چرے کوٹو – اوبزرور پوسٹ

  بروشاسکی زبان میں چر سنتری کو کہا جاتا ہے۔ چرے کوٹو کامطلب ہے سنتری کی جھونپڑی، یا فوجی زبان میں اوبزرور پوسٹ۔

یاسین میں مختلف جگہوں پر یہ پوسٹیں قائم کی گیئں تھیں جن میں سے مشہور، چرے کوٹو بروم یٹے ہے۔ یہ پوسٹ سلطان آباد گاوں، جس کا پرانا نام  ہویلتی ہے، کے برومے چھر (سفید پہاڑ) کی چوٹی پر آج بھی موجود ہے۔ یہ جگہ فوجی نوعیت سے نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس مقام سے یاسین کے تمام موضعات پر نظر رکھی جاسکتی ہے۔

یہ پوسٹ دراصل ایک دس مربع فٹ کی چادیواری پر مشتمل ہے جس کے اندر داخل ہونے کے لئے ایک چھوٹا سا دریچہ بنا ہے۔ دریچے میں داخل ہونے کے لئے بیٹھنا پڑتا ہے۔ چار دیواری میں تقریباً چار فٹ کی بلندی پر دو مربع فٹ کے چوکور سوراخ ہیں۔

اس پوسٹ سے ایک طرف دیکھا جائے تو تھوئی کا علاقہ تھلتی بلکہ اشقم غرو تک نظر آتا ہے دوسری طرف سلگان کا علاقہ ہندور اور املثت تک نظر آتا ہے تیسری طرف سندی، قرقلتی کے نالہ تشی تک صاف دکھائی دیتا ہے اور چوتھی طرف دیکھا جائے تو علاقہ طاوس،  غوجلتی، سنٹر یاسین، مورکہ، نوح اور ہلتر تک نظر آتا ہے۔ گویا یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں سے پورا علاقہ آپ کے نظروں کے سامنے ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ان چوکیوں پر دو دو بندے ہر وقت ڈیوٹی پر ہوتے تھے، وہ زمانہ جنگ جدل کا تھا اور ایک علاقے کے لوگ دوسرے علاقے پر حملہ کر کے قتل و غارت گری کر کے مال اور دولت لوٹ کے لے جاتے تھے، اس لئے ان چوکیوں سے ان بیرونی حملہ آوروں پر نظر رکھا جاتا تھا اور جب دور کہیں سے بہت سے لوگ یا لشکر کو آتا دیکھتے تھے تو فوراََ آگ جلا کر دھواں دیا جاتا تھا تا کہ لوگ سمجھ جائے کہ خطرہ ہے اس کے علاوہ ہر قلعہ میں دو دو چاق و چوبند گھوڑ سوار کمر بستہ رہتے تھے کہ جب خطرے کی گھنٹی بجتی تھی تو وہ گھوڑ سوار مخالف سمتوں میں گھوڑوں کو دوڑا کر نشر نشر کا نعرہ بلند کرتے تھے  جس کا مطلب لشکر کشی ہو رہی ہے اپنی عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو محفوظ مقامات پر پہنچائیں اور جوان مرد اپنے ہتھیار سنبھال دشمن کے مقابلے کے لئے تیار ہو جائیں۔ اسی طرح کا ایک چوکی گوجلتی گاؤں کے اوپر جو بلند پہاڑ ہے اس کی چوٹی پر بھی قائم تھا جہاں سے بھی پورے یاسین کے حدود تک نظر رکھا جاتا تھا اور خطرے کا سگنل پہنچایا جاتا تھا اور تیسر ا چوکی  بجایوٹ کے نزدیک برس یٹے میں تھا، اور جب لشکر کشی کا خطرہ ٹل جاتا تھا یعنی لڑائی وغیرہ ختم ہو تا تھا تو ہلاوتی ہلاوتی پکارت ہوے ڈیوٹی پر موجود گھوڑ سوار لوگوں کو ام کا پیغام دیتے تھے۔ گویا یہ اس وقت کی حکمرانوں کی طرف سے اپنی رعایا یا عوام کی حفاطت کے اقدام تھے۔ اس زمانے میں فلیتے دار بندقیں جن کو چیکت، اروسی، سیکھا مان اور رپال کہا جاتا تھا ان کے علاوہ تیر کش، تلوار اور ڈھال، اور نیزہ یا برچھی بطور ہتھیار استعمال ہوتے تھے جن کی ایک بڑی کھیپ شاہی قلعہ لاہور میں دیکھا جا سکتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments