کهرمنگ علاقہ کندرک، بنیادی ضروریات زندگی سے محروم کیوں؟

کهرمنگ علاقہ کندرک، بنیادی ضروریات زندگی سے محروم کیوں؟

14 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر : محمد حسن جمالی

علاقہ کندرک گلگت بلتستان ضلع کهرمنگ کے خوبصورت ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ علاقہ کهرمنگ کے بڑے علاقوں میں سے ایک ہے۔ اللہ تعالی نے اس علاقے کو قدرتی حسن اور خوبصورتی سے مالامال کر رکها ہے۔ یوں تو اس علاقے کے سارے مقامات خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں لیکن کچهہ وادیاں بہت زیادہ خوبصورت ہیں جن میں سے ایک کندرک بڑوق ہے- موسم بہار میں “کندرک بڑوق” سر سبز وشاداب ہوکر مہمانوں کا منتظر رہتا ہے- سیر وتفریح کا شغف رکھنے والوں کو ایک بار ضرور کندرک بڑوق دیکهنے جانا چاہیے- بلاتردید جو شخص ایک دفعہ اس جگہ کی سیر کرتا ہے اس کے دل میں بار بار اس وادی کی سیر کرنے کی تمنا دل میں موجزن رہتی ہے –

ابهی تک کندرک میں موجود اس سیرگاہ سے محدود لوگ ہی شناسائی رکهتے ہیں- اس وادی کی سر سبز وشادابی، مہکتے پهولوں اور اطراف میں موجود انسان کی طبیعت پسند خوبصورت منظرے کے سبب مختلف اسکولز سے اساتذہ بچوں کو سیر کرانے کے لئے یہاں لاتے ہیں اور بچے اس جگہ کی سیر وتفریح سے لطف اندوز ہوتے ہیں- علاقہ کندرک کے لوگ بہت ہی محنتی اور مہمان نواز ہیں۔ جب بھی باہر سےکوئی مہمان آتا ہے چاہے وہ دور کا ہو یا اپنے پڑوس کا اپنے پاس دستیاب تمام وسائل کو خرچ کرکے مہمان نوازی کا فریضہ ادا کرتے ہیں ۔ یہاں کے لوگ سادات کے سخت عقیدت مندوں میں سے ہیں- اس علاقے کے لوگ شروع سے ہی سادات کی عزت واحترام کا بیحد خیال رکهتے آئے ہیں۔ وہ اپنے سال بهر کے اخراجات سے چندہ جمع کرکے ہرسال سادات عظام کو اپنے علاقے میں مدعو کرتے ہیں۔ مجلس حسین منعقد کرکے سادات کرام سے اپنے لئے جی بهر کے دعائیں کرواتے ہیں- سادات عظام کندرک کے تفریحی مقامات بڑوق، سنگولس، ہرتلچهو، چهومیک، سنگے زنگگ ، لیخمو رد وغیرہ کا چکر لگائے بغیر واپس تشریف نہیں لے جاتے ہیں – کهرمنگ کے اس علاقے میں پانچ چھ جهیلیں بهی پائی جاتی ہیں، جو ابهی تک علاقے سے باہر کے لوگوں کی نظروں سے اوجهل ہیں-

علاقہ کندرک میں فاصلوں پر سات گاؤں ہیں- کهرمنگ خاص سے پیدل چلنے والے لوگ تقریبا 40 منٹ میں “اوسینگ” نامی گاوں میں پہنچ جاتے ہیں ،جہاں کوئی انیس گهرانے آباد ہیں- اس گاؤں سے مزید دس منٹ چلنے کے بعد “تزیبی لونگبہ” نامی گاؤں آتا ہے- اس میں کوئی بیس یا پچیس خانوادے زندگی کرتے ہیں- اس گاؤں سے آٹهہ دس منٹ کے فاصلے پر چهے سات گهرانے پر مشتمل ایک چهوٹا سا گاؤں آتا ہے اسے کراس کرکے پندرہ منٹ چلنے کے بعد “فلٹو” نامی گاؤں آتا ہے جو سڑک سے اونچے خوبصورت مقام پر واقع ہے، جس میں تقریبا بیس گهرانے آباد ہیں- فلٹو سے دس منٹ اور راستہ طے کرنے کے بعد علاقے کے دوسرے گاؤں کی نسبت سب سے بڑا گاؤں “کندرک” آتا ہے جو اس علاقے کا مرکز شمار ہوتا ہے، اس میں تقریبا 64 سے اوپر گهرانے آباد ہیں -اس سے اوپر پندرہ منٹ کے فاصلے پر “خوشولیک” نامی گاؤں ہے جس میں 19 گهرانے رہتے ہیں اور اس علاقے کا سب سے اوپر اور آخری خوبصورت گاؤں کا نام “چهومیک” ہے جس میں تقریبا 25 گهرانے آباد ہیں –

جہاں علاقہ کندرک کهرمنگ کے خوبصورت ترین علاقوں میں شمار ہوتا وہاں یہ ضلع کهرمنگ کے پسماندہ ترین اور محروم ترین علاقوں میں سرفہرست ہے- ہر دور کے نمائندوں نے اس علاقے کو نظر انداز کیا- جب کہ کسی بهی معاشرے میں عوام اپنے مسائل ، صحت، تعلیم، انصاف، پانی، بجلی، روزگار، اشیائے ضرورت، علاج کی سستی فراہمی، دیگر امور کی بخوبی دیکھ بھال، نگہداشت، ترقی، خوشحالی کے لئے اپنے درمیان میں سے اپنے طور پر ایک اچھے انسان کو منتخب کرتے ہیں۔ عوام کی طرف سے اس منتخب شدہ شخص کے لئے عزت کا اظہار ہوتا ہے۔

عوام کے نمائندوں پر بھی کچهہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ،اہم ذمہ داریاں یہ ہیں کہ وہ عوام سے سچ بولے، وعدے کرے تو ایفاءکرے،ہر قسم کی جعل سازی، دھوکہ دہی اور فریب سے اجتناب کرے۔ میرٹ کے اصول پر کاربند رہے۔ کسی قسم کے ذاتی لالچ، طمع اور ہوس کے بغیر عوام کی خدمت کرے۔ جرائم پیشہ لوگوں کی سرپرستی نہ کرے اور اپنے کردار کو ہر طرح کے عیب سے پاک رکھے۔ مگر علاقہ کندرک کے عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے جسے بهی اپنا نمائندہ منتخب کیا اقتدار سنبهالنے کے بعد اس نے اس علاقے کے مسائل اور بنیادی مشکلات پر کهبی بهی وہ توجہ نہیں دی جس کے یہ مستحق تها اور آج تک علاقہ کندرک انسانی ضروریات زندگی سے محروم ہے ،جن میں سے تعلیم اور صحت کے حوالے سے نوحہ لکهنے پر اکتفا کروں گا-

اس ترقی یافتہ دور میں بهی اس علاقے کے اکثر گاؤں میں پرائمری سکول نہیں- تزیبی لونگبہ میں پرائمری اسکول کی بلڈنگ کئی سال پہلے بن چکی ہے لیکن ابھی تک گورنمنٹ اسے اپنی تحویل میں لینے سے انکار کر رہی ہے۔ چنانچہ گورنمنٹ کی طرف سے کوئی ٹیچر وہاں متعین نہیں ہے۔ یہ اسکول دو گاؤں اوسینگ اور تزیبی لونگبہ کے غریبوں کے بچوں کی تعلیم کا واحد تعلیمی مرکز ہے اس کے علاوہ آس پاس میں نزدیک کوئی اسکول نہیں جہاں ان دو گاؤں کے بچے جاکر اپنی تعلیم جاری رکهہ سکے جس کی وجہ سے ان دو گاؤں کے والدین اپنے بچوں کی تعلیم کے بارے میں سخت پریشان ہیں – کندرک ،چهومیک اور خوشولک میں برائے نام پرائمری اسکول کی چهوٹی چهوٹی عمارتیں تو بنی ہوئی ہیں مگر ان میں بچوں کے لئے ضروری سہولیات فراہم نہیں ،نہ اچهے پڑهے لکهے اساتذہ موجود ہیں اور نہ ہی دوسری ضروریات فراہم- جس کی وجہ سے اس علاقے کے بچے ذہین وفطین ہونے کے باوجود ضائع ہورہے ہیں ۔تعلیم ، رہنمائی اور جدید وسائل کی عدم فراہمی انہیں آگے بڑھنے نہیں دیتے۔ بڑی مشکل سے کندرک کے پرائمری اسکول کو مڈل سکول کا درجہ ملا ہے، لیکن قابل، احساس ذمہ داری سے پوری توجہ دے کر پڑهانے والے اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے اس سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہورہے ہیں –

اس علاقے کا دوسرا بنیادی مسئلہ عوام کے لئے اپنے علاقے میں طبی سہولیات کا نہ ہونا ہے۔ علاقہ کندرک میں ادویات سے خالی صرف ایک ڈسپنسری موجود ہے- اگر کوئی بیمار ہوجائے تو کافی رقم خرچ کرکے علاج کے لئے اسے اپنے گاوں سے دور سکردو طولتی لے جانا پڑهتا ہے۔ اس علاقے میں طبی سہولیات نہ ہونے کے باعث اب تک بے شمار مریض موت کے منہ میں چلے گئے ہیں – علاقہ کندرک میں کم از کم 10بیڈ ہسپتال کی ضرورت فوری ہے تاکہ اس علاقے کے غریب عوام اپنے مریضوں کو بروقت طبی مقام پر پہنچاکر ان کو مرنے سے بچایا جاسکے –

علاقہ کندرک کا موجودہ نمائندہ جناب اقبال حسن صاحب سے ہم دست بستہ گزارش کرتے ہیں کہ آپ علاقہ کندرک میں جلد از جلد دس بیڈ ہسپتال کی منظوری دلوا کر اس پسماندہ علاقے کے غریب عوام کے ساتهہ محبت کرنے کا ثبوت پیش کریں- عوامی مسائل اور مشکلات کو حل کرنا نمائندوں کی ذمہ داری بنتی ہے- جناب عالی کو کندرک کے عوام نے ووٹ دے کر اپنا نمائندہ منتخب اس امید سے کیا تها کہ آپ علاقے کے مسائل پر توجہ دیں گے اور مسائل کے حل کے لئے کوشش کریں گے ،جس توقع سے اس علاقے کے لوگوں نے آپ کو ووٹ دیا تها اس توقع پر تو آپ نہیں اتر سکیں پهر بهی آپ کو کندرک کے عوام کے دل جیتنے کا ابهی موقع باقی ہے ،اگر آپ نے اس اہم مطالبے کو پورا کیا تو یقین جانیے کہ کندرک کی عوام آپ کے ساتهہ رہیں گے ,آئندہ انتخابات میں بهی آپ کو اس علاقے میں کوئی مشکلات پیدا نہیں ہوں گے- چونکہ یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ جو نمائندہ اس علاقے کے ساتهہ مخلص رہے گا ،اسے نظر انداز کئے بغیر اس کے مسائل کی طرف توجہ کرکے اس کے مکینوں کو خوشحال زندگی فراہم کرنے کی کوشش کرے گا، اس علاقے کے عوام بهی اسی کے ساتهہ رہیں گے – امید ہے کہ محترم جناب اقبال حسن صاحب کندرک کے عوام کی آواز بن کر اس مطالبے کو ایوان بالا کے کرسی نشینوں تک پہنچائیں گے اور علاقہ کندرک میں جلد دس بیڈ ہسپتال کی منظوری کی نوید علاقے کے لوگوں کو سنائیں گے- اور اقبال حسن صاحب سے تاکید کرتا ہوں کہ آپ تزیبی لونگبہ کے اسکول کو گورنمنٹ کی تحویل میں لے کر وہاں ٹیچر متعین کرکے اسکول کو فی الفور بحال کریں تاکہ تزیبی لونگبہ اور اوسینگ کے نونہالوں کی تعلیمی مشکل دور ہوسکے اور ان دو جگہوں کے بچے بهی دوسرے گاؤں کے بچوں کی طرح بغیر کسی پریشانی کے اپنے گاؤں میں ہی خوش وخرم اپنی پڑهائی جاری رکهیں –

علاقہ کندرک کا ہر فرد نمائندوں سے یہ پوچهہ رہا ہے کہ علاقہ کیندرک بنیادی ضروریات زندگی سے محروم کیوں؟

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔