ڈائمنڈ جوبلی دربار اور جشنِ ولادت

تحریر:الواعظ نزار فرمان علی

“اے لوگو !یقیناً ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا کیا اور ہم نے تمہیں خاندان اور قبیلے کی صورت میں بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔یقیناًاللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ مکرم وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ہے۔القرآن”

آپ سب کو ڈائمنڈ جوبلی جشن امامت کے دربار اور دیدار اقدس کی اور پیارے امام کی اکیاسی ویں جشن ولادت باسعادت لاکھوں مرتبہ مبارکباد پیش کرتا ہوں۔حاضر امام نے ڈائمنڈ جوبلی کے تاریخی اور عہد ساز موقع پر پاکستان کی جماعتوں کو اپنی ملاقات اور دیدار سے فیض یاب کرنے کا فیصلہ فرمایا۔یہ بات انتہائی اہم ہے کہ امام کی پہلی مرتبہ 1960میں تشریف آوری سے لیکر حالیہ دربار کی سعادت تک آپ نے جی بی جماعتوں کو آٹھ مرتبہ دیدار مبارک سے نوازا ہے۔شُکْرَ للہ وَلْحَمدُللہ۔اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے انچاس اسماعیلی آئمہ میں تقریباََ چار اماموں کی رہبری کا دورانیہ ساٹھ سال یا اس سے زیادہ بنتا ہے ان میں آپ کی ذاتِ گرامی بھی شامل ہے۔جماعت امت اور انسانیت کی فلاح و ترقی کیلئے امام نے خصوصی طور پر ڈائمنڈ جوبلی کے اہم تھیمز وضح فرمائے ہیں۔ان بڑے پروگراموں میں ۱۔غربت کا خاتمہ ،۲۔ای سی ڈی،فلاور نرسری، ۳۔ بزرگوں کی دیکھ بال،۴۔مذہبی تعلیم کی گہری سمجھ جسکا عظیم مقصد دنیا میں اسلام کے پیغام امن، رواداری، فیاضی، علم دوستی اور علم پروری کے تصورات کو عام کرنا ہے،۵۔جماعت خانہ ڈیولیپمنٹ، جسمیں ایسے اسماعیلی سینٹرز کا قیام جو اسلامی فن تعمیر کا نمونہ اور مسلم ثقافتی ورثے کا آئینہ دار ہو جو ہماری شاندار مسلم تہذیب و روایات کی بہترین تفہیم اور اسکے پھیلانے کا ذریعہ بھی ہوں۔

قارئین کرام! امام کی زندگی ایک کھلی روشن کتاب کی مانند ہے آئیں ہم اسکے چند اوراق کا مشاہدہ کرتے ہیں۔حاضر امام آغا خان چہارم کی پیدائش سوئٹزر لینڈ کے مشہور شہر جینوا میں بروز اتوار28رمضان المبارک 1355ھ بمطابق13 دسمبر 1936ء میں ہوئی۔آپ کو بچپن ہی سے اپنے دادا جان کی سرپرستی اور خصوصی توجہ ملی ۔آپ نے روحانی منازل انہی کے زیر سایہ طے کئے۔ افریقہ میں عید الفطر کی نماز پڑھائی جس میں ہزاروں لوگوں نے آپ کی اقتدا میں نماز پڑھی اس وقت آپ کی عمر صرف سات سال تھی۔ آپ کی ابتدائی تعلیم لی روزی سکول سے جبکہ اعلیٰ تعلیم اپنے وقت کی مشہور یونیورسٹی ہارورڈ سے حاصل کی۔ آپ یونیورسٹی میں اسلامی تاریخ، معارف اسلامی اور سماجی علم کے مضامین اختیار کئے ۔ قلیل مدت میں مسلم اور کئی بین الاقوامی زبانوں پرعبور اور مشرقی و مغربی علوم پر دسترس حاصل کیا۔ زمانہ طالب علمی کے دوران متعدد عنوانات پر مقالات و ریسرچ پیپرز لکھے جن میں ہند و پاک میں مسلم دعوت، اسلامی تصوف، سید نا نا صر خسرو ؒ اور متحدہ ہندوستان کے سماجی،تعلیمی مذہبی و سیاسی مسائل اور دیگر موضوعات پر قلم اٹھایا۔ آپ نہ صرف اپنی تعلیمی زندگی میں نمایاں رہے بلکہ غیر نصابی سرگرمیوں مثلاً سپورٹس، سٹوڈنٹ ڈیولیمپنٹ، تقریری و تحریری مقابلوں میں ہمیشہ مثالی رہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مغربی دنیاکے تیزی سے بدلتے معاشرے میں روساء و امراء کے بچوں کے ساتھ رہتے ہوئے بھی آپ نے اپنے اسلاف کے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے سادہ واخلاقی زندگی بسر کی۔ زمانہ طالب علمی میں آپ کے پاس پہننے کے لئے دو سوٹ اور ایک جوڑا جوتا، نہ محافظ نہ ملازم اور نہ آپ کے پاس گاڑی تھی آپ اکثرپیدل یا پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے تھے۔آپ کی مشہور و معروف تصنیفWhere Hope Takes Rootsیعنی جہاں امیدیں بھر آتی ہیں جو آپ کے مقالوں، مضامین اور انٹرویوز کا مجموعہ ہے جس میں موجودہ دور میں ساری دنیا بالعموم اور مسلم دنیا بالخصوص کو درپیش معاشرتی ، سماجی ، ثقافتی و مذہبی اور معاشی و صنعتی ترقی سے متعلق مسائل و چیلنجزکی تشخیص و ان کا حل سے متعلق تجاویز و فارمولے دیئے ہیں۔جنگ و جدل اور تنازعات کے خاتمے کی بات ہو یا قیام امن و بھائی چارہ، غربت بیماری و افلاس کے خاتمے کا معاملہ ہویا علم پروری و آرٹ و آرکٹیکچرکے فروغ کی بات ، مغرب و مشرق کے درمیان خلیج کو کم کرنے ، اسلام کے متعلق مغرب میں پائے جانے والے غلط تاثرات و بے بنیاد الزامات کے خلاف ٹھوس علمی و عملی اقدامات انجام دینے ،واشنگٹن سے کریملن تک اور یورپی یونین سے لے کر عرب لیگ تک جبکہ تیسری دنیا کے متوسط اور کمزور طبقوں کی بلا تفریق رنگ و مذہب نا قابل فراموش خدمات ،ان تمام حوالوں سے متعدد ممالک و سلطنتوں ، بین الاقوامی تنظیموں ، شرق و غرب کی معروف یونیورسٹیوں اور معروف سماجی اداروں کی جانب سے ایوارڈز، ٹائٹلز ، اعزازی شہریت اور ڈگریاں دی گئیں۔

عزم و حوصلے اور علم و عمل پر مبنی متحرک زندگی کے دریچوں میں جھانکیں تو یہ عیاں ہوتا ہے کہ سیرت النبی ؐ کانفرنس کراچی کی صدارت ہو یا بین الاقوامی کانفرنس عمان کی نمائندگی ہو،، بین المذاہب ہم اہنگی کا مکالمہ ، میسا چوسٹس و براون یونیورسٹی میں بحیثیت مہمان خصوصی ہوں یا اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے زیر اہتمام جہالت، بھوک، بیماری اور خانہ جنگی کے خاتمے پر مذاکرہ یا دنیا کے کسی کونے میں قدرتی آفت یعنی سونامی، زلزلہ، قحط سے متاثرہ لوگوں کی امداد، افغانستان ہو یا تاسنٹرل ایشیا ، پاکستان ہو یا انڈیاو بنگلہ دیش، سوڈان، کانگو ہو یا تنزانیہ و موزمبیق وغیرہ الغرض ہرایک کے لئے بلا امتیاز اپنی مادی ، فنی اور علمی سہارا دینے میں پیش پیش رہتے ہیں ماشاء اللہ۔

عالمی سطح پر آباد اسماعیلی مریدوں اور اداروں کو ایک اخلاقی اور انتظامی ڈسپلن کا پابند رکھنے کیلئے با قاعدہ طور پر دستور شیعہ امامی اسماعیلی مسلمانان ترتیب دیا گیاجس پر حاضر امام کا دستخط اور مہر امامت ثبت ہے۔ اس بین الاقوامی آئین کے دیباچے کی پہلی شق کے مطابق “شیعہ امامی اسماعیلی مسلمان(کلمہ )شہادت لا الہ الااللہ محمد الرسول اللہ کا اقرار کرتے ہیں اس میں (عقیدہ) توحید نیز یہ کہ محمدؐ اللہ کے آخری رسول اور خاتم النبیّن ہونے کو تسلیم کرتے ہیں۔اسلام جیسا کہ قرآن پاک میں نازل ہوا ہے نبی نوع انسان کے لئے اللہ تعالیٰ کا اخری اور حتمی پیغام ہے اور یہ پیغام عالمگیر اور دائمی ہے۔ رسول پاک ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی جانب سے وحی الٰہی کے ذریعے روحانی اور دنیاوی معاملات کے متعلق ضوابط متعین فرمائے ہیں اس آئین کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں امام نے اپنے تمام پیروکاروں کو اسماعیلی طریقے ، امت مسلمہ ، ملک اورمسلمہ انسانی اقدار کی پاسداری کی سختی سے تلقین کی گئی ہے اور ان میں سے کسی ایک کی خلاف ورزی پر تادیبی کاروائی کا واضح حکم موجود ہے۔عالمی سطح پر آباد اسماعیلی مریدوں اور اداروں کو ایک اخلاقی اور انتظامی ڈسپلن کا پابند رکھنے کیلئے با قاعدہ طور پر دستور شیعہ امامی اسماعیلی مسلمانان ترتیب دیا گیاجس پر حاضر امام کا دستخط اور مہر امامت ثبت ہے۔ اس بین الاقوامی آئین کے دیباچے کی پہلی شق کے مطابق “شیعہ امامی اسماعیلی مسلمان(کلمہ )شہادت لا الہ الااللہ محمد الرسول اللہ کا اقرار کرتے ہیں اس میں (عقیدہ) توحید نیز یہ کہ محمدؐ اللہ کے آخری رسول اور خاتم النبیّن ہونے کو تسلیم کرتے ہیں۔اسلام جیسا کہ قرآن پاک میں نازل ہوا ہے نبی نوع انسان کے لئے اللہ تعالیٰ کا اخری اور حتمی پیغام ہے اور یہ پیغام عالمگیر اور دائمی ہے۔ رسول پاک ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی جانب سے وحی الٰہی کے ذریعے روحانی اور دنیاوی معاملات کے متعلق ضوابط متعین فرمائے ہیں اس آئین کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں امام نے اپنے تمام پیروکاروں کو اسماعیلی طریقے ، امت مسلمہ ، ملک اورمسلمہ انسانی اقدار کی پاسداری کی سختی سے تلقین کی گئی ہے اور ان میں سے کسی ایک کی خلاف ورزی پر تادیبی کاروائی کا واضح حکم موجود ہے۔
جیسا کہ آپ کوعلم ہے اسماعیلی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل پرتگال کی حکومت کی جانب سے اسماعیلی امامت کیلئے گلوبل سیٹ کے قیام کا اعلان ہے۔ معاہدے کی رو سے منصب امامت کیلئے ضروری سفارتی مراعات و اعزازات، مستثنیات اور سہولیات کے توثیق ہوگی۔ اس معاہدے میں اسماعیلی امامت کی آئینی حیثیت اور بین الاقوامی امور کی کام کرنے کی صلاحیت کو تسلیم کیا گیا ہے جس کے مطابق امامتی اداروں کو باضابطہ طور پر وہاں کے باشندوں کے معیار زندگی بہتربنانے اور علمی معاشرے کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ مولانا حاضر امام کی خواہش اور منشا کے مطابق تعلیم و تربیت،صحت،صنعت اور ثقافت و ماحولیات کے وسیع تر حوالوں سےAKDNاور اس سے منسلک جماعتی ادارے انسانیت کی فلاح و ترقی کیلئے اپنے بہتر ین، جامع اور مربوط پروگراموں اور انتظامات کے ساتھ ہمہ وقت مصروف عمل ہیں۔ تخت امامت پر جلواہ افروز ہونے سے آج تک دن رات تن من دھن سے اقوام عالم کو یکساں معیاری تعلیم فراہم کرنے، بہترین حفظان صحت کے مواقع، ہر ایک کیلئے معاشی مواقع پیدا کرنے ،سول سوسائٹی کا استحکام ،تکثیریت کو فروغ دینے، بہترین حکومت اور اچھی حکمرانی کے اصولوں کو پائیدار بنانے، ای سی ڈی تعلیم سے لیکر عمر رسیدہ بزرگوں کی دیکھ بھال تک ، معیار زندگی کی بہتری کیلئے خاص طور پر انتہائی غربت میں زندگی بسر کرنے والوں کیلئے معاشی ترقی کے ٹھوس ادارہ جاتی اقدامات ایک مسلمہ حقیقت ہیں۔ایک اندازے کے مطابق AKDNکے ادارے دنیا کے 35سے زائد ممالک میں موجود ہیں جن کا سالانہ غیر منافع بخش خرچ پانچ سو ملین امریکی ڈالر اور اس میں کام کرنے کی عملے کی تعدادتقریباََ70000ہے یہی وجہ ہے کہ جماعتی ادارے ہوں یا امامتی ادارے اپنی شفافیت ، معاشرے کے تمام طبقات تک رسائی، غیر جانبداری اور پائیداری کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔
ڈائمنڈ جوبلی دربار کا احوال مختصراََ جسارت کرتا ہوں۔الحمدللہ دیدارِ رہبر کے منتظر لاکھوں مومنین والمومنات نے9دسمبر2017کو اپر چترال اور لوئر چترال میں فیض ایقان و عرفان حاصل کیاجبکہ21ربیع الاول بمطابق 10دسمبر بوقت صبح یاسین طاؤس کے پنڈال میں امام رونق افروز ہوئے، اسی روز دوپہر 12بجے ہنزہ علی آباد کے دربار اقدس میں اپنے پیارے مرشد کی ملاقات اور دیدار مبارک کا فیض خاص نصیب ہوا۔سبحان اللہ۔ یک زمانہ باسعادت اولیاء بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا
امام کے دور ے کو سہل اور دوررس بنانے میں وفاقی وگلگت بلتستان حکومت اور اس کے تمام سٹیک ہولڈر ز کا پرخلوص تعاو ن قا بل تحسین ہے ۔گلگت بلتستان کے تمام مکا تب فکر کے علماء و عما ئد ین ،سول سو سائٹی اور عظیم شہریوں کے ما دی و اخلاقی ہر قسم کے تعاون کے شکر گزار ہیں اللہ تعا لی ٰ سب کو جزا ئے خیر عطا ء فر ما ئے۔آ مین ۔
آپ نے بابرکت دربار میں مریدوں کو جو فرامین فرمائے اس کے اہم نکات کا خلاصہ اس مطابق ہے “سخت محنت کریں ، دین و دنیا میں توازن رکھیں ، ہر حال میں خوش رہیں اور دوسروں کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کریں، اسلامی اخلاقیات کے مطابق زندگی بسر کریں۔ مل جل کر امن و آشتی کے ساتھ رہیں، علاقے کی تمام برادریوں کے ساتھ پر خلوص اور خوشگوار تعلقات کے پل قائم کریں اور ان کے ساتھ بے غرض تعاون جاری رکھیں۔ملک کے وفادار اور خدمت گاربنیں اور پاکستان کی سالمیت، ناموس اور ترقی کیلئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں۔ امام نے جماعت، امت ، مملکت خداداد اور پوری دنیا میں امن سکون ، خوشحالی اور مشکل آسان کیلئے خصوصی دعا و برکات فرمائیں۔آمین۔”اللہ رب العزت ملک و ملت کا حامی و ناصر ہو۔پاکستان زندہ باد۔آمین یا رب العالمین۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments