عالمی یوم اطفال اور ہماری بے حسی

عالمی یوم اطفال اور ہماری بے حسی

21 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

اتوار کی صبح تھی پورے علاقے میں یخ بستہ ہوائیں چل رہی تھیں اور بلند وبالا پہاڑی چوٹیوں نے سفید چادر اوڑھ لی تھی اور میدانی علاقوں میں گرمیوں اور بہار کےموسم میں گلگت بلتستان کے علاوہ دیگر شہروں سے آنے والے سیاحوں کو سرسبزو شادبی کے عالم میں اپنے سروں کو جھکا کر تعظیم کرتے ہوئےخوش آمدید کہنے والے دورختوں کے پتے اب زرد ہوچکے تھے ہر طرف ہریالی کے بجائے ریت نما لگ رہے تھے ۔شہروں اور دیھاتوں کے ہر گھروں کے چھتوں سے اٹھنے والی دھووں سے ایسا لگ رہا تھا کہ کہ پورے شہر کو بادلوں نے گھیر لیا ہے لیکن حقیقی معنوں میں اگر دیکھا جائے تو یہ بادل نما جو نظر آرہے تھے بادل نہیں البتہ لوگوں کے گھروں میں سردی سے بچنے کیلے استعمال کی جانے والی (بخاری) انگیٹھی کے چمنی(نلکے)سے اٹھنے والی دھواں تھی جس نےپورے شہر کو گرد آلود کر نے کے ساتھ حلیہ ہی بگاڑ رکھا تھا ایسے میں تمام تر مردوزں اپنے گھروں میں بیٹھے ہاتھوں میں نمکیں چائے سامنے ازوق رکھر کر دیسی ساختہ بخاری میں خوب لکڑی استعمال کرتے ہوئے انگیٹھی کی تپش سے خوب انجوائے کرنے کے علاوہ اس ٹھنڈ موسم میں کہاں باہر نکلتے اور سرد ہواؤں کو کہاں اپنے لال لال گالوں کو چھونے دیتا اسطرح کے موسم میں تو ہر کوئی مختلف سمتوں سے چلنے والی ہواؤں سے بچ بچا کر وقت گزارتےاور جہاں کہیں بھی گرمائش کی کے اثرات نظر آتے فورًا اس طرد روخ کرلیتے لیکن تعجب اور حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ااس سخت سرد تریں موسم میں جہاں انسانوں کے رگوں میں دوڑنے والی خوں بھی کبھی کبار منجمد ہوجاتے ہیں وہاں دل کو سھلا سینے سالی واقعات اور حالات بھی دیکھنے کوملتا ہے جسے دیکھ کر خدا کی قدرت اور انکے کرشمے پر رشک آجاتے ہیں اور اسطرح کی واقعات یقینًا کسی معجزہ یا کرامات سے کم نہیں ہے۔دیکھا جائےبتو قدرت نے ہر کسی کو برابر خلق کیا ہے لیکن اس معاشرے میں پرورش کے بعد ہی ہم ایک دوسرے کو مختلف سانچوں میں ڈال دیتے ہیں اور زات پات، قومیت، اور دیگر عہدوں کے لحاظ سے جاننے اور پرکھنے لگتے ہیں اشرافیہ، غریب، اور متوسط میں تقسیم کرنا اس انسانی معاشرہ کا نظام ہے حالانکہ جس مذہب کے ہم پیروکار ہے اس میں اس طرح کے طبقاتی نظام اور تفریق کا کوئی تصورنہیں یہ سب بنی نوع انسان کی بنائی ہوئی نظام اور ان کے سوچ ہےیہاں امیروں کے کتے بھی اگر بیمار ہوجائے تو ان کے علاج و معلجہ کیلے نہ صرف لاکھوں خرچ کرتے ہیں بلکہ انکے علاج کیلے دنیاء کے بڑے سے بڑے ڈاکٹر کا سہارا لیتے ہیں لیکن متوسط اور غریب طبقے کے اگر کوئی فرد بیمار ہوجائے یا اس سار فانی سے کوچ کر جائے تو کوئی پوچھنے والا نہیں انہیں ۔بلکل اسی طرح اس ٹھٹھرٹی موسم میں بھی امیر اور اشافیہ طبقے نہ صرف گھروں میں بیٹھ کر حکمرانی چلاتے ہیں بلکہ انکو یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ بار کی دنیاء میں سردی ہے یا گرمی وہ جب گھر سے نکلتا ہے تو گاڑی اور اسگاڑی میں بھی گرمائش کی نظام وفتر میں وہی حال جہاں جائیں ہر قسم کے آرائش انہی کے لیے وقف ہے لیکن معاشرے کے متوسط اور غریب طبقہ ان سب چیزوں سے خالی ہے اور ان کو اس طرح کی سہولیات سے کوئی سروکار بھی نہیں اوربنہ نہی ان میں لالچاور حرس پائے جاتے ہیں وہ اس بات پر عمل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ “آج کھائے کل پھر خدا “یہی ان کے اعمال بڑھانے اور انکو تمام تر مشکلات سے بچانے کا واحد حل دِکھائی دیتا ہے نہیں تو سردی ہو یا گرمی کام ان کا مقدر ہے اور جب تک کام نہ کریں انہیں ایک موالہ بھی نصیب نہیں ہوتا ۔گلگت بلتستان کی اس شدید تریں سردی میں جہاں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بھی کم ہو وہاں کام اور محنت مزدوری کرنا ہر کسی کی بس کی بات نہیں ایسے میں اگر مختلف جہگوں پر کام وہ بھی سخت تریں کرتے اگر کوئی بچہ آپ کو نظ آئے تو دل نہ دھلائے تو اور کیا ہوگا۔گلگت بلتستان کے متعدد پھول جیسے بچے مختلف ہوٹلوں، گھروں اور  ورکشابوں میں قلیل اجرت پر کام کر ہے ہیں لیکں ان جگہوں پر کرنے والے بچوں کی صحت اور دیگر مسائل کے حوالے سے مالکاں توجہ دیتے ہیں اورنہ ہی انکے گریلو مسائل کو سجھ سکتے ہیں انہیں صرف اور صرف اپنے کام اور اپنی کاروبار چمکانے سے غرض ہے۔اکثرو بیشتر ہمیں دیکھنے کوملتا ہے کہ وطں عزیز پاکستامیں غریب گھرانے کے بچے جن کے گھروں میں کام کرتے ہیں ان کے ساتھ گھر کے مالک کسطرح پیش آتے ہیں انہیں زدوکوب کرنے کے ساتھ انہیں الگ کمروں میں بند کرلیتے ہیں حالانکہ یہ ملک اسلامی بنادوں پر وجود میں آیا اور اسلام اسطرحبکے کاموں سے ہیمں سختی سے منع کرتے ہیں پھر بھی ہم اندھا اور بھرا بں کر انکے سات زیادتیاں کر ڈالتے ہیں ۔لیکن کوئی پر ساں حال نہیں ہوتا ہر سال دنیاء بھر میں بیس نومبر یعنی آج کے دن بچوں کا عالمی دن مناتے ہیں اور اس دن کی مناسبت سے بڑے بڑے پروگرامز اور تقاریب منعقد کرتے ہیں ۔پرنٹ اور الیٹرانک چینلز میں اس دن کے حوالے سے شعور وآگاہی دینے کیلے ایکسپرٹ کے پائنٹ آف ویو جانتے ہیں اور یہاں تک ہمارے حکمراں جو ایوانوں میں بیٹھے ہوتے ہیں بلندو بانگ ودعوئے اور تقاریر کرتے ہیں بچوں کے حقوق کے حوالے سے قانونی شقوں کو پیش کرتے ہیں اور بچوں کو ان کے حق دلانے کے دعوئے کرتے ہیں لیکن اس دن کے گزرجانے کے بعد سب بھول بٹھتے ہیں اور ایسا لگتا ہے جیسے کچھ کہا ہی نہیں ایسے میں اسطرح کے اطفال اپنے حقوق کی پاسداری کا یقیں کیسے کریں ۔گزشتہ دن یعنی انیس نومبر کو صبح کے تقریباً آٹھ بجے ایک نوعمر بچہ سے ملاقات ہوئی جو اپنے نازک ہاتھوں میں لوہے کی ایک لیور اٹھا ئے حیراں حالت میں بیٹھا ہوا تھا کئی دقیق اس کیطرف توجہ کے بعد قریب میں جاکر استفسار کیا کہ آپ صبح صبح اس سردی میں یہاں کیوں بیٹھا ہوا ہے تو معصومانہ انداز میں کہنے لگا میں نے کام پر جانا تھا مگر سردی کی وجہ سے کچھ لمحے یہاں ٹہراہوں اور اس لیور کی وجہ سے میری ہاتھوں کو سخت ٹھنڈ لگ رہی ہے اور میں اس ٹھنڈ کو ختم کرنے کیلے اپنی ہاتھوں کو منہ کے قریب رکھ کر گرم کرنے کی کوشش کر رہا ہوں تاکہ ایسے اٹھا سکوں کہا جاتا ہے کہ بچے مں کے سچے ہوتے ہیں اسی لیے اس نے صاف صاف روداد بیاں کی کام کرنے ہر تنخواہ کے حوالے سے دریافت کی تو کہنے لگا تنخواہ نہیں ہے یہ سن کر حیرت ہوئی اور مزید بات نکالنےکیلے سوالیہ انداز میں اسکی طرف دیکھا تو کہنے لگا ابھی کام سیکھ رہا ہوں استاد کے پاس تو استاد کہتا ہے جب تک کام نہیں سیکھے گا تنخواہ نہیں ملے گی اور صرف کھانا استاد دیتے ہیں اور کچھ نہیں دیتا اس بچے سے مکمل معلومات حاصل کی یہاں ان کا کہنا تھااگر بیمار ہوجائے تو انکے علاج کرنے کے بجائے چھٹی دیکر گھر بھیج دیتے ہیں اور کاں پکڑ کر ہدایت دی جاتی ہے کہ جوں ہی ٹھیک ہوجائے واپس کام پر آنا اسی دوراں انکی کچھ باتیں سنے کی ہمت تو نہیں تھی البتہ دل پر پتھر رکھ کرسنے پر مجبور ہوا کہتے ہیں آپکو پتہ ہے کہ آج اتوار ہے اور تمام کام کرنے والے اور میرے برابر کے لڑکے جو سکولوں کو جاتے ہیں ابھی تک یا تو اکثر سورہے ہوں گے یا اٹھکر گھروں میں ناشتہ کر رہے ہوں گے  مگر بدقسمتی سے ہمیں نہ اتوار نصیب ہے اور نہ ہی دیگر چٹھیاں ہمیں تو استاد یہی بتاتے ہیں کہ ہم نے نہ چھٹی کرنی ہے اور نہ اور کچھ کام ہی ہمارا مقدر ہے بس استاد کے باتوں پر عمل کرتے ہوئے وقت گزارلیتے ہیں نہیں تو ہم بھی بابو بننا چاہتے ھتے لیکن ہم غریب ہے اور ہمارے پاس کاپی، قلم اور فیس دینے کے پیسے نہیں مگر ہاں میں بڑاکر اپنی چھوٹے بہں بھائیوں کو بابو ضرور بناؤں گا اس بچے کا حوصلہ اور ہمت کو سلام پیش کرتے ہوئے راہ لی اور راستےبھر میں سوچتا رہا کہ اس طرح کے کتنے بچے اور ہوں گے جو جزبہ رکھتا ہے پڑھنے کی اور لکھنےلیکں انکو وہ سہولیات میسر نہیں عیں اسیندن کے دوسرے یعنی جسکا زکر ہم نے پہلے بھی کیا بیس نومبر کو جس طریقے سے شدّمد کے ساتھ ہم عالمی یوم اطفال مناتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں بچوں کے حقوق کی تحفظ اور انہیں زندگی کی وہ سہولیات فراہم کرنے کی جسکا انہیں اسلام اور ملکی قانوں نے وضع کیا ہے مگر وقت گزرنےکےبعد یہ سب باتیں بھول جاتے ہیں اور مختلف جہگوں پر استاد بنےکے بعد تنخواہ لینے کے امیدوںبپر ہزاروں نوعمر بچے جن کی عمر ہنسے اور ہنسانے کے ہو اپنی لبوں ہنسی اور اپنے بہن بھایئوں کو بابو بنانے کے خواب سجائے لمحوں کو بتادیتےہیں اور ان کے دلوں میں یہ آسرا ضرور ہوتےہیں کہ کسی نہ کسی دن ہم بھی معاشرے کے دوسرے افراد کی طرح وقت گزاردیں کیونکہ یہ وقت بھی گزر جائیگا اس پر انہیں یقیںںِ کامل ہیں۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔