آغا خان ہسپتال کی پریشاں رات، میں اور میری بیٹی

آغا خان ہسپتال کے چائلد وارڈ کے ایک کمرے میں اپنی بیٹی کے بیڈ کے ساتھ بیٹھے نہ جانے یہ رات بھاری کیوں لگنے لگی ہے۔ کھڑکیوں سے آتی ہوئی ہلکی نیم روشنیاں غالباً صحن میں لگی لائیٹس کی ہیں۔ اور تاروں بھرے آکاش کے نیچے ہسپتال کا خاموش منظر قیامت برپا کرچکی ہے۔ ایسا سکوت کہ شہر خموشاں کا گماں گزرے۔ ایسی تنہائی کہ چاند تاروں سے مخاطب ہونے کو جی چاہتا ہے جیسے؎

ہچکیاں، رات، درد، تنہائی

آ بھی جاؤ تسلیاں دے دو

نہ جانے قتیل شفائی رہ رہ کے یاد کیوں آئے۔ شاید پریشاں رات اور ستاروں سے ان کو بھی گلہ تھا۔ کہہ گئے؎

پریشاں رات ساری ہے ستارو تم تو سو جاؤ

سکوتِ مرگ طاری ہے ستارو تم تو سو جاؤ

ہنسو اور ہنستے ہنستے ڈوبتے جاؤ خلاؤں میں

ہمیں پہ رات بھاری ہے ستارو تم تو سو جاؤ

ہمیں تو آج کی شب پو پھٹے تک جاگنا ہوگا

یہی قسمت ہماری ہے ستارو تم تو سو جاؤ

تمہیں کیا آج بھی کوئی اگر ملنے نہیں آیا

یہ بازی ہم نے ہاری ہے ستارو تم تو سو جاؤ

کہے جاتے ہو رو رو کر ہمارا حال دُنیا سے

یہ کیسی رازداری ہے ستارو تم تو سو جاؤ

ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے

ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ

ایسے میں حبیب جالب کو کیسے بھول سکتے ہیں۔ قلندر انسان تھے۔ ڈوب کے شعر کہتے تھے۔ جیسے یہ اشعار؎

اے شامِ غم بتا کہ سحر کتنی دُور ہے

آنسو نہیں جہاں وہ نگر کتنی دُور ہے

دم توڑتی نہیں ہے جہاں پر کسی کی آس

وہ زندگی کی راہ گزر کتنی دُور ہے

اب کوئی پاسباں، نہ کوئی اپنا ہمسفر

منزل ہماری کس کو خبر کتنی دُور ہے

کوئی پُکارتا ہے تجھے کب سے اے خدا!

کہتے ہیں تو ہے پاس مگر کتنی دُور ہے

ایسا سما کہ چُپ سی لگ جاتی ہے۔ ذہن و دل میں ایک طوفان سا برپا ہوتا ہے مگر اظہار کی قوت جیسے سلب ہوجاتی ہے۔ آج الفاظ احساسات کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں اس لیے اشعار کا سہارا لے رہا ہوں۔ درد جب حد سے سوا ہو تو شاید ایسا ہوتا ہے جیسے؎

ضبط کرتا ہوں تو درد اور سوا ہوتا ہے

میرے اندر کوئی بچوں کی طرح روتا ہے

آخر بچے کس لیے روتے ہیں جب ان کی فرمائشیں پوری نہیں ہوتیں جیسے پاپا مجھے چاکلیٹ کھانا ہے، مجھے بالون چاہئیے، مجھے جھولا جھلاؤ نا۔ کتنی معصوم خواہشیں ہیں نا۔ اور ان خواہشوں کی تکمیل میں ذرا دیر کیا ہوتی ہے بچے رونا شروع کر دیتے ہیں اس لیے بچوں کا رونا آساں لگتا ہے لیکن بچوں کے لیے رونا اللہ کسی کو نصیب نہ کرے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ جاتے ہیں۔ نہ چاہتے ہوئے آپ کی حالت ایسی ہوتی ہے جیسے؎

صبر اے دل کہ یہ حالت نہیں دیکھی جاتی

ٹھہر اے درد کہ اب ضبط کا یارا نہ رہا

زندگی شاید اسی کا نام ہے۔ کسی دل جلے نے حد کردی ہے۔ کہتے ہیں؎

زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں

ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں

یا یہ شعر کہ؎

درد ایسا ہے کہ لگتا ہے کہ بس زندہ ہوں

زندگی ایسی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے

ہماری حالت گویا ایسی ہے۔ جیسے؎

دن کٹا جس طرح کٹا لیکن

رات کٹتی نظر نہیں آتی

یا پھر؎

اس سفر میں نیند ایسی کھو گئی

ہم نہ سوئے رات تھک کر سو گئی

اس درد کے پیچھے ایک وجہ ہے۔ پچھلے ہفتے کی رات کو اسی ہسپتال میں ہلکے بخار کی وجہ سے ننھی آشا کا آپریشن ڈیلے ہوا تھا۔ آج پھر ایڈمٹ ہوئی ہے۔ اللہ کرے آج کی رات بخیر گزرے۔ کل صبح ان کی سرجری ہے۔ بس جاتے جاتے ایک ہی بات کہ اپنی دُعاؤں میں یاد کیجئیے۔

شب بخیر!

آپ کی رائے

comments