تبت : چائینز سنٹرل ایشا – 1893 ٕ

از شریف ولی کھرمنگی۔ بیجنگ
اقتباس از چائنیز سنٹرل ایشیا: رائڈ ٹو دی لٹل تبت

جس علاقے کو آج تبت Tibet کہا جاتا ہے وہ قدیم چاٸنیز (پانچویں صدی) تاریخ میں Tubat کے نام سے رقم ہے۔ منگول اسے Tubet، یورپی (بارہویں صدی) Thibbet جبکہ عربی Tubbett کے ناموں سے پکارتے رہے۔ مختلف ادوار میں اسے Tebet, Thabat وغیرہ سے بھی جانے جاتے رہے۔ مقامی باسی اس علاقے کو بودھ یول Bod-yul (بلتی/ تبتی زبان – یعنی بدھ مت کے پیروکاروں کی سرزمین Bodland) کے نام سے پکارتے ہیں۔

یورپی ممالک آسٹریا ، فرانس اور سپین کو ساتھ ملا دیا جائے تو اس سے بھی زیادہ بڑے (تقریبا 700،000 مربع میل) رقبے پر مشتمل تبت کی سرزمین چائنیز ترکستان اور منگولیا کے جنوب کی جانب ہمالیہ کی بلند ترین علاقوں پر پھیلی ہوٸی ہے ۔ جسکے مشرق میں چین، جنوب میں ہندوستان، اور مغرب کی جانب کشمیر واقع ہے۔

تبت کے چار صوبوں میں سے gNari مغرب کی جانب، Kham مشرق میں، اور سنٹرل صوبے U اور Tsang ہیں جنہیں ملا کر U-Tsang کہا جاتا ہے۔ صوبہ gNari ذیلی صوبوں لداخ اور بلتی (بلتستان – جنہیں چھوٹا تبت Little Tibet کہا جاتا ہے اور کشمیر کا حصہ ہے 1893)، Khorsum(جسکا برٹش انڈیا کے ساتھ بارڈر ملتا ہے) اور Mang-Yul (جوکہ نیپال کیساتھ لگتا ہے) میں تقسیم ہے۔ صوبہ خم Kham کے دارالحکومت کا نام Chiamdo ہے جوکہ جغرافیائی اورنسلی تبتی ہے مگر براہ راست چائینہ کا حصہ ہے۔لہاسہ Lhasa کو صوبہ U-Tsang کیساتھ ساتھ پورے تبت کے بھی صدر مقام کی حیثیت حاصل ہے۔ لہاسہ سے ہر علاقے کیلٸے راستے موجود ہیں۔ چین کی جانب تین راستے اور مغرب کی جانب راستہ لداخ کو، جبکہ جنوب کی جانب ہمالیہ کی بلندیوں سے ہوتے ہوئے نیپال، سکھم (بھوٹان اور نیپال کی سرحدوں کے  درمیان انڈین ریاست) اور بھوٹان تک راستے موجود ہیں۔(قدیم تبتی تاریخ، بادشاہوں کے ادوار، مقامی طرز زندگی ، روایات، عقائد ، جغرافیہ، موسم، بودوباش وغیرہ کی تفصیلات کیلئے کتاب کا مطالعہ دلچسپی سے خالی نہیں، ہم اختصار کی خاطر تفصیلات بیان کرنے سے قاصر ہیں۔)

تبت میں عمومی مذہب لامہ ازم Lamaism ہے، جبکہ قدیمی مذہب بون-پا BonPa بھی رہا۔ لامہ ازم بدھ ازم کی تبدیل شدہ شکل ہے جوکہ کچھ کچھ مذہب اور کچھ حد تک سیاسی نظریہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ساتویں صدی میں Srong Tsan Gampo نے تبت میں لامہ ازم کو متعارف کیا۔ جبکہ دلائی لامہ کا سلسلہ پندرھویں صدی میں شروع ہوا۔ تبتی بدھ مت کا عقیدہ ہے کہ ایک دلائی لامہ دنیا سے رخصت ہو تو نئے دلائی لامہ میں اسکی روح آجاتی ہے۔

چاٸنیز تواریخ کے مطابق 630 میں gNam-Ri-Srong-Bstan کے زمانے میں تبتیوں نے چائینیز سے میڈیسن اور ریاضی جبکہ بدھ مت اور لکھائی انڈینز سے سیکھی۔ اسی بادشاہ نے ہی پہلے دارالحکومت Sha-Ldanاور پھر Lhasa کی بنیاد رکھی۔بادشاہ Srong-bstan-gampo کی سلطنت Bay of Bengal خلیج بنگال سے لیکر خوتان Khotan (شنکیانگ) تک پھیلی تھی، جیسا کہ خلیج بنگال کو اس زمانے میں Tibetan Sea کہا جاتا تھا۔ اسکی ایک بیوی نیپال سے تھی جبکہ دوسری چائینہ کی شاہی خاندان سے۔ 838 کے بعد Glang-Dar-Ma کے قتل کے بعد سے تبتی سلطنت زوال پزیر ہونا شروع ہوا۔ اور 1013 میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ جب دسویں صدی سے تبت کا زوال شروع ہوا تب سے مختلف علاقے تقسیم کا شکار ہوگئے۔ 1685 میں لداخ پر اورنگزیب عالمگیر کی کشمیر پر قائم حکومت نے مقامی Sokpos حکومت کو ہٹاکر قبضہ کیا۔ لیہ میں مسجد قائم کردی۔ بعد ازاں بلتی بادشاہ شاہ مراد نے لداخ پر حملہ کیا جنہوں نے بلتستان پر 1720-1750 تک بادشاہت کی۔ جب سکھوں کی کشمیر پر حکومت تھی، تب ڈوگرہ فوجوں نے زور آور سنگھ کی سربراہی میں 1834 میں لداخ کو تاراج کیا۔ بعد ازاں انہوں نے بلتی پر بھی حملے کئے اور پڑوس کی ریاستوں یارقند وغیرہ کو بھی خائف کردیئے۔ تبت پر زور آور سنگھ کے حملے کو چائینیز فورس نے ناکام بنایا۔ تانکہ لداخ پر کشمیری قبضہ جاری رہا جبکہ تبت کے علاقے چائنیز اور تبتی فوج نے واپس لے لئے۔ اسکے بعد سے تبت میں امن رہا، یہاں تک کہ 1888 میں سکھم بارڈر پر تبتیوں کا انگریزوں کیساتھ آمنا سامنا ہوا۔ سکھم کا مسئلہ 1890 میں انگریز وائسرائے اور تبت میں چین کے نمائندے کے مابین کلکتہ معاہدہ پر تھم گیا۔ اس معاہدے کے تحت ہمالیہ کے علاقے سکھم میں چائنیز تبت اور انڈیا کے مابین بھوٹان کی سرحد سے لیکر نیپال کی سرحد تک باونڈری قائم کی گئی۔

تبت کی سول اور مذہبی حکومت تبتیوں کے ہاتھ میں ہے جبکہ سپریم اتھارٹی دلائی لامہ کے ہاتھ میں۔ دلائی لامہ سے صرف ایمرجنسی کی صورت میں ہی حکومتی معاملات میں رہنمائی لیتے ہیں۔ سول معاملات دیکھنے کیلئے ایک خصوصی آفیسرکو دلائی لامہ کے اختیارات تفویض ہیں جسے Gyalpo کہا جاتا ہے۔تبت کے چار اکابر مذہبی کمیونٹیزاورچائینیز کی جانب سے تاحیات مدت کیلئے منتخب اس Gyalpo کوپانچ وزیروں کی مدد سے خطے کے انتظامات چلانے میں ایک بادشاہ جتنی آزادی حاصل ہے جبکہ انکی حیثیت دلائی لامہ کے وزیر اعظم کی سی ہے۔

منبع:  “Chinese Central Asia -Ride to The Little Tibet – Vol 2”

By Henry Lansdell 1893

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments