گلگت بلتستان کے عوام احتجاج پہ اوراعلی حکومتی عہدیداران سیرسپاٹے میں مصروف، راجہ جہانذیب ممبرقانون ساز اسمبلی

یاسین (معراج علی عباسی) گلگت بلتستان میں لاگو غیرقانونی ٹیکسز کے ختمے تک عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ جب تک گلگت بلتستان کے عوام کو مکمل آئینی حقوق نہیں دیے جاتے ہم کسی وزیر مشیرکے عیاشی کے لے ایک پیسہ نہیں دینگے۔ گلگت بلتستان کے عوام نے گزشتہ 72 گھنٹوں سےپورے صوبے کو جام کرکے غیرقانونی ٹیکسز کے خلاف فیصلہ سنا دیا ۔ ممبرقانون ساز اسمبلی ورہنما پاکستان تحریک انصاف راجہ جہانذیب نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے صوبائی حکومت کی جانب سے اپنے عیاشی کے لے عوام پر زبردستی لاگو غیرقانونی غنڈا ٹیکسزکے خلاف عوام نے گلگت بلتستان کے طول وعرض میں مکمل طور پر شٹرڈاون اور پہیہ جام ہرتال کرکے اپنا فیصلہ سنادیا۔ گلگت بلتستان کوئی باقاعدہ صوبہ نہیں ہے۔

جب تک گلگت بلتستان کے عوام کو مکمل ائینی صوبے کا درجہ نہیں ملتا ہم کسی کے عیاشی کے لے ایک پیسہ نہیں دینگے۔ صوبائی حکومت عوامی جزبات کو محسوس کرتے ہوتے فوری طور اپنے عیاشی کے لے عوام پر عائد کردہ غیرقانونی غنڈا ٹکیسز کے خاتمے کا اعلان کرکے اپنی جان بچائے ورنہ آگے چل کر حکومت کے لے بہت ہی سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا ہے کہ اس وقت صرف ہڑتال ہے ،اگر حکومت کا رویہ یہی رہی تو آنے والے دنوں میں ہرتال کے ساتھ ساتھ باقاعدہ عوامی احتجاج کا سلسلہ شروغ شروع کیا جاے گا۔اور عوامی احتجاج کا سلسلہ تب تک جاری رہے گا جب تک گلگت بلتستان کے عوام پر لاگو غیرقانونی ٹیکسز کا مکمل خاتمہ نہیں ہوگا ۔انہوں نے کہا ہےکہ گلگت بلتستان کے عوام آج تین دنوں سے احتجاج میں ہیں مگر اعلی حکومتی عہدیداران عوامی پیسے سے سیرسپاٹے میں مصروف ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments