شگر:برالدو کھلی کچہری میں شہریوں نے شکایات کے انبار لگادیے

شگر:برالدو کھلی کچہری میں شہریوں نے شکایات کے انبار لگادیے

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شگر(عابدشگری) ڈپٹی کمشنر شگر ولی خان کا برالدو میں کھلی کچہری۔ شہریوں نے شکایات کے انبار لگادی۔علاقے میں پینے کیلئے صاف پانی میسر نہیں۔ سکولوں میں اساتذہ کی کمی،روڈ کی بندش اور گندم کی بروقت ترسیل پر ڈپٹی کمشنر کے سامنے پھٹ پڑے۔

ڈپٹی کمشنر نے مسائل کو حکام بالا تک پہنچانے اور حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ ڈپٹی کمشنر شگر ولی خان نے گذشتہ دنوں شگر کے دور افتادہ یونین کونسل برالدو کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پہلی بار تستے میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا ۔ جس میں برالدو بھر سے عمائدین شکایات لیکر پہنچ گئے اور اپنے مسائل سے ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا۔

لوگوں نے ڈی سی شگر کو پورے یونین میں پینے کی صاف پانی کی عدم دستیابی کی جانب توجہ دلائی اور کہا کہ ایک این جی او کی جانب سے بچھائی گئی واٹر سپلائی سسٹم محکمہ کی عدم دلچسپی کے باعث تباہ ہوگئے۔ جس کے بعد لوگوں کو پینے کی پانی کا مسئلہ درپیش ہے۔ صاف پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگ گندے پینے پر مجبور ہیں۔ اور مختلف بیماریوں میں مبتلاء ہے۔جس پر ڈی سی شگر نے انہیں یقین دلایا کہ واٹر سپلائی کیلئے ٹینکی شگر انتظامیہ جبکہ پائپ لائن معرفی فاؤنڈیشن کے ذریعے تعمیر کیا جائے گا۔

لوگوں کی جانب سے روڈ کی بندش اور سردیوں میں گندم عدم دستیابی کے مسائل سے بھی ڈی سی کو آگاہ کیا جس پر انہوں نے اسکولی میں سول سپلائی ڈپو کی قیام اور سردیوں سے پہلے کوٹے کی گندم بروقت ترسیل کی یقین دہانی کرائی۔

چھقپو روڈ کی نامکمل ہونے اور ٹھیکیدار کی جانب سے کام مکمل کئے بغیر چھوڑ جانے پر ڈی سی شگر کو لوگوں نے شکایت کی۔ جبکہ تستے بجلی گھر میں رضاکارانہ طور پر ڈیوٹی انجام دینے والے ملازمین کو 8سال گزرنے کے باوجود ریگولر کرنے میں تاخیر پر بھی لوگوں نے تشویش کا اظہار کیا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔