پُر تشدد انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے اداروں کا اشتراک ناگزیر

شمش پارس قریشی

پاکستان میں گزشتہ چند سالوں میں دہشت گردوں کے خلاف حکومت، فوج اور قانون نافذ کر نیوالے اداروں کی جانب سے اختیار کی گئی موثر حکمت عملی اور کاروائیوں کی وجہ سے اندرونی انتشار اوربد امنی و بے یقینی کی فضا بڑی حد تک ختم ہو گئی ہے تاہم دہشت گردی کی مکمل بیخ کنی کیلئے ضروری ہے کہ ایسے عوامل کا جائزہ لیا جائے جومملکت کے وجود کو دیمک کی طرح کھوکھلا کرنے کیلئے شدت پسند گروہوں کو کمک فراہم کرتے ہیں۔ ملک میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے نوجوان نسل، جو معاشرے کا حساس طبقہ گردانے جاتے ہیں،بے یقینی کا شکار ہیں اور ان نوجوانوں کو مختلف ملکی اور بین الاقوامی دہشت پسند گروہ پرتشدد کاروائیوں کے ذریعے ملک کا نظام تبدیل کرنے کی طرف راغب کر تے ہیں اور شوشل میڈیا سمیت ابلاغ عامہ کے دیگر ذرائع کا استعمال عمل میں لاکر نوجوانوں میں پروپیگنڈاا ور برین وا شنگ کی جدید تراکیب کے ذریعے انتہاپسندانہ نظریات اور رحجانات کی آبیاری کی جاتی ہے ، چنانچہ ملکی جامعات میں شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے واقعات اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ ہمارے دشمن ہی ہمارے بچوں کو اپنا سبق پڑھانے کی حکمت عملی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ان شدت پسند عناصر کے اختیار کئے گئے پر تشدد مذہبی بیانیہ کے توڑ کیلئے جوابی بیانیہ کی تشکیل کیلئے ریاستی سطح پرفوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

گلگت بلتستان بھی گزشتہ تین دہائیوں سے فرقہ وارانہ عفریت کے شکنجے میں بری طرح جکڑا ہوا تھا اور انتہا پسند عناصر نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے عوام کو باہم دست و گریباں رکھ کرتعمیر و ترقی کا پہیہ جام کر رکھا تھا اور عدم تحفظ و بے یقینی کی وجہ سے ارض شمال جنت مکانی کے بجائے اپنے مکینوں کیلئے حوادث کی آماجگاہ بن گیا تھا۔ گلگت بلتستان میں بھی انسداد دہشت گردی کیلئے مقامی حکومت سمیت سکیورٹی اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی محنت شاقہ اور سول سوسائٹی کے تعاون سے اب یہ جنت نظیر خطہ ایک بار پھر سے امن و آشتی کے نغموں سے گونج رہا ہے اور ایک حالیہ عالمی سروے کے مطابق جنوبی ایشیا کا سب سے پر امن خطہ قرار دیا گیا ہے۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری کا گیٹ وے ہونے کی وجہ سے بھی یہاں امن و امان کا پائیدرا قیام ناگزیر ہے اور اس سلسلے میں ملکی سیکیورٹی اداروں کے علاوہ گلگت بلتستان پولیس فورس کی کاوشوں کا ذکر نہ کرنا بددیانتی ہوگی جنہوں نے بہت کم عرصے میں گلگت بلتستان سے مسلکی منافرت کے خاتمے اورانتہاپسند عناصر کو لگام دینے کیلئے نیشنل ایکشن پلان کو اسکی اصل روح کے مطابق نافذ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا ہے، چنانچہ پچھلے دو سالوں میں ننگا پربت میں غیر ملکی سیاحوں پر حملوں میں ملوث افراد کے علاوہ درجنوں اشتہاری ملزمان کوقانونی تحویل میں لیکر جزا و سزا کے نظام کی تجدید کی گئی ہے اورگزشتہ تین سالوں میں لاکھوں ملکی و غیر ملکی سیاح بلا خوف و خطر گلگت بلتستان کا سفر کر کے خطے کی واحد صنعت سیاحت کو ایک بار پھر اپنے پاوں پر کھڑا کر چکے ہیں۔

گلگت بلتستان کا موجودہ انسپکٹر جنرل پولیس صابر احمد نہ صرف فرض شناس اور باصلاحیت پولیس آفیسر ہیں بلکہ انہوں نے بہت قلیل مدت میں پولیس فورس میں نئے ریفارمز متعارف کئے ہیں جس کی وجہ سے عوام میں پولیس کا اعتماد ایک بار ہھر بحال ہو گیا ہے۔ محکمہ پولیس کو تمام کالی بھیڑوں سے پاک کر نے کے علاوہ انہوں نے فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم پولیس فورس کو پروفیشنل اور ذمہ دار فورس کے سانچے میں ڈھال دیا ہے اورانکی شبانہ روز کوششوں کی بدولت اسلام آباد اور لاہور کے بعد گلگت تیسرا سیف سٹی قرار دیا گیا ہے جہاں اہم شاہراہوں کے علاوہ گلی کوچوں میں بھی جدید سیکیورٹی کیمرے نصب کر دئیے گئے ہیں اور سنٹرل پولیس آفس میں قائم کنٹرول سنٹر سے شہر بھر کی نگرانی کی جاتی ہیں، چنانچہ اس سال بھی رمضان المبارک، محرم اور عید میلاد النبی سمیت دیگر مذہبی جلوسوں اور تقریبات میں عوام کی ایک بڑی تعداد نے بین المسالکی ہم آہنگی کا ثبوت دیا اور کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آیا۔ پولیس فورس کو منظم کرنے اور ان میں پیشہ وارانہ اقدار کا فروغ دینے کے علاوہ انسپکٹر جنرل پولیس صابر احمد نے عوام کے ساتھ بھی اشتراک کا عمل پروان چڑھایا ہے اور حالیہ دنوں میں جب قراقرم انٹر نیشنل یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے طلبہ و طالبات نے” پر تشدد انتہاپسندی کے خاتمے اور امن کے فروغ کے فروغ کیلئے میڈیا کے کردار” کے موضوع پر قومی سیمینار کے انعقاد کیلئے ان سے اشتراک کی درخواست کی تو انہوں نے نہ صرف بھر پور تعاون کی یقین دہانی کروائی بلکہ عملی طور بروقت انتظامات کیلئے خود بھی پیش پیش رہے اور اس سیمینار میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا۔

پرتشدد انتہا پسندی کے خاتمے اور امن کے فروغ کیلئے میڈیا کا کردار کے عنوان سے منعقد کیا جانیوالا یہ سیمینار اس لحاظ سے بھی ایک مثبت اقدام قرار دیا جا سکتا ہے کہ پہلی بار گلگت بلتستان میں پولیس فورس، تعلیمی اداروں اور میڈیا کے سرکردہ افراد سمیت سول سوسائٹی کے ارکان نے انتہاپسندی کو ایک بڑا چیلنچ قرار دیتے ہوئے نوجوان نسل سمیت پوری قوم کو متبادل بیانیہ فراہم کرنے کی حکمت عملی وضع کرنے پر زور دیا۔ قراقرم یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ نے اس اہم سیمینار کیلئے قومی سطح کے دانشوروں اور ممتاز صحافیوں کو بھی دعوت دے رکھی تھی جنہوں نے طلباء کے ساتھ اپنے تجربات و احساسات کا تبادلہ خیال بھی کیا اور انتہاپسندانہ رحجانات کے خاتمے کو سماجی و سیاسی استحکام کیلئے ناگزیر قراردیا۔

سیمینار سے اپنے استقبالیہ خطاب میں رجسٹرار قراقرم انٹر نیشنل یونیورسٹی ڈاکٹر عبد الحمید لون نے انتہاپسندانہ رحجانات کے خاتمے کیلئے تمام اداروں کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیا۔

شعبہ ابلاغ عامہ کی چئیر پرپرسن رفعت عالم نے عوام کو انتہاپسندانہ روئیوں کے خلاف قمجتمع کر نے میں میڈیا کے کردار سے آگاہ کیا۔

سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے گلگت بلتستان کے ممتاز صحافی شبیر میر نے گلگت بلتستان میں امن کے قیام کیلئے مقامی میڈیا کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ مقامی صحافیوں نے شر پسند عناصر کی جانب سے واضح دھمکیوں کے باوجود ان کی سرگرمیوں کی کوریج سے انکار کیا اور پریس کلب کے صدر سمیت کافی صحافیوں پر حملے کے باوجود گلگت بلتستان میں امن کے قیام کیلئے انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور فرقہ وارانہ مواد کی نشر و اشاعت پر پابندی کیلئے ضابطہ اخلاق مرتب کیا۔

انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شبیر حسین نے اس موقع پر کہا کہ پر تشدد انتہاپسندی ملک کو درپیش ایک اہم چیلینج ہے جس کا بروقت ادراک کر کے اس کا سدباب کیا جا سکتا ہے اور اس مقصد کے حصول کیلئے مربوط پالیسی اور طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کراچی کی حالیہ بد امنی اور تحریک طالبان کی سرگرمیوں کو بھی انتہاپسندی کا شاخسانہ قرار دیا اور اس سرطان کا بروقت علاج ملکی بقا کیلئے لازم قرار دیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے دیگر ممالک کی حکمت عملیوں کا جائزہ لینا ہوگا اور جب تک مذہبی انتہاپسندی کا جوابی بیانیہ ترتیب نہیں دیا جاتا ، پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔

معروف صحافی اور براڈ کاسٹر سبوخ سید نے اس موقع پر سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں میں انتہاپسندی کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد دہشت گرد گروہوں کے نظریات اپنا رہی ہے جس کی ایک بڑی وجہ جوابی بیانیہ کی عدم موجودگی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ مہینوں میں جامعات کے طلباء کی دہشت گرد گروہوں کے آلہ کار بننے اور پرتشدد کاروائیوں میں شرکت سے اس امر کو تقویت ملتی ہے کہ ریاست نوجوان نسل کو درست سمت دینے میں ناکام ہو چکی ہے اور والدین کو بھی اپنے بچوں میں بڑھتی ہوئی انتہاپسند سوچ کا ادراک نہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے سے یہی شر پسند عناصر نوجوانوں کو اپنا ہمنوا بننانے کیلئے مختلف پروپیگنڈا سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں۔انہوں نے کراچی یونیورسٹی کے بعض طلباء کی انصار الشرعیہ جیسی پر تشدد تنظیموں میں شمولیت اور سانحہ صفورا میں جدید تعلیم یافتہ طلباء کی شرکت کوپر تشدد مذہبی بیانیہ کا نتیجہ قرار دیا۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز دانشور، اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن اور کالم نگار خورشید ندیم کا کہنا تھا کہ انتہاپسندانہ سوچ اور روئیے معاشرے کیلئے زہر قاتل ہیں اور پائیدار امن کے قیام کیلئے معاشرے کے تمام طبقات کوباہمی تعاون اور احترام کو فروغ دینا ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تنوع کسی بھی معاشرے کا حسن ہوتا ہے اور ہمیں ایک دوسرے کو اختلاف رائے کا حق دینا ہوگا لیکن سماجی ہم آہنگی کیلئے مشترکات کو اپناتے ہوئے تصفیہ طلب مسائل پر مکالمہ کی روایت ڈالنی ہوگی اور اعتدال کی راہ اختیار کرتے ہوئے پر تشدد افکار کی حوصلہ شکنی کر نی ہوگی۔

سیمینار کے مہمان خصوصی وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے اپنی حکومت کی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان قدرتی و معدنی وسائل سے مالا مال ہے اور ہمارا خطہ لسانی، نسلی اورمذہبی تنوع کا خوبصورت منظر پیش کرتا ہے۔ پچھلی چند دہائیوں میں جنوبی ایشیا سمیت خلیج میں آنیوالی تبدیلیوں کے اثرات یہاں تک پہنچے اور صدیوں سے امن و آشتی سے رہنے والے مختلف طبقات ایک دوسرے کے خو ن کے پیاسے ہو گئے تھے مگر اب حکومتی اقدامات اور عوامی تعاون کی وجہ سے ایک بار پھر امن و امان کی فضا قائم کی گئی ہے اور انتہا پسندانہ سوچ کے خاتمے کیلئے تمام معاشرے کے تمام طبقے متفق ہیں اور قومی ترقی کیلئے سب مل کر چلنے کیلئے پر عزم ہیں اور پاک چین اقتصادی راہداری سمیت سیاحتی سر گرمیوں کے فروغ سے گلگت بلتستان ترقی کی ایک نئی شاہراہ پر گامزن ہوگا

۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز صحافی مطیع اللہ جان نے اس امر پر زور دیا کہ انتہاپسندی کی بنیادی توجیہات تلاش کر کے ان کا تدارک ضروری ہے تاکہ ایک پر امن معاشرے کا قیام عمل میں لایا جا سکے۔

سیمینار کے میر محفل انسپکٹر جنرل گلگت بلتستان صابر احمد نے گلگت بلتستان میں پائیدار امن کیلئے پولیس فورس کے اقدامات کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ گلگت بلتستان پولیس کو جدید بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے پر عزم ہیں اور اس مقصد کے حصول کیلئے پولیس فورس کو تمام جدید وسائل سمیت تربیت بھی مہیا کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس فورس میں میرٹ کی پاسداری کیلئے جدید نظام قائم کیا گیا ہے چنانچہ اب تمام پولیس اہلکار اپنی پیشہ وارانہ استعداد بڑھانے اورذمہ داریوں پر کماحقہ پورا اترنے کیلئے تمام صلاحیتیں بروئے کار لارہے ہیں۔ انہوں نے اپنے پولیس ریفارمز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کیلئے خصوصی طور پر سپیشل پروٹیکشن یونٹ کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جس کے اہلکاروں کو جدید تربیت دی جائیگی جبکہ سیکیورٹی کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے ڈرونز کا استعمال بھی عمل میں لایا جائیگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس فورس کی پیشہ وارانہ استعداد بڑھانے کیلئے تمام شعبوں میں میرٹ کی بالادستی کو فروغ دیا جا رہا ہے جبکہ عوام سے اشتراک بڑھایا جا رہا ہے تا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے پر امن گلگت بلتستان کا خواب شرمندہ تعبیر کیا جا سکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پائیدار امن کیلئے تمام اداروں کا اشتراک ناگزیر ہے اور معاشرے سے انتہاپسندی کا خاتمہ باہمی تعاون اور احترام سے ہی ممکن ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزراء ڈاکٹر اقبال اور اقبال حسن نے بھی پولیس اور یونیورسٹی کے تعاون سے انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کے اجتماع کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے باہمی مشاورت سے مربوط پالیسی اپنانے پر زور دیا۔

وائس چانسلر قراقرم انٹر نیشنل یونیورسٹی ڈاکٹر خلیل احمد نے اپنے اختتامی کلمات میں پولیس کے تعاون سے قومی سیمینار کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ایسے مثبت سرگرمیوں کا تسلسل ضروری قرار دیا اور تمام حکومتی اور تعلیمی اداروں کو انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے باہمی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments