چترال بھر میں میڈیکل اسٹور بند، مریضوں اور تیمارداروں کو سخت مشکلات کاسامنا 

چترال(بشیر حسین آزاد) ملاکنڈ ڈویژن کے مختلف علاقوں کی طرح چترال بھر میں بھی میڈیکل اسٹور بند رہے جس کی وجہ سے مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو سخت مشکلات کاسامنا کرنا پڑا ۔ چترال شہر میں واقع ڈی ایچ کیو ہسپتال میں داخل مریضو ں کے ساتھ آنے والوں نے ادویات کی کمی کی شکایت کی جبکہ ہسپتال کے ایک ذمہ دار کے مطابق ہسپتال کے اسٹور میں ادویات کی فی الحال کمی نہیں ہے جبکہ ہڑتال طویل ہونے کی صورت میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ ضلع بھر کے مختلف قصبات دروش، بونی، ایون، کوغذی، وریجون، شاگرام،مستوج، بریپ، اویر،تارشیشی کوہ ، ارندو، شوغور، کوشٹ ، ریشن اور دوسرے مقامات پر میڈیکل مکمل طور پربند رہے ۔ چترال شہر میں قائم میڈیکل اسٹوروں کے پچاس سے ذیادہ مالکان نے چترال پریس کلب کے سامنے دھرنا دئیے رکھا جوکہ نماز مغرب تک جاری رہا۔ میڈیکل اسٹوروں کی بندش کی وجہ سے ڈاکٹروں کی پرائیویٹ کلینک بھی متاثر نظر آئے جہاں آنے والے مریضوں کی تعدادبہت کم رہی جبکہ بعض کلینک بھی بند رہے جن کے ساتھ پرائیویٹ لیبارٹری بھی بند پائے گئے۔ پاکستان کیمسٹس اینڈ ڈرگسٹس ایسوسی ایشن کے صدر عمران حسین اور دوسرے سینئر رہنما فخر عالم ، نور احمد خان، محمد حسین اور دوسروں نے اس عزم کا اظہار کیاکہ چترال کی کیمسٹ برادری ملاکنڈڈویژن اور صوبے کی سطح پر ایسوسی ایشن کی کال پر لبیک کہتے ہوئے اس ہڑتال کو کامیاب بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ دریں اثناء ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر ڈاکٹر اسراراللہ نے بتایاکہ چترال شہر سے باہر واقع بونی، دروش اور گرم چشمہ کے ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ تمام رورل ہیلتھ سنٹروں اور بیسک ہیلتھ یونٹوں میں ہنگامی حالت کے تحت تمام ادویات مہیاکئے جارہے ہیں اور میڈیکل اسٹوروں کی بندش سے مریضوں کو ادویا ت کے حصول میں کسی تکلیف کا سامنا نہیں ہوا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ان ہسپتالوں میں ادویات کی اتنی بڑی اسٹاک موجود ہے کہ ہڑتال طول پکڑنے کی صورت میں ہم کئی مہینوں تک ادویات فراہم کرسکتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments