گرین اوسے

گرین اوسے

193 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر اعجاز ہلبی

 بروشسکی شاعر بشارت شفیع کی یاد میں ان کی خدمات کے عوض، ان کو  گلہائے عقیدت پیش کرنے کے لیے یاسین آرٹس کونسل کے زیر سرپرستی اور یاسین محرکہ کی تعاون سے  ایک آدبی و ثقافتی پروگرام بعنوان گرین اوسے بمقام لوک ورثہ اسلام آباد ، مورخہ  05 نومبر 2017 کو منعقد ہوا۔ جس میں گلگت بلتستان اور اسلام آباد کے علاوہ ملک کے تمام شہروں ، دبئی اور سعودی عرب سے ادب کے دلدادوں نے شرکت فرماکر بشارت شفیع کی ادبی خدمات کو سلام پیش کیا۔ اور یوں گرین اوسے کا پیغام اسلام اباد کے پہاڑیوں میں گونجتا ہوا اختیتام پزیر ہوا۔  یہاں میں یہ بحث کرنا نہیں چاہتا کہ یہ پروگرام کیسا رہا اور کیسا ہونا چاہیے تھا؟ پروگرم کوتو اچھا ہی ہونا تھا کیونکہ اس پروگرام کا  لگام باشعور لوگوں کے ہاتھوں میں تھا۔ یہ وہ لوگ ہیں  جن کا دل پیغام گرین اوسے سے منور ہوچکا ہے جن کے لیے محبت اور انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے۔ جو ذاتیات واناپرستی اور مادیت پرستی کے بت کو توڑ کے بیٹھے ہوے ہیں ۔ان کے لیے ننگ و ناموس، اقدار انسنیت، بےلوث محبت اور وفا اور اخلاص ہی سب کچھ ہے۔  میں یہاں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ گرین اوسے کا پیغام کیا ہے۔ اس کا فلسفہ کیا ہے۔ تو عرض خدمت ہیں کہ

گرئن آوسے وہ پیغام عظیم ہے۔ جسکی تعلیمات پیغمبروں اور آولیاء کرام کی درس و تدرس میں ملتا ہے۔ جس کی تشہیر میں کارپاکان کی زندگیاں صرف ہوئی-  یہاں اس پیغام کا بشارت شفیع کی شاعری میں شامل ھونا اتنا باعث تعجب نہیں ۔  مگر تعجب اس بات پر ہے کہ وہ کیا محرکات تھے کہ انتہائی قلیل عرصے میں بشارت شفیع کے اس پیغام کواتنا عظیم  لبیک ملا۔۔ کہ آدب کے دلدادے شہری زندگی کی  نفسانفسی وناگونی سے وقت نکال کر  اسلام اباد کی گراں فرش مارکیٹ میں گرین اوسے کا پیغام تقسیم کرنے نکلے۔ سعودی عرب، دبئی، کراچی اور گلگت غیرہ  سے میلوں کی مسافت اور اس سے جوڑٰی تکلیفوں کو پس پشت ڈال کربشارت شفیع کو یاد کرنے لوک ورثہ حاضر ہوئے ۔ نوجواں جذبے متحد ہو کر یاسین آرٹس کونسل کی تشکیل پر رضامند ہوئے۔

یہ وہ پیغام ہے جو موسٰی سے مارکس تک تمام تحرکوں کا روح رواں رہا۔گو کہ بشارت کی پوری شاعری اس پیغام کے گرد  گھموتی ہے مگر  اپنی مخصوص غزل گرین اوسےکے مطلع میں وہ برداشت کا درس دیتا ہے وہ فرماتے ہیں کہ استحصالی معاشرے میں صحیح راستے پر چلنا اسان نہیں ہیں یہاں برائیوں کے انگارے بچھے ہوے ہیں لیکن آپ نےنہ صرف ان انگاروں کے اوپر سے گزرنا ہے۔بلکہ اپنے گردونواں سے سننائی دینےوالے اہوں اور سسکیوں کا بھی خیال رکھنا ہے۔ ہم نے ان کھیتوں میں مہرومحبت کی تخم ریزی کی ہے۔ بس آپ نے ہر کھتی اور ہر کھلیاں کا خیال رکھنا ہے۔

بشارت کی شاعری ان کی اپنی زندگی کی مکمل عکاسی کرتی ہے۔ وہ وفا تھے، ننگ تھے، ناموس تھے اور انسان تھے۔ ان کو مادیت پرستی سے دور کا بھی تعلق نہ تھا- آپ پیغام امن و محبت تھے۔وہ اس دنیا کی استحصالی ںظام سے نالاں تھے اس کا اطہار گریں اوسے دوسرے بند میں یوں کرتے ہیں ۔کہ اس دنیا میں یتیم کو بھگ مانگنے پر مامور کرتے ہیں۔ وہ خوشی سے یہ کام نہیں کرتا، زبردستی سے کرائی جاتی ہے۔  گھر پہ موجود معزور ( اندھے) کو بھیگ مانگنے کے لیے تنگ کرتے ہیں ۔۔ اس لیے بھیگ مانگنے والے معزور پہ ہاتھ رکھو۔  بشارت شفیع غزل گرین اوسے میں جدیدیت کے نقصانات اور ان کے محرکات سے بجنے اور ان سے متاثر ھونے والے جوانوں کے خیال رکھنے پر زور دیتا ہے۔ وہ کہتا ھے کہ جدیدیت اٹل ہے اسلیے مزاحمت کی حماقت کبھی نہیں کرنا۔

 درحقیقت گرین اوسے ایک ایسا پیغام ہے جو دلوں کو جوڑتا ہے اور بیگانہ کو یگانہ بنادیتا ہے۔ یاسین ارٹس کونسل نے اس پروگرم کو گرین اوسے کا نام دے کر یہ عہد کیا ہے کہ وہ انسانیت کی پرچار اور محبت کی عالمبداری کے خاطرہر قسم کے قربانی کے لیے تیار ہیں۔ اور ہر جواں بشارت شفیع کی طرن اس پیغام کا علمبردار ننے گا۔ انشااللہ۔

 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔