23 نومبر تک مطالبات حل نہیں ہوئے تو گلگت بلتستان میں احتجاجی تحریک میں شدت لائینگے ، عوامی ایکشن کمیٹی و انجمن تاجران سکردو

23 نومبر تک مطالبات حل نہیں ہوئے تو گلگت بلتستان میں احتجاجی تحریک میں شدت لائینگے ، عوامی ایکشن کمیٹی و انجمن تاجران سکردو

31 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سکردو ( رجب علی قمر ) عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے سربراہ مولانا سلطان رئیس ،انجمن تاجران گلگت کے صدر محمد ابراہیم اور انجمن تاجران سکردو کے صدر غلام حسین اطہر نے دیگر سٹیک ہولڈرز نے سکردو میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ 23 نومبر تک مطالبات حل نہیں ہوئے تو گلگت بلتستان میں احتجاجی تحریک میں شدت لائینگے جس میں صوبائی سیکرٹریٹ کا گھیراؤ ،لانگ مارچ ،دھرنا اور شٹرڈاؤن ہڑتال سمیت تما م اہم شاہراہوں کو بلاک کریں گے۔

اس موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انجمن تاجران سکردو کے صدر غلام حسین اطہر نے کہا کہ اب مزید حقوق کی استحصالی کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ ایک نااہل وزیر اعظم کو پارٹی کا سربراہ بنانے کے لئے رات میں قانون سازی کی جاسکتی ہے تو گلگت بلتستان کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم عوام پر عائد کئے گئےٹیکسزز میں ترمیم کیوں نہیں کرسکتے ۔اگر جی بی کونسل کے نااہل اراکین عوامی حقوق کاتحفظ نہیں کرسکتے ہیں تو استعفیٰ دے کر عوام سے معافی مانگیں۔ موجودہ صوبائی سیٹ اب NCP ہے۔

پیپلز پارٹی کے صدر امجد ایڈوکیٹ اس وقت کیوں خاموش رہا جب ان کے دور حکومت میں ٹیکس کا نفاز کیا جارہا تھا۔ اگر پیپلز پارٹی نے ٹیکس عائد کی ہے تو ن لیگ اسے کس قانون کے تحت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ آئینی حقوق اور ٹیکسسز کے نفاذ میں موجودہ حکومت اور سابق حکومت برابر کے شریک ہے۔

سپیکر گلگت بلتستان سمبلی فدا محمد ناشاد اور امجد ایڈوکیٹ عوام کو الو بنارہے ہیں اب مزید بیان بازیاں اور کسی دھوکے بازی میں نہیں آئیں گے۔ حقوق کی تحریک کا آغاز ہوچکا ہے عوامی طاقت کے زریعے قومی حقوق حا صل کریں گے۔

اس موقع پر عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے بانی و صدر مولانا سلطان رئیس نے کہا کہ حکومت عسکری بنیادوں پر اہمیت کے حامل خطے میں فسادات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ حکمران عوام کو مسلکی ،علاقائی ،رنگ و نسب میں مبتلا کرکے ہمارے حقوق غضب کی جارہی ہے۔ ا

اُنہوں نے کہا کہ رکن کونسل ارمان شاہ کی طرف سے الزام مضحکہ خیز ہے۔ اگر انڈیا 50 ارب خرچ کررہے ہیں تو سب سے پہلے وفاقی حکومت کے بعد گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت را کے آلہ کار بن جاتے۔ دنیا بھر میں علیحدگی پسند تحریکیں چلتی ہے لیکن گلگت بلتستان کے عوام ملک سے الحاق کی تحریک چلارہی ہے لیکن اس قوم کے مطالبات کو ٹھکرایا جارہا ہے۔

مولانا سلطان رئیس نے کہا کہ ٹیکسز کا معاملہ صوبائی حکومت اور جی بی کونسل کے کورٹ میں ہے اگر یہ لوگ حل نہیں کریں گے تو انجمن تاجران کے شانہ بشانہ حق دو ٹیکس لو کے تحریک کا حصہ بنیں گے۔

پریس کانفرنس میں تمام سٹیک ہولڈرز نے واضع کیا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے 2009 میں دی جانے والی سیلف گورننس آرڈنیس کی کوئی حیثیت نہیں ہے یہ صرف این سی پی درجہ ہے۔ اگر گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنانا ہے تو ملک کے دیگر صوبوں کی طرح تمام حقوق و مراعات دی جائے۔

ا س موقع پر انجمن تاجران گلگت کے صدر محمد ابراہیم ،ایڈوکیٹ صفدر ،آغا باقر الحسنیی ،راجہ میر نواز میر ،حاجی زرمست خان سمیت تمام سیاسی ،مذہبی ،اور سماجی حلقوں نے شرکت کیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔