڈز جاری نہیں کر رہی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ ضلع نگر کے عوام گلگت بلتستان میں شامل ہی نہیں کسی اور ملک افغانستان یا روس کے کسی ملک کے شہری ہیں ۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں اس بات کا جواب دیا جائے کہ ضلعی سیٹ اپ کے قیام میں رکاوٹیں کیا ہیں ،کہاں ہیں اور کس طرح کی ہیں ۔ اگر ہمیں ان سوالوں کا جواب نہیں ملے گا تو ہمیں یقین ہے کہ صوبائی حکومت نگر سے اندرون خانہ کوی بغض عناد رکتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments