غذر سے چائینہ تک ۔۔۔۔۔ نسواراورخون جمانے والی سردی (پارٹ ۲)

غذر سے چائینہ تک ۔۔۔۔۔ نسواراورخون جمانے والی سردی (پارٹ ۲)

53 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر:دردانہ شیر

نسوار کا عشق میں اس شخص نے پہلے ہی ہمارے دو گھنٹے سے زائد کا ٹائم ضائع کیا تھا اور تمام مسافر سخت غصے میں تھے کہ ان کی وجہ سےانہیں کتنی تکیلف کا سامنا کرنا پڑا۔ اب ہمارا سفر تاشقرغن کی طرف شروع ہوا تھا۔ ہماری گاڑی کے اگے چائینز بارڈ فورس کی گاڑی تھی اور ہماری گاڑی سمیت دو اور گاڑیاں بھی مسافروں کو لیکر خنجراب پہنچ گئی تھی جن میں دو نیٹکو کی اور ایک پرائیوٹ ہائیس تھی۔ اس دوران چائینز سیکورٹی فورس کے ایک نوجوان نے آکر تمام گاڑیوں کے ڈرائیورز سے کچھ بات کی۔ ہماری تو خیر کچھ سمجھ میں نہیں آئی کہ وہ کیا کہہ رہا تھا۔

ہم چین کی حدود میں داخل ہوگئے تھے۔ ایک ساتھ ہی تینوں گاڑیاں سٹارٹ ہوگئی۔ میں نے اپنے ڈرائیور سے پوچھا کہ یہ سپاہی کیا کہہ رہاتھا۔ بقول ڈرائیور کے خنجراب سے تاشقرغن تک 40کی سپیڈ پر گاڑی چلانے کی ہدایت دے رہا تھا۔ جب میں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ اس سے قبل ہماری طرف سے آنے والی گاڑیوں کی اور سپڈ کی وجہ سے کئی گاڑیاں حادثات کا شکار ہوگئی ہے۔ اس وجہ سے چائینز فورس نے گاڑیوں کی سپیڈ کو چالیس رکھا ہے۔ ہماری گاڑی سے اگے نیٹکو کی ایک کوسٹر تھی جس کی چالیس والی سپیڈ میں بھی انجن سے ایسا دھواں نکال رہا تھا جیسے سردیوں کے موسم میں دیسی بخاری میں اگر کوئی ربڑ ڈالا جائے تو دھوا نکلتا ہے۔ ہم نے اپنے ڈرائیور سے کئی بار درخواست کی کہ اس کھٹارہ گاڑی سے اپنی گاڑی کو اگے کرو مگر چونکہ چائینز فورس کی ہدایات پر عمل کرنا تھا اور کسی گاڑی کو اورٹیک کرنا بھی جرم تھا۔ ہماری گاڑی جس میں آٹھ مسافروں کی بیٹھنے کی جگہ تھی مگر اس میں چودہ مسافروں کو بیٹھایا گیا تھا۔ مسافر احتجاج کر رہے تھے مگر ان کی آواز سننے والا کوئی نہیں تھا۔ حالانکہ نیٹکو کو کم از کم سوست سے چائینہ تک کوئی معیاری گاڑیوں کی سروس شروع کرنی چاہیں تھی مگر جو گاڑیاں اس روٹ پر لگا رکھی ہے ان کھٹارہ گاڑیوں کو اس روٹ پر کیوں لگایا گیا ہے اس کا جواب تو نیٹکو کے زمہ دار ہی دے سکتے ہیں۔

خنجراب سے تاشقرغن تک کوئی دو سو کلومیٹر کی مسافت ہے اس سے قبل جب راقم چائینہ گیا تھا تو یہ سفر تین گھنٹوں میں طے ہوتا تھا اور سوست سے جانے والے مسافر شام چار بجے کے قریب تاشقرغن پہنچ جاتے تھے مگر اس دفعہ ایک طرف دو گھنٹے نسوار والے بھائی کی مہربانی سے ضائع ہوگئے تھے اور دوسری طرف ہماری گاڑی چالیس کی سپیڈ پر چل رہی تھی یہ سفر ہمیں طویل سے طویل ہوتا جارہا تھا اور راستے میں کسی بھی مسافر کو اترنے کی اجازت نہیں تھی اور اب ہم نے تاشقرغن امیگریشن میں اترنا تھ۔

ا کوئی پانچ گھنٹے کی طویل ترین سفر کے بعد رات آٹھ بجے ہماری گاڑی تاشقرغن امیگریشن کے دفتر کے باہر کھڑی تھی۔ بارڈر فورس کے اہلکاروں نے تمام مسافروں کو اپنی گاڑیوں سے باہر نکلنے کی ہدایت جاری کی اور ڈرائیور حضرات نے ہمارا سامان اتارنا شروع کر دیا۔ تاشقرغن میں اس وقت منفی نو ٹمپریچرتھا اور سردی سے ہمارا برا حال ہوگیا۔ ہم دعا کر رہے تھے کہ امیگریشن سے باہر نکل جائے۔ ہماری سامان کی ایک بار پھر جانچ پٹرتال ہوئی اور موبائل چیک کرنے کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوگیا۔

میں پہلی بار چائینہ جانے والے دوستوں کو یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ کبھی بھی موبائل میں کوئی اسلحہ والی تصویر ہو یا کوئی ایسی وڈیو جس میں اسلحہ کی نمائش ہورہی ہو یا کوئی اخباری کیٹنگ اگرہو تو راستے میں ہی اس کو ضائع کر دیں ورنہ دوران سفر آپ کو سخت مشکلات کا سامنا کرناپڑے گااور لیب ٹاپ کبھی بھی اپنے ساتھ لیکر نہ جائیں اگر اس میں کوئی مواد ہو یا نہ ہو واپسی پر آپ کا لیپ ٹاپ کی وہ حالت بنا دینگے کہ اب اس کو کباڑ میں ڈالنے پر مجبور ہونگے۔

امیگریشن میں دوران تلاشی مسافروں کی رقم بھی چیک کی جاتی ہے کہ جو مسافر چائینہ جارہا ہے اس کے پاس مطلوبہ رقم ہے یا نہیں اگر زیادہ رقم ہے تو بھی اس کی وجہ پوچھا جاتا ہے کہ اتنے پیسے لیکر چین کیوں جارہے ہو۔ تاشقرغن امیگریشن میں ایک بار پھر تلاشی کا سلسلہ جارہی تھا کہ یہاں بھی چند افراد سے نسوار کے ایک درجن کے قریب پوڈیاں برآمد ہوئی البتہ جس دوست کو چندہ کے طور پر نسوار دیا گیا تھا نامعلوم وجوہات کی بنا پر ان سے نسوار نہیں اٹھایا گیا۔ شاید جو بات میری سمجھ میں آئی وہ یہ تھی کہ بارڈر سے آنے والے سیکورٹی کے اہلکاروں نے وہاں کا قصہ امیگریشن کے حکام کو سنایاہوگا۔

امیگریشن سے فارغ ہوکر نسوار والا دوست جب باہر نکلا تو ایسا خوش تھا جیسے اس نے کشمیر فاتح کر لیا ہو۔ میں اور میر نواز جب مین روڈ پر آئے تو سائرن بجاتی ہوئی سیکورٹی فورسسز کی گاڑیاں نظر ائی۔ تاشقرغن شہر میں خون جمانے والی سردی تھی اور ایک گھنٹے تک ہمیں کوئی ٹیکسی نظر نہیں آئی اور ہمارے درجنوں ساتھی بھی پریشان تھے۔

آخر کار ہم نے ٹھٹرتی سردی میں ہوٹل کی طرف پیدل سفر کرنے کا ارادہ کر لیا۔ ہوٹل کوئی دو کلومیٹر کی مسافت پر تھا تمام مسافر نسوار والے ساتھی کو گالیاں دے رہے تھے کہ ان کی وجہ سے وہ اتنی تاخیر سے تاشقرغن پہنچ گئے ۔شدید سردی میں ہماری حالت غیر ہورہی تھی۔ ہر دو منٹ میں سیکورٹی کی گاڑیاں گزر رہی تھی۔ پرائیوٹ ٹرانسپورٹ کا کوئی نام ونشان نہ تھا ابھی میں اور میرنواز ہوٹل سے چند قدم کے فاصلے پر تھے کہ ایک سفید گاڑی ہمارے پاس آکر رکی اور ایک نوجوان نے میرا نام لیکر پکارا دردانہ شیر اپ یہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے )

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author