چلاس: بجلی کی طویل اعصاب شکن لوڈشیڈنگ اور غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف عوام سڑکوں پر آگئے

چلاس(مجیب الرحمان) بجلی کی طویل اعصاب شکن لوڈشیڈنگ اور غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف عوام سڑکوں پر آگئے۔ٹائر نذر آتش کر کے شہر کی مصروف ترین شاہراہوں کو بلاک کر دی۔ حکومت اور محکمہ برقیات کے خلاف شدید نعرے بازی 20دسمبر کو محکمہ برقیات کے دفاتر کا گھیراؤ اور دھرنے کا اعلان کر دیا گیا۔

دیامر یوتھ موومنٹ کی کال پر چلاس شہر میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے راہنماؤں شاہ ناصر،شبیر قریشی،سیف اللہ،حاجی مبین شاہ، نور محمد قریشی،طاہر ایڈوکیٹ،محمد اجمل قریشی، سید رحمت شاہ،عابد حسین چلاسی و دیگر نے کہا کہ دیامر میں بجلی پیدا کرنے کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔سب سے سستی بجلی یہاں پیدا ہو سکتی ہے۔یہاں سے بجلی پیدا کر کے سنٹرل ایشیاء کو بھجوائی جا سکتی ہے ۔مگر نا اہل حکمرانوں کی وجہ سے آج عوام بجلی کی نعمت سے محروم ہیں۔چھوٹے سے شہر کے لئے بجلی فراہم نہ کرنا شرم کا مقام ہے۔اوربجلی کے منصوبوں پر کام نہیں ہو رہا ہے۔محکمے کی ملی بھگت سے ٹھیکیداروں کو ایڈوانس ادائیگی کی گئی ہے۔اور کئی سالوں سے ان منصوبوں پر کوئی کام نہیں ہو رہا ہے۔محکمے کے ملازمین ٹھیکیدار بنے پھر رہے ہیں۔اور مشینوں کی مرمت کے نام پر ماہانہ لاکھوں روپے بٹور رہے ہیں۔بجلی پیدا کرنے والے ٹربائنوں سے پرزے خرابی کے نام پر نکال کر چھپائے جاتے ہیں اور خرابی کے نام پر اس کی رقم نکال کر دوبارہ پھر وہی پرزے لگائے جا رہے ہیں۔محکمے کے ادنیٰ ملازمین کروڑ پتی بنے ہیں ۔ان ملازمین کے اثاثوں کی چھان بین کی جائے۔اور پتا لگایا جائے کہ ان کی آمدن سے زائد اثاثے کیسے بنے ہیں۔مقررین نے مزید کہا کہ مشینوں کی مرمت کے نام پر پیسہ خرچ کرنے کے باوجود بھی ٹھیک نہیں ہو پا رہی ہیں۔سرکاری ملازمین ہیوی آلات استعمال کر رہے ہیں۔اور کنڈوں کے ذریعے بجلی چوری میں ملوث ہیں۔ان بجلی چوروں کے خلاف فوری طور پر کاروائی عمل میں لائی جائے۔مقررین کا مزید کہنا تھا کہ بجلی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے دیامر کی معیشت کا پہیہ رک گیا ہے۔لوگ بیروزگار ہو رہے ہیں،اور طلباء کی پڑھائی شدید متاثر ہو رہی ہے۔وزیر اعلیٰ گلگت میں بیٹھ کر بجلی لوڈشیڈنگ کے دعوے کر رہے ہیں۔جو عوام کی زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔

احتجاجی مظاہرین سے مسلم لیگ ن دیامر کے صدر حاجی عبدالوحید نے خطاب میں کہا کہ حکمرانوں کو جاگنا ہوگا۔وزیر اعلیٰ دیامر میں بجلی لوڈشیڈنگ پر توجہ دیں ۔بجلی لوڈشیڈنگ ہماری حکومت کی بدنامی کا سبب بن رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ برقیات تمام سرکاری آفیسران کے لئے الگ لائنوں کا خاتمہ کریں ۔اور سب کے لئے یکساں بجلی فراہمی کو یقینی بنائی جائے۔چونکہ بجلی کی ضرورت سب سے زیادہ غریب عوام کو ہے۔احتجاجی مظاہرے میں اتفاق رائے سے قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ پی ڈبلیو ڈی میں محکمہ تعمیرات کی طرح محکمہ برقیات میں بھی کام چور ٹھیکیداروں اور ایڈوانس ادائیگی کرنے والے ملازمین کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔بٹوگاہ پاور ہاؤس،کھنر،کھنبری پاور ہاؤس کی تعمیر کاکام فوری مکمل کیا جائے۔زیر تعمیر تھک پاور ہاؤس کی مشینری نصب کر کے فوری طور پر بجلی فراہمی یقینی بنائی جائے۔محکمہ برقیات کے تمام کلیریکل سٹاف کو دوسرے اضلاع میں تبادلہ کیا جائے،تاکہ کرپشن کم ہو۔سرکاری کالونیوں اور سرکاری آفیسران کے گھروں میں کنڈے لگا کر ہیوی آلات استعمال کئے جا رہے ہیں۔ان کے خلاف مؤثر کاروائی عمل میں لائی جائے۔محکمہ برقیات کے ملازمین نام نہاد ٹھیکیداروں کے نام پر ٹھیکے خود اپنے نام کرواتے ہیں۔ایسے عناصر کی چھان بین کر کے ان کے خلاف کاروائی کی جائے۔بیس دسمبر سے پہلے بجلی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ یقینی بنایاجائے۔اگر مطالبات پر عملدرآمد نہ ہوا اور احتجاج کو نظر انداز کیا گیا تو عوام محکمے کے سامنے دھرنا دیں گے۔اور یہ دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مطالبات پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔احتجاج کے باعث شہر میں کاروبار زندگی مکمل مفلوج رہا شہر کے تمام کاروباری مراکز بند رہے اور سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم رہی۔۔۔۔۔۔۔

آپ کی رائے

comments