ہماری تن آسانیاں اور کل

ہماری تن آسانیاں اور کل

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر : حاجی سرمیکی

سلطانی سے فقیری بہترہے ، مگر تنگ دستی کسی کو دست درازی اور گدائی پر مجبور نہ کرے۔ سماجی برابری کا تصور صرف یہ نہیں کہ شریعت و قوانین میں اس پر کس قدر زور دیا گیا ہے بلکہ اس کے کچھ اخلاقی پہلو بھی ہیں جن کی عملاَ پیروی ضروری ہے۔ مشینی زندگی میں جہاں سرمایہ دار حد سے زیادہ طاقتور ہورہے ہیں وہاں انسانیت اور ہمدردی کے شعور کے حوالے سے خود انسانوں کا حال بھی مشینوں جیسا ہی ہوتا جارہا ہے۔غریب اور امیر میں سماجی تفریق میں نمایہ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ایسے سرمایہ دار دوست نظام حکومت سے کوئی آس رکھنا کہ وہ سرمایہ دار طبقے کو قابو کرکے نظام برابری کی طرف مائل کریں گے کارِ ندارد سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔

مادی ترقیاتی سرگرمیوں سے کمزور طبقے کو للچانے والی حکومتوں کے منشور سرمایہ دار دوست پالیسیوں کی بنیادپر ہی قائم ہوتے ہیں۔ جبکہ انسانی ترقی کے لئے سوچنے والی قوتوں کو عوامی لاشعوری اور سرمایہ دارانہ طاقت سنگ راہ بن کر آگے بڑھنے نہیں دیتی۔ ریاست میں سماجی برابری یا سماجی انصاف کے لئے ضروری ہے کہ ریاست کلی طور پر انسانی ترقی کو مادی ترقی سے بڑھ کر ترجیح دے وگرنہ کسی طور سماجی انصاف کا قائم ہونا ممکن نہیں ۔ ریاستی ذمہ داریوں سے ہٹ کر بھی مجموعی قومی پیداوار اور مقامی وسائل کی ترقی وفروغ کے لئے بنیادی سطح پر عوام کو کوششیں کرنی چاہیئے۔ اس ضمن میں صعنت و حرفت، جنگلات وزراعت اورتعلیم وہنر کے حوالے سے جدوجہد بہت ضروری ہے۔ بہت بڑے کارخانوں، تعلیمی اداروں ، مشینی مدد اور جدید سہولیات کا مطالبہ کرتے رہنے کی بجائے مقامی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے مقامی انسانی اور مادی وسائل کی ترقی میں کوشاں رہنا عین عقلمندی اور ریاست کی خدمت بھی ہے۔

خطہ گلگت بلتستان اس حوالے سے ایک درخشاں ماضی کا امین ہے۔ یہاں کے لوگوں نے مقامی ہنر اور تجربات کی بنیاد پر سڑکوں، پلوں، چھوٹی صنعتوں اور دیگر وسائل کی مد میں کارہائے نمایہ سرانجام دیے ہیں جو آج ترجمان ماضی اور شان حال ہے۔ تاہم ، عوام کی غلط ترجمانی، غیر موزوں سیاسی رجحانات اور ریاست پر انحصارکرنے کی روش پروان چڑھا کر یہاں کے جفاکشوں کو تن آسانیوں کی طرف مائل کیا گیا ہے۔ مخیر افراد ہو، باشعور تنظیمیں ہوں یا غیر سرکاری ادارے ، نیت تو سب کی خودانحصاری کی ترویج اور اشاعت ہی ہوتی ہے تاہم طویل مدتی اثرات کے حوالے سے غیر موثر تحقیق کی وجہ سے لوگوں میں موجود سماجی خصوصیات مفقوط ہوتی جارہی ہیں۔ اس بات سے ہرگز اختلاف نہیں کہ مذکورہ امدادی ذرائع سے فوائد بھی ملے ہیں لیکن افرادی قوت میں نااندیش تن آسانیاں بھی فروغ پائی ہیں جن کا یہی امدادی افراد، ادارے اور تنظیمیں خمیازہ بھگت رہی ہیں۔ اب خالص رضاکارانہ ترغیب ، جو بلا ذاتی مفاد اور سماجی ترقی کے لئے ہو ، ممکن نہیں نظر آتی۔ جہاں جہاں بیرونی امداد کی بات آتی ہے وہاں وہاں لوگوں کی توجہ ایک غیبی ، فوری اور بھاری مدد کی جانب کھینچ جاتی ہے۔ البتہ چند ایک علاقوں میں اپنی مدد آپ پایہ تکمیل کو پہنچنے والی سرگرمیاں کثیرالمدتی فعالیت کے ساتھ ساتھ عام عوام کے اندر خوداعتمادی اور یکسوئی و اتحاد کے فروغ میں کارگر رہی ہیں۔

ان علاقوں میں سے گنے چنے ہی ایسے ہیں جنہوں نے کارسرکار میں براہ راست مدد فراہم کی ہو، وگرنہ فوری خدشات یا عمومی ضرورت کے پیش نظر یہ سرگرمیاں سرانجام دی ہیں۔ حیف ہے اس معاشرے پر جہاں تعلیم اور عقائد کی تعظیم و توقیر تو ہے لیکن ہنر اور کاریگری کو چھوٹے پیشے سمجھ کر دھتکارا جاتا ہے۔ دنیا بہت گہری و عمیق تحقیق و تدبر کے بعد اس ڈگر پر پہنچی ہے کہ ترقی صرف وہی ہے جو عوام اپنی سوچ ، اپنی ذمہ داری اور اپنی مددآپ کرے۔ تاہم چند سرمایہ دار اس معاملے میں معاونت کے جھانسے دلا کر عوام کا دل جیتنا چاہتے ہیں تاکہ ان کو آسانی سے اپنا صارف بنایا جاسکے۔ اس ضمن میں سمجھ بوجھ کے ساتھ عوام کی انا اور خودداری پر حملے کرتے ہیں لیکن فوری اور وقتی مفاد کی دھول میں عوام کو طویل مدتی سود وزیاں نظر آتا۔عام عوام کا فائدہ صرف اس طریق کاروبار میں ہے جو ضرورت کی قضاوت کو ضرورت پوری کرے حاصل ہولیکن منافع یا پھر اس سے بھی بڑھ کر بچت کا جو تصور ہے وہ بنیادی سطح پر ہی سرمایہ داری کی بنیاد ڈالتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اب روایتی اوزار، پکوان، لباس، تعمیراتی ضروریات حتی ٰ کہ آب ودانہ بھی مفقوط ہوتا جارہا ہے اور ان کی جگہ بنکوں میں پیسے، گھر کے سٹور کی جگہ جنرل سٹور، مقامی اوزاروں کی جگہ درآمدشدہ اوزار، اصطبل کی جگہ گیراج اور مقامی پکوانوں کی جگہ فاسٹ فوڈ نے لی ہے۔ فی زمانہ اگر کوئی مقامی پکوانوں پر منحصر ہے تو وہ یاکوئی نادار ہے یا پھر شدید بیمار۔ ان تمام تر ترجیحات اور تبدیلیوں کا شافی پیسہ پیر ہے جو سرمایہ داروں کا غلام ہے۔

ایسے میں تعلیم، طب وجراحت، ہنر و توفیقات بھی کاروبار میں تبدیل ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ اور تو اور آج کل کے دور میں آٹا، پرانے کپڑے اورایک دو انڈوں پر اکتفا کرنے والے بھکاری بھی کہیں نظرنہیں آتے۔ ان کے پاس بھی نوٹ کی صحت کے مطابق دعائیں موجود ہوتی ہیں۔ دوسری طرف مددو معاونت کا تصور بھی انتہائی حوصلہ افزاء ، سماج دوستانہ اور موجب اتحاد ہنرمندانہ اور ذاتی مدد سے چندہ، عطیات و خیرات میں بدل چکی ہے جس سے سماجی خدمت بھی ایک نفع بخش مگر غیر سماجی فعالیت سے غیر مربوط سرگرمی بن چکی ہے۔ ہنوز اگر یہ سماجی یک جہتی کا یہ جذبہ قدرے گہرا کہیں نظر آتا ہے تو وہ کسی مذہبی عمارت کی تعمیر سے متعلقہ کاموں میں نظر آتا ہے مگر وہ بھی قصبوں سے دور دیہاتوں تک وگرنہ دائیں ہاتھ سے دے کر بائیں ہاتھ کو خبر ہونے سے بچنے کے لئے شہروں اور قصبوں میں براہ راست بنک اکاونٹ میں اپنی خدمات ڈیپازٹ کردیتے ہیں۔دوسری طرف جن زمینوں پر کسی زمانے میں اچھے خاصے کھاتے پیتے چار سے چھ افراد پر مشتمل خاندان جی سکتا تھا اب حال یہ ہے کہ ان زمینوں پر گھر کی مرغی بھی نہیں پلتی۔

ان زمینوں میں بھی پیسے کاشت کئے جاتے ہیں اور براہ راست سرمایہ داروں کے ہاتھوں یرغمال ہوجاتے ہیں ۔ دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام کی فعالیت اور سرپرستی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ہر طبقے کو اس نے اپنے زیر نگیں کردیا ہے۔ اگر نہیں تو صرف ان علاقوں میں نہیں جہاں سماجی انصاف اور برابری کا تصور دولت کے منصفانہ تقسیم کی بنیادوں پر قائم ہے۔ جس قربانی کی سماجی اتحاد کو ضرورت ہے وہ قربانی دولت کی یہی قربانی ہے جو کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری کرسکے نہ کہ کسی سرمایہ دار کی وہ دولت جو ہر جائزو ناجائز خواہش پوری ہونے کے بعد ان کی آنے والی نسلوں کی تن آسانیوں کی باعث بنے۔

تعلیم اس تیز رفتار معلوماتی ترسیل و حصول کے دور میں بھی اپنی روح سے اگر خالی ہے تو اس کی بھی بنیادی وجہ تعلیم برائے روزگار ہے ۔ اور جب اس پر سفارش، رشوت ستانی کا تڑکہ لگ جائے تو تعلیم بھی صرف اسناد کے حصول تک محدود ہوکر رہ جاتی ہے۔ جو کسی فرد کو محض کسی فائدہ مند روزگار کے لئے ایک قانونی جواز اور اخلاقی مدد فراہم کرسکے۔ اب ریاست اپنی ذمہ داری اپنی جگہ لیکن حب الوطنی کے تقاضوں کے مطابق ایک عام آدمی کو ریاست کی خدمت کرنے اور اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لئے ضروری یہی ہے کہ وہ اپنے تئیں علاقے کی ترقی اور افرادی قوت میں اضافے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔کہنے کو تو یہ بہت آسان لگتا ہے مگر ان تن آسانیوں کو چھوڑ کر واپس لوٹنے کے لئے رویوں میں تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ محض ایک انقلاب کے ذریعے ہی ممکن بنائی جاسکتی ہے ۔

یقیناًحب الوطنی کا تقاضا یہی ہے کہ یا تو انقلاب برپا کردے یا پھر ہرچیز کے لئے ریاست پر تکیہ کرنے کی بجائے اپنے آپ قدرتی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ کرے۔ وگرنہ پیدواری علاقوں میں درپیش کسی بھی غیر متوقع خدشے کے پیش نظر کوئی ریاستی مجبوری ہماری استحصال کا باعث بن سکتی ہے۔پھر ہمارے پاس واپس لوٹنے کے سارے راستے بند ہوچکے ہوں گے۔ مقامی پیداوار ہی دراصل قومی پیداوار کی شہہ رگ ہے اور گلگت بلتستان کے عوام کو اپنے ہاتھ سے نکلتی اس روزی کو سنبھالنا ہوگا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔