سہیلی نے میری عزت کا تماشا بنایا

سہیلی نے میری عزت کا تماشا بنایا

440 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تاشمین ہنزائئ

زندگی ایک انمول تحفہ ہے ۔ ہر کوئی اپنے طریقے سے زندگی گزارتا ہے اور اپنی زندگی میں دوسروں کو شامل کرتا ہے ۔ لوگوں کے ساتھ تعلقات رکھنا شروع کرتا ہے ، کچھ تعلقات دوستی میں بدل جاتے ہیں ۔آپس میں ملنا جلنا ہوتا ہے، ایک دوسرے کے ساتھ راز کی باتیں کرتے ہیں بغیر کسی چیز کا سوچے .

میں آج ایسی معصوم لڑکی کے بارے میں لکھ رہی ہوں جسکی زندگی ایک مذاق بنا ہوا ہے ۔ اسکی زندگی اسے کہاں لے کے جا رہی ہے اسکو علم نہیں . ایک ایسی لڑکی جسکو آج اسکے اپنے طنز کر کے خودکو قتل کرنے کی ہمت دیتے ہیں . اسکو بری نظر سے دیکھتے ہیں ۔

ایک دن یوں ہوتا ہے کہ دو لڑکیاں اسکول میں ملتے ہیں پھر آہستہ آہستہ ان میں دوستی ہوجاتی ہے۔ لڑکیوں کی دوستی بہت خوبصورت ہوتی ہے ۔ اس میں ڈر نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ۔ خود سے زیادہ اعتماد ہوتا ہے اور دھوکے کی فکر نہیں ہوتی۔ ایک نادانی ہی سمجھیں اس دوستی کو ۔

وقت گزارتا گیا دونوں کا تعلق گہرا ہوتا گیا دونوں نے ایک دوسرے کے گھر آنا جانا شروع کر دیا۔ خدا جانے اس سہیلی کے دل میں کیا چل رہا تھا کہ اسنے اسکو برباد کرنے کا سوچا ۔ اسنے اپنی سہیلی کے ہاتھ میں موبائل فون تھما دیا ۔ موبائل فون کا غلط استعمال کرنا شروع کر دیا ۔ اسکی سہیلی نے اسکی تصویریں لے کے دوسرے بندے کو بھیجنا شروع کیا، اسطرح آپس میں ملنا بھی شروع کر دیا ۔ اس نادان سہیلی کو یہ نہیں پتا تھا کہ وو کس آگ میں جلنے والی تھی ۔ اسکی سہیلی نےفون اسکے ہاتھ میں تھما کر اسکو غلط راستہ دکھایا ، اسکی حوصلہ افزائی کی اسکو منع نہیں کیا بلکہ اسکو اسی راستے میں دھکیلتی گئی ۔ نادانی کی عمر میں بندہ صحیح سے اچھائی اور برائی میں فرق نہیں کر سکتا ہے۔ وہ دنیا کی رنگا رنگی کے پیچھے چلا جاتا ہے اور وہی راستہ اختیار کرتا ہے۔ اسکو یہ ہوش نہیں ہوتا کہ وہ جس راستے کو اختیار کرتا ہے آیا وہ درست ہے یا نہیں ، نادانی کے فیصلے جذبات پہ مبنی ہوتے ہیں۔ ایسے فیصلوں میں عقل کا کم استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے ہی فیصلے اس ناداں لڑکی نے بھی لئے ۔ اپنی سہیلی کے دکھائے راستے پہ چل پڑی ۔ اسکو اپنی تصویریں دئیے ۔ اس پہ اعتماد کیا ، اس کے ساتھ یہی سوچ کر دوستی نبھائی۔ اور دوسرے بندے نے اسکی تصویریں اپنے پاس کاپی کر لئے ۔ اسکو جب یہ احساس ہوا کہ وہ غلط راستے پہ چل پڑی ہے تو اسنے اپنی سہیلی سے تعلقات ختم کر دئے ۔ اسکو یہ احساس ہوا کہ وہ غلط کر رہی ہے تب تک دیر ہو چکا تھا ۔

انسان کی عزت بہت انمول ہوتی ہے اور لڑکی کی عزت ایک سفید چادر کی طرح ہوتی ہے جس پہ داغ لگ جائے تو اسکو کافی عرصہ دھونا پڑتا ہے اور اس کے لئے ایک مدت تک انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ ہم لڑکیاں زندگی میں جلدی جلدی فیصلے لیتے ہیں اور آسانی سے دوسروں پہ اعتبار کر لیتے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ کچھ غلط ہوگا تو نہیں؟ دوستی کرنی چاہئے لیکن دوستی کو اپنی عزت سے زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہئے کیونکہ جب عزت میں ایک بار خلل اور دوسروں کی انگلیاں اٹھتی ہیں تو اس وقت انسان بے بس ہو جاتا ہے ۔

میں اپنی بہنوں سے گزارش کرتی ہوں کہ وہ موبائل فون کا اچھے سے استعمال کریں، کوشش کریں کہ عقل کے فیصلوں کو ترجیح دیں اور اپنے جذبات میں آکر عزت کو داو پر نہ لگائیں اور کوشش کریں کہ اپنی تصویریں ایسے ہی دوسروں کو نہ بھیجیں۔ کوشش کریں کہ چیلنجز کے چکر میں اپنی تصویریں نہ بھیجیں کیونکہ آپکو ان گیمز کا علم نہیں اور آپکو علم نہیں کہ آپکا ڈیٹا کاپی ہوجاتی ہے اس دوران۔ اللّه نہ کرے کہ بعد میں آپکو کوئی بلیک میل کرے اور آپکو پچھتانا پڑے ۔

دعا ہے کہ ہر لڑکی کو بری نظر نہ لگے اور وہ اچھائی کا راستہ کبھی نہ چھوڑے ۔ امین

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔