اپنے پاوں پر کھڑا ہو نا ہے تو ٹیکسز دینا پڑے گا، ممبران گلگت بلتستان

گلگت: ٹیکسز کا نفاذ 2012 میں ہوا تھا۔ ایک دم ختم نہیں ہو سکتا ہے ۔ ٹیکسز کو ختم کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ سے مشاروت کر کے مزید قدم اُٹھائینگے ۔ اگر ہمیں حقوق ملے تو ٹیکسز دینا پڑے گا۔ گلگت بلتستان میں جمع شدہ ٹیکسز ایف بی آر میں جمع نہیں ہوتی ہے۔ اس ٹیکسز کا 80فی صد صوبائی حکومت اور 20فی صد جی بی کونسل میں جمع ہو تا ہے۔ سلطان علی خان، ارمان شاہ، وزیرخلاق، اشرف صدر اور ترجمان صوبائی حکومت فیض اللہ فراق نے جمعہ کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ کہا۔

انہوں نے کہا کہ سابق دور میں اگر یہ ٹیکسز جائز سمجھ کر نافذ کیا ہے تو اب منافقت کیو ں کرتے ہیں اگر ٹیکسز جائز تھا تو عوام سے کیوں نہیں پوچھا۔ ہم نے عوام کے آواز کو حکام بالا تک پہنچانا ہے۔ ہم وفاق کے بجٹ پر گزارہ کرتے ہیں، اگر اپنے پاوں پر کھڑا ہو نا ہے تو ٹیکسز دینا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ کہ ایف بی آر سے کہا گیا ہے کہ آزادکشمیر میں جو ٹیکسز میں حصہ ملتا ہے اُس سے جی بی کو بھی حصہ ملنا چاہیے

گلگت بلتستان کونسل وفاق اور گلگت بلتستان کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ہم نے کبھی اس خطے کا سودا نہیں کیا ہے۔ اس مٹی سے اورپاکستان سے محبت ہماری ایمان کا حصہ ہے۔ سابق دور حکومت میں گلگت بلتستان میں ٹیکس نافذ ہوا تھا۔آج ہمیں ان پڑھ کہہ رہے ہیں۔ وہ لوگ اگر تعلیم یافتہ ہوتے تو عوام پر ٹیکس کیوں نافذ کیا۔ صوبائی حکومت نے گلگت بلتستان کو سب سے قیمتی چیز دی ہے وہ امن ہے۔ آج اس امن کی وجہ سے 40ارب کا پراجیکٹ چل رہا ہے۔ ترقی اور خوشحالی عوام کو صاف نظر آرہی ہے۔ ٹیکس کے حوالے سے وفاق سے بات ہوئی ہے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جو حکم دیں گے اُس پر عمل ہو گا۔

اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جب آئیں گے تو ٹیکسز کے حوالے سے بات چیت کر ینگے
وفاق میں حکومت کو ایسی صورت حال پید ا نہیں ہو تا تو گلگت بلتستان بہت پہلے آئینی صوبہ ہوتا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments