انٹر نیٹ کا استعمال سوچ سمجھ کے 

تحریر۔فیروز خان

بلا اخر ایس سی او نے گلگت بلتستان کے بیشتر علاقوں میں 3G,4G انٹر نیٹ سروس کا اغاز کر دیا ۔انٹر نیٹ دور جدید کی اہم ضرورت بن گیا ہے اور انٹر نیٹ کی افادیت سے جہاں دنیا کا کوئی بھی شخص انکار نہیں کر سکتا وہاں اس کے غلط استعمال سے کئی معاشرے تباہی کے دھانے پر پہنچ گئے ہیں ۔اب جب گلگت بلتستان میں انٹر نیٹ سروس ہر ایک کی دسترس میں آہی گیا ہے توایسے میں ہمیں چاہئے کہ ہم اس کو مثبت سرگرمیوں کے لئے استعمال کر کے اس سے فائدہ اٹھائیں۔جیسے میں نے شروع میں کہا کہ انٹر نیٹ موجودہ دور کا اہم ضرورت بن گیا ہے نہ صرف ضرورت بن گیا ہے بلکہ اس ایجاد نے انسانی زندگیوں میں بے شمار آسانیاں بھی پیدا کی ہیں۔انٹر نیٹ کا مطلب لوگوں کو سہولت فراہم کرنا ہے اب اس سہولت کا استعمال کس طرح کیا جاتا ہے یہ استعمال کرنے والے پر منحصر ہے ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ہزاروں میل دور بیٹھا ہماراکوئی عزیز یا دوست اسی انٹرنیٹ کی بدولت آج ہم اور آپ سے ایسے رابطے میں رہے گاجیسے وہ ہمارے سامنے بیٹھا ہو ۔یہ اللہ کا کرم ہے اور سائنسدانوں کی مہربانی ہے جنہوں نے یہ عظیم کارنامہ انجام دے کر ہماری تمام مشکلات دور کر دی ۔یہ پڑھنے میں شائد مضحکہ خیز لگے مگر سچ یہی ہے کہ انٹر نیٹ آج کے دور کا سب سے بڑا تخلیقی ادارہ بن چکا ہے اس پرہزاروں لائبریریوں سے زیادہ مواد موجود ہے چاہے ہم تاریخ پڑھیں یا سائنس یہ ہمیں کسی بھی سلسلے میں سب سے زیادہ مواد فراہم کر سکتا ہے ۔ موجودہ حالات میں اگر انٹر نیٹ کو مثبت انداز میں استعمال کریں تو یہ ہماری زندگیوں میں بڑی تبدیلیاں لا سکتا ہے لیکن ہمارے لئے افسوس کا مقام ہے کہ ان عظیم لوگوں نے جس عظیم مقصد کے لئے کمپیوٹر ،موبائل اور انٹر نیٹ ایجاد کیا آج کی نسل ان ایجادات کو اس کے برعکس استعمال کر رہی ہے جو کہ انتہائی تشویش ناک امر ہے ایک اندازے کے مطابق دنیا کے97 فیصد افراد انٹر نیٹ سے آشنا ہیں اس ٹیکنالوجی کو آئے روز جدید سے جدید تر بنایا جا رہا ہے لیکن ابتدا ء سے اج تک اس کے استعمال کرنے والے اس کو اس مقصد کے لئے استعمال نہیں کر رہے جس مقصد کے لئے اس کو ایجاد کیا گیا تھا۔دیکھا جائے تو انٹر نیٹ کے مثبت استعمال کرنے والے لوگوں کی تعداد ان سے کم ہو گی جو انٹرنیٹ کو منفی سرگرمیوں کے لئے استعمال کرتے ہیں اور عام طور پر معاشرے میں انٹر نیٹ کا زیادہ تر استعمال منفی رویوں اور غیر سماجی سرگرمیوں کاباعث بن رہا ہے انٹر نیٹ پر بعض شرپسند عناصر اکثر و بیشترمذہبی اختلافات کو ہوا دینے ،معاشرے میں انتشار پھیلانے کے ساتھ ساتھ ذاتی اختلافات کوپروان چڑھانے کی کوشش کرتے ہیں جس سے معاشرہ بدنظمی اور ہنگامی صورتحال کا شکار ہو جاتا ہے جبکہ بعض اوقات ایسی غلط معلومات فراہم کی جاتی ہیں جس سے بے شمار مسائل اور غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔اگرچہ گلگت بلتستان میں انٹرنیٹ کے ا ستعمال کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا تو اس لئے اس کے منفی اثرات ابھی کسی حد تک نظر نہیں آرہے لیکن جیسے جیسے اس کے استعمال میں اضافہ ہوتا جائے گا اس کے منفی اور مثبت پہلو سامنے آتے رہیں گے لہذا ہمیں معاشرے کا ایک ذمہ دار شہری ہوتے ہوئے اس کے مضر اثرات پر توجہ دینی ہوگی اور اپنی بساط کے مطابق اسکے استعمال کرنے والوں کو اس کے نقصانات سے بھی آگاہ کرنا ہوگا کیونکہ انٹر نیٹ کی اس وسیع دنیا میں ہمارے معاشرے اور اخلاقی روایات کے برعکس بیشمار مواد موجود ہوتا ہے جو کسی بھی طرح ہماری نوجوان نسل اور ہمارے بچوں کو بے راہ روی کا شکار کر سکتا ہے لہذا یہ ہماری اولین ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کو ایک مفید شہری بنانے کے لئے انٹر نیٹ پر ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments