سی پیک ،ٹیکس ،کچھ حقائق اور چندسوالات

سی پیک ،ٹیکس ،کچھ حقائق اور چندسوالات

17 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

رشید ارشد

ایک ایسا معاشرہ ،جہاں بکھری سوچوں کا ہجوم ہو ،جہاں اہل علم لوگ بھی علم کا اظہار کرتے ہوئے خوف کا شکار ہوں ،جہاں قوم کے مستقبل کیلئے سوچنے والے رہنما پر تنقید کے نشتر اور قوم کو اپنے مفاد کیلئے استعمال کرنے والے سیاستدان کی حوصلہ افزائی ہو، جہاں منفیت اور عدم اعتمادی کا دور دورہ ہو، نقاد اور حوصلہ شکن لوگ قابل احترام ہوں، اور سوشل میڈیا پر جذباتی بیانات اور من گھڑت کہانیاں گردش کر رہی ہوں، ایسے میں قومی مسائل پر بات کر کے سچ کا اظہار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر طرف سے لعن طعن سننے کیلئے کمر کس لی جائے لیکن ایک لکھاری کو اس سے واسطہ نہیں کہ لوگ کیا کہتے ہیں بلکہ وہ سوچتا ہے کہ تاریخ کیا کہے گی ،حقیقی لکھاری وہ سچ لکھتا ہے جو زمانے کو قبول نہ ہو لیکن مورخ اسی تحریر کو اپنے دامن قرطاس میں جگہ دیتا ہے ۔سو میں بھی یہی سوچ رہا ہوں کہ کسی کو قبول ہو نہ ہو وہی سچ لکھنا چاہئے جو زمانے کی گردشوں کا محتاج نہ ہو اور بھرملا سچ ہو ۔

سچ یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں کچھ سیاسیدان صرف موجودہ حکومت کی مخالفت دلائل اور عوامی مسائل پر نہیں بلکہ اپنے مفادات کے لئے کر رہے ہیں ،اتنی مخالفت کسی بھی سیاستدان کیلئے ہمارے معاشرے میں جائز تصور ہوتی ہے کہ جس سے قومی مفاد کو زک نہ پہنچے لیکن اتنی مخالفت قوم کی تباہی کا ساماں ہے جس سے نسلوں کے مستقبل کا تاریک ہونے کا اندیشہ ہو ۔اب پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو ہی لے لیں ہمارے بہت سے سیاستدان روزیہ کہتے نظر آتے ہیں کہ سی پیک میں گلگت بلتستان کی ن لیگ حکومت نے قوم کا سودا کیا ہے ،سی پیک میں گلگت بلتستان کو کچھ نہیں مل رہا ہے ،کوئی ان سیاسی بونوں سے یہ سوال تو کرے کہ کیا آپ نے سی پیک کو سمجھا بھی ہے یا اسے کوئی خیرات سمجھا ہے کہ اس میں بغیر کچھ محنت کئے اور خرچ کئے حصہ ملے ؟۔اس لئے سب سے پہلے سی پیک کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سی پیک ہے کیا اور اس کے آنے سے بالواسطہ کیا فوائد ہوں گے اور بلا واسطہ کیا فوائد ملیں گے۔

جب سے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا اعلان ہوا ہے، عجب تماشہ شروع ہو گیا ہے۔ سب اپنے اپنے ذہن کے مطابق مطالبات و تشریحات میں مصروف ہیں۔پہلا مسئلہ ہی یہی ہے کہ ہر کوئی اسے ایک ایسی سڑک سمجھ رہا ہے، جو جہاں سے گزرے گی، خود بخود ترقی شروع کردے گی یہ سڑک زریعہ ہو گی ترقی کا۔ یہ بات لوگوں کو سمجھانے کی ہے کہ اگر یہ‘سڑک’اس کے صوبے، شہر، محلے اور گلی سے گزرے گی، تو اس خطے کی قسمت ہی بدل جائے گی، چنانچہ ہر کوئی اس سے اپنے علاقے کی ترقی کی امیدیں لگائے ہوئے ہے۔جہاں جہاں سے یہ سڑک گزرئے گی کھیت کھلیانوں کے ساتھ شہری آبادیاں خوشحالی اور ترقی کا ایک نیا دور دیکھیں گی۔سی پیک کے بعد خطے میں معاشی سرگرمیاں شروع ہوں گی تو اس کا فائدہ ہر فرد کی دہلیز تک کسی نہ کسی طریقے سے پہنچے گا ،سب سے اہم بات کہ سی پیک ایک بزنس پلان ہے اور اسی کو جو بزنس کی نظر سے دیکھ کر اپنا فائدہ تلاش کرنے کے طریقوں پر چلے گا اسی کا معاشی مستقبل ہوگا ،۔انہیں کچھ نہیں ملے جو اسے خیرات سمجھ کر اپنا حصہ مانگتے ہوں۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ملک کے چاروں صوبوں میں پرائیویٹ سکیٹر مضبوط ہے ،صنعتیں ہیں ،وہ تو سی پیک سے بزنس پلان کا حصہ بن کر معاشی فوائد سمیٹیں گے لیکن گلگت بلتستان میں صورتحال یکسر مختلف ہے ،چین کا بزنس میں ہو یا دنیا کے کسی اورملک کا اس کی سوچ ایک جیسی کہ وہ اپنا فائدہ سوچتا ہے اور اپنی صنعت وہاں لگاتا ہے جہاں اسے سہولیات ہوں ،خام مال موجود ہو ،مال کی فروخت کیلئے مارکیٹ موجود ہو ۔سی پیک کا بزنس پلان حکومت سے حکومت نہیں بلکہ بزنس مین سے بزنس میں ہے ،حکومتیں تو عوام کا فائدہ سامنے رکھتی ہیں اور بزنس میں سرمایہ کارصرف اپنا فائدہ دیکھتا ہے اس تناظر میں دیکھیں تو چین کا بزنس میں یا پاکستان کا بزنس مین گلگت بلتستان میں صنعت لگا کر بہت زیادہ محنت کرنے کے بجائے ملک کے دوسرے حصے جہاں خام مال کی رسد بھی آسان ہو اور مارکیٹ بھی بڑی ہو ویاں ترجیح دے گا.

اس بات سے یہ واضح ہو گیا کہ سی پیک کے بزنس پلان سے فائدہ اٹھانے کیلئے گلگت بلتستان میں وہ ماحول اور حالات پیدا کرنے ہوں گے کہ جس تاجر گلگت بلتستان میں سرمایہ کاری کریں ۔اب اس مشکل میں گلگت بلتستان کے وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمن نے یہ کوشش کی کہ گلگت بلتستان میں سپیشل اکنامک زون کے لئے آمادہ کیا جائے اور گلگت بلتستان میں منصوبے چین اور پاکستان کی حکومتوں کے تعاون سے مکمل ہوں اسی کوشش اور سوچ کا نتیجہ یہ ہے کہ مقپون داس میں سپیشل اکنامک زون کی اصولی منظوری ہو گئی ،گلگت چترال شاہراہ ،کے آئی یو اسی میگاواٹ پاور پراجیکٹ ،پھنڈر سو میگاواٹ ،رائے کورٹ تا تھاکوٹ شاہراہ قراقرم منظور ہو گئی ۔وزیر اعلی کی کوششوں سے گلگت بلتستان کو سی پیک کے فوائد سے مستفید کرنے کے لئے نوجوانوں کو فنی تربیت دینے کے لئے فنی ادروں کے قیام کے لئے آمادگی کی گئی جس کے تحت گلگت بلتستان میں فنی ادارے کھلیں گے جہاں نوجوان اپنے آپ کو اس قابل بنائیں گے کہ سی پیک سے فوائد سمیٹیں
۔

یہ ہے حقیقی قیادت کا ویثرن لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ کچھ لوگ عوام کو حقائق بتا کر مستقبل کے لئے تیار کرنے کے بجائے اپنے زاتی مفاد کیلئے گمراہ کن پروپگنڈہ کر کے نہ صرف قوم کے مستقبل کو تاریک کر رہے ہیں بلکہ غیر ارادی طور پر سی پیک منصوبے کے دشمنوں کے لئے آسانیاں پیدا کر رہے ہیں ۔حافظ حفیظ الرحمن جس محنت اور مستقبل کے چیلنجوں کو سامنے رکھ کر آگے بڑھ رہے ہیں اس سے ہمیں یقین کامل ہے کہ گلگت بلتستان کو سی پیک میں اہم حصہ دار بنانے اور قوم کے معاشی مستقبل کو روشن کریں گے۔
گلگت بلتستان کے لئے اعزاز یہ ہے کہ سب سے بروقت اور بہترین فزیبلٹی رپورٹ تیار کرنے پر گلگت بلتستان کو شاباش بھی دی گئی ،اب اگر بزنس کے اصولوں کے مطابق دیکھا جائے تو گلگت بلتستان میں کوئی منصوبہ نہیں لگ سکتا تھا یہ۔ حافظ حفیظ الرحمن کی سوچ اور ویثرن ہی ہے کہ جنہوں نے انتھک محنت سے یہ منصوبے منظور کروائے ،گلگت بلتستان میں پاور منصوبوں سے بجلی گلگت بلتستان کی ضرورت سے زیادہ پیدا ہوگی اس بجلی کو محفوظ کر کے دوسرے علاقوں کو فراہم کر کے ریونیو کمانے کے لئے ریجنل گرڈ چاہئے اور ریجنل گرڈ کو نیشنل گرڈ سے منسلک کرنا ضروری ہے ۔وزیر اعلی کی کوششوں سے ریجنل گرڈ کی منظوری بھی ہو گئی اب گرڈ بننے کی صورت میں دیامر ڈیم ،بونجی ڈیم اور دیگر منصوبوں سے پندرہ ہزارمیگاواٹ بجلی پیدا ہوگی اور اتنی ہی مزید تھوڑی سی محنت سے اور پیدا ہو سکتی ہے لگ بھگ تیس ہزار میگاواٹ بجلی اگر گلگت بلتستان ملک کے دوسرے حصوں اور ملکوں کو فراہم کرے گا تو سوچیں کہ گلگت بلتستان معاشی ترقی کی کس منزل پر ہوگا ۔ان تمام نا ممکن حالات میں وزیر اعلی نے گلگت بلتستان کے لئے منصوبوں کی منظوری کروائی ہے تو اس پر پوری قوم کی طرف سے انہیں داد تحسین ملنے کی بجائے اگر م سیاسی یتیم اپنے مقاصد کیلئے تنقید کر کے قوم کو معاشی فوائد سے دور کرنا چاہتے ہیں تو ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ پہلے سی پیک کو سمجھیں اس کے بعدہمارا حصہ کہاں ہے کا نعرہ لگائیں ۔

پاک چین اقتصادی راہداری کی تعمیر سے ان ڈائریکٹ فوائد سے تو گلگت بلتستان کا ہر شہری مستفید ہوگا ،تجارتی قافلوں کے گزرنے سے حکومت کو ریونیوحاصل ہوگا ،تجارتی سرگرمیاں بڑھیں گی لیکن ڈائریکٹ فوائد کے لئے گلگت بلتستان میں ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا کہ سرمایہ دار اپنے سرماے کو محفوظ تصور کرتا ہو اسی سوچ کے تحت وزیر اعلی آگے بڑھ رہے ہیں ۔یہاں پر ایک اور بات کہ گلگت بلتستان میں حالیہ ٹیکس لگا ہے تو وہ صرف مالدار اور بزنس برادری پر لگا ہے یہ الگ بحث ہے کہ ٹیکس آئینی حقوق سے پہلے لگنا چاہئے یا بعد میں ،لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سی پیک میں ہونے والی سرگرمیوں میں اگر گلگت بلتستان میں ٹیکس نیٹ ورک نہ ہو تو گلگت بلتستان میں ہونے والی تجارتی سرگرمیوں کا گلگت بلتستان کو کیا فائدہ حاصل ہوگا ،یہ وہ سوال ہے جس پر غور کر کے وقت سے پہلے حل تلاش کرنا ہوگا ،صرف سی پیک میں حصہ کیا ملے گا کی گردان الاپنے سے کچھ نہیں ملے گا۔ اس کیلئے پہلے سے تیاری کرنی ہوگی،ٹیکس نیٹ ورک کے بغیر سی پیک کی تجارتی سرگرمیوں کا مجھے تو کوئی فائدہ اس لئے نظر نہیں آتا ہے کہ باہر کا سرمایہ کار آجائے تو اپنے لئے سرمایہ کمائے گا اور جائے گا گلگت بلتستان کے قومی خزانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔کیونکہ قومی خزانے کا تعلق دنیا میں کہیں بھی ٹیکس اصولی سے منسلک ہوتا ہے ،اب اگر گلگت بلتستان میں تجارتی سرگرمیوں پر ٹیکس کا نظام لاگو نہیں ہوگا تو کیا حکومت سرمایہ کاروں سے زبردستی بھتہ لے گی ؟اس سوال کا جواب کسی کے پاس ہو تو ضرور دے اور خاص کر ان قائدین کے پاس تو اس سوال کا جواب ہوگا جنہوں نے ٹیکس کے نام پر عوام کو سڑکوں پر لا جمع کیا ہے ۔دنیا میں کرپشن روکنے ،آمدن ماپنے ،اور قوم کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے ٹیکس نظام کے علاوہ بھی اگر کوئی نظام ہو تو مجھے ضرور بتایا جائے ،،کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں ٹیکس کے حق میں دلائل دے رہا ہوں یا حمایت کر رہا ہوں میں تو صرف سوال کر رہا ہوں اور جواب کا متلاشی ہوں ،جہاں کچھ سیاستدانوں نے محض حکومت وقت کے لئے مشکلات پیدا کرنے کیلئے بغیر سمجھے ٹیکس کا ایشیو چھڑا ہو اور عوام بھی ان کی ہاں میں ہاں ملا رہی ہو تو وہاں میں کیسے جر ات کر سکتا ہوں کہ ٹیکس کی حمایت کروں ۔۔لیکن سوال کرنا میرا حق ہے اور اس سوال کا جواب قوم کو دینا ان قائدین کا فرض بنتا ہے اگر جواب نہیں اور صرف سی پیک میں حصہ کیا ملے گا کی گردان اور آئینی حقوق دو ٹیکس لو کے جذباتی نعرے بلند کر کے اپنے اپنے مردہ سیاسی گھوڑوں میں عوام کو استعمال کر کے جان ڈالنی ہے تو وقتی طور پر سیاسی گھوڑے زندہ بھی ہوں اور کچھ دور تلک دوڑ بھی لگا رہے ہوں لیکن اس بغیر دلیل کے جذباتی نعروں سے قوم کا معاشی مستقبل تاریک تو ہو سکتا ہے لیکن روشنی کا کوئی ہالہ نظر نہیں آئے گا ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author