شاہناز قوم کی ایک درد مند بیٹی

محمد جاوید حیات

بمبوریت سیاحوں کے لئے ایک خواب نگر ہے ۔۔یہاں کی کلاش کلچر جو دنیا کی منفرد ترین تہذیب ہے لوگوں کو ادھر کو کھینچ لاتی ہے ۔۔یہاں پہ روز روز مختلف قسم کے لوگوں سے ملا قات ہوتی ہے ۔۔ ان کے بارے میں رائے قائم کیا جاتا ہے ۔۔ان میں سے بہت کم لوگ احساس کے در کھڑکاتے ہیں اور پھر یادوں کی کتاب میں اپنے صفحے چھوڑ جاتے ہیں وہ پھر یاد نہ بھی کریں مگر ان کی یادیں خوشبو بن کر مشام جان معطر کرتی رہتی ہیں۔۔ شاہناز ان میں سے ایک ہیں جو تیس منٹ کی مختصر ملاقات میں ایک ملن کا احساس دلا کے چلی گئیں ۔۔میں اپنے سکول میں اپنی کسی کلاس میں تھا ۔۔کلاس فور نے آکر کہا کہ سر آپ کے دفتر میں ملاقاتی ہیں ۔۔میں دفتر میں داخل ہوا تو دو مہمان خواتین بیٹھی ہوئیں تھیں ۔۔تعارف کرائے تو ایک بشری تھیں اور ایک شاہناز تھیں ۔۔اسلام آباد سے آئیں تھیں ۔۔خدمت خلق مشن تھا ۔۔فلاحی کاموں میں بڑھ چڑ کر حصہ لیتی تھیں ۔۔شاہناز کی باتوں سے اپنایت کی خوشبو آرہی تھی ۔۔مذید تعارف سے پتہ چلا کہ شاہناز ہنزہ گلگت کی بیٹی تھی اور اسلام آباد میں رہتی تھیں شہناز اختر کی پیدائش علی آباد ہنزہ میں حبیب اللہ بیگ کے ہاں ہوئی ۔۔آپ نے ایف ایس سی تک آغا خان ہائیر سیکنڈری سکول ہنزہ میں تعلیم حاصل کی ۔۔اعلی تعلیم قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے حاصل کی ۔ آپ نے یہاں سے انتھروپالوجی میں ایم اے کیا ۔۔اب ان کی ایم فل آخری مرحلے میں ہے ۔۔شاہناز کو پڑھنے پڑھانے سے جنون کی حد تک شوق ہے ۔۔ وہ جب ہنزہ اپناآبائی گھر آتی ہیں تو گاوں کے بچے بچیوں کو جمع کرکے ان کو پڑھاتی ہیں ۔۔وہ مختلف سکولوں اور کالجوں میں ایک رضاکار کے طور پر پڑھاتی رہی ہیں ۔۔ان کا صرف ایک خواب ہے وہ یہ کہ قوم کے بچوں خاص کر بچیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جائے ۔۔وہ مستحق بچوں کی تلاش میں رہتی ہیں ۔۔ان کا کہنا ہے کہ ان کا ماڈل ان کے ابو ہیں جو خود بھوکے رہیں گے مگر دوسروں کو کہلاتے ہیں ۔۔یہ جملہ کہتی ہوئی ان کی آنکھوں میں چمک اتر آئی کہ ۔۔۔’’سر جی!جب ابو تنخواہ لیتے ہیں تو اس روز بہت دیر سے مگر مطمین گھر آتے ہیں ہم سب سمجھتے ہیں کہ آج ابو کو تنخواہ ملی ہوگی اور آپ دیر تک یہ تقسیم کرتے رہے ہونگے ‘‘شہناز فلاحی کاموں میں حصہ لینے کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھتی ہیں ۔۔انھوں نے بہت سارے تنظیمی اداروں میں کام کیا ہے ۔۔ان میں یو ایس ایڈ ،ایف پی پی اے اور دوسرے پرایویٹ تعلیمی ادارے شامل ہیں ۔۔ان کو مختلف تعلیمی اداروں میں پڑھانے کا وسیع تجربہ ہے ۔۔ان کا خواب ہے کہ ایک یتیم خانہ بنائے اور وہاں پر مستحق بچوں کو رکھے ان کی پرورش کرے ان کی تربیت کرے اوران کو اعلی تعلیم دلائے ۔۔۔خواب ہر کوئی دیکھا کرتا ہے مگر ان کی تعبیرکی جدو جہد بہت کم لو گ کرتے ہیں کیونکہ ان کو اپنی کوششوں کے بارآور ہونے کا یقین نہیں ہوتا ۔شاہناز کی باتوں سے خلوص کی خوشبو آرہی تھی ۔۔خدمت خلق کا جذبہ کوئی معمولی جذبہ نہیں ہوتا ۔۔وہ لوگ جو دوسروں کے لئے جینے کو اپنی زندگی کا مقصد بناتے ہیں وہی امر بن جاتے ہیں وہی درد دل رکھتے ہیں اور گلشن انسانیت کی خوشبو وہی ہوتے ہیں ۔۔شہناز اپنے ساتھ بچوں کے لئے گفٹ لےئے پھرتی ہیں ۔۔جب ان کو تخفہ پیش کرتی ہیں تواس کو ایک طمانیت کا احساس ہو تا ہے ۔۔انھوں نے بچوں کے لئے کھیلوں کے سامان ،پنسل بال پائنٹ ارو دوسرے تخفے لائی تھی ۔۔اس کی انکھوں میں یہ سوال بار بار اٹھتا تھاکہ تم اس پسماندہ علاقے میں فلاح کے کیا کیا کام کرتے ہو ۔۔سوال زبان پہ نہیں لائی سوال التجا بن گیا ۔۔پلیز سر ! اپنے لئے تو سب ہی جیتے ہیں اس جہان میں
ہے زندگی کا مقصد دوسروں کے کام آنا
اس سمے شہناز عزم کی چٹان لگی ۔۔زندگی بڑا سر پھیرا ہے ۔۔یہ لمحوں کی گنتی ہے ۔۔اگر ان لمحوں کی اہمیت کو سمجھا جائے تب زندگی قیمتی بن جاتی ہے ۔۔کم وقت میں زیادہ کا م کیا جاسکتا ہے ۔۔ماضی لپیٹا جا سکتا ہے ۔۔حال کے ہاتھ میں ہاتھ دیا جا سکتا ہے ۔۔مستقبل کو خوش آمدید کیا جاسکتا ہے۔۔شہناز پہاڑوں کی شہزادی ہے ۔۔پہاڑوں جیسی عزم و ہمت ہے ۔۔اقبال نے تڑپ کر ان جیسوں کو مرد کوہستانی کہا تھا ۔۔جو قوم لالہ سحرائی بن جائے اس کو تن اسانی راس آتی ہے ۔۔اس کے پاس آگے بڑھنے کے لئے ہمت نہیں ہوتی ۔۔شہنا زپھول ہے لالہ سحرائی ہے لیکن اپنا بسیرا چٹانوں پہ رکھی ہے ۔۔بمبوریت کی اس سنگلاح وادی میں کہکشان سے ہوتے ہوئے آنا اور ایک آرزو لے کے آنا معمولی بات نہیں ۔۔شہناز جب اپنی آرزو بیان کر رہی تھی تو مجھے بہت اچھی لگی ۔۔ میں نے سوچا کہ شہناز کے عزم کوالفاظ کا جامہ پہنایا جائے۔۔تاکہ بہت اچھا کو اچھا کہنے کا قرض ادا ہو ۔۔اور چھوٹے قلم کار کو اطمنان ہو کہ انھوں نے بھلائی کے کام میں مدد کی ۔۔جو قران کی رو سے تعاون ہے ۔۔

آپ کی رائے

comments