گانچھے مسلم لیگ ن کی نظروں سے اوجھل کیوں؟

محمد عرفان

ضلع گانچھے جسے عموماَ لوگ خپلو بھی کہتے ہیں گلگت بلتستان کے جنوب مشرق میں واقع ہے اور انسانی ترقی سے جُڑے ماہرین اسے صوبہ کا سب سے پسماندہ ضلع بھی قرار دیتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے شہری علاقوں اور بالخصوص شہر اقتدار گلگت سے دور ہونے کی وجہ سے یہ ضلع حکمرانوں کی نظروں سے اکثراوجھل رہتا ہے۔ اس ضلع کے نصیب میں آج تک نہ کوئی گورنری آئی اور نہ ہی وزیر اعلیٰ کی کرسی۔ یہاں کے سیاستدان بھی اپنی پارٹیوں میں اہم عہدوں تک رسائی اسی لئے نہیں پاتے کیونکہ جب تک اربابِ اختیار شہر گلگت یا سکردو سے جا چکے ہوتے ہیں تو انہیں خبر ملتی ہے کہ کوئی صاحبِ ثروت سلطنت گلگت بلتستان کا دورہ کر کے چا چکے ہیں۔

البتہ یہاں کے لوگ شعوری معاملہ میں کسی سے کم نہیں ہیں اور اپنی منفرد سوچ اور فکر رکھتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارتی جب وفاق میں بر سرِ اقتدار آئی تو پورے گلگت بلتستان نے یک مشت اپنے ووٹ پیپلز پارٹی کی چھولی میں ڈالا جسکے نتائج ہم آج بھی بھگت رہے ہیں البتہ ایسے وقت میں جب گلگت بلتستان سے مسلم لیگ ن کے بڑے بڑے بُرج اُلٹ گئے تو ضلع گانچھے کا حلقہ دو وہ واحد ضلع تھا جہاں سے مسلم لیگ ن کو پورے گلگت بلتستان میں ایک نشست حصہ میں آئی اور پورے الیکشن کو کلین سویپ ہونے سے بچایا۔ اور جب مرحوم مفتی عبدااللہ صاحب کی وفات کے بعد گانچھے حلقہ دو کی نشست پر ضمنی انتخاباتت کا انعقاد ہوا تو عوام نے سلطان علی خان کی شکل میں ایک بار پھر صوبہ میں برسرِاقتدار پاکستان پیپلز پارٹی کی بجائے مسلم لیگ ن پر اعتماد کیا۔ اگر ہم چند سال قبل ہونے والے گلگت بلتستان کے صوبائی الیکشن کی بات کریں تو ضلع گانچھے کے  تینوں حلقوں سے مسلم لیگ ن نے دوبارہ کلین سویپ کیا اور یوں وفا اور نظریہ کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ضلع گانچے کا یہ حلقہ پاکستان کے اُن چند حلقوں میں ہوتا ہے جہاں پر ایک مخصوص پارٹی کے لئے پیک ووٹ ہوتا ہے۔

جغرافیائی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ علاقہ ایک مکمل وار زون ہے اور لوگ کم و بیش حالتِ جنگ میں ہی رہتے ہیں۔ پاک بھارت کے درمیان جب بھی کوئی گرمی سردی بڑھ جائے تو اس ضلع کے عوام اپنی تمام تر مصروفیات چھوڑ کر افواج پاکستان کیساتھ کھڑے ہوتے اور افواج کا حوصلہ بڑھانے کے لئے اپنی محدود وسائل کے ساتھ انکے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔ اس کی واضح مثال کارگل وار کی ہے کہ جب دورانِ جنگ جب بھی افواجِ پاکستان کو کھانے پینے کی رسد میں کمی کا خطرہ ہونے لگا یہاں کے غیور عوام نے اپنے گھروں سے سوکھی خوبانی، ستو اور دیگر ڈرائی فروٹز محاذ تک خود پہنچا کے آئے اور افواج کو میدان جنگ میں فاقوں سے بچایا۔ سیاچن جیسا اہم ترین محاذ اور دنیا کے سب سے بڑے گلیشرز میں سے چند گلیشیرز اس ضلع میں ہونے کے باوجود یہاں کے مقامی مسائل  بلخصوص ماحولیاتی مسائل پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی۔

آبادی کے لہٰاز سے یہ ضلع اب گلگت بلستان کا سب بڑا ضلع بن چکا ہے مگر یہاں نہ کوئی نیا ضلع وجود میں آتا ہے اور نہ ہی کوئی نئی حلقہ بندی ہوتی ہے۔ کریس سے چھوربٹ اور مشہ بروم میں سیاچن تک پھیلا یہ ضلع انتظامی مسائل سے دو چار ہیں۔ آبادی میں بے پناہ اضافہ کے باوجود یہاں پر وسائل سن ۱۹۹۸ کے مردم شماری کے مطابق دیئے جاتے ہیں۔

 صحت کے مسائل بھی جون کے توں ہیں۔ ویسے تو مسلم لیگ ن کے صدر اور وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن کو ضلع گانچھے کی پارٹی سے وفاداری، سٹرٹیجک اہمیت اور پسماندگی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کوئی سپیشل پیکج دینا چاہیئے تھا مگر گلگت بلتستان میں انکی پانچ سالہ دور اقتدار میں یہ ضلع یکسر نظر انداز نظر آیا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ مسلم لیگ ن ضلع گانچھے کے عوام کی وفاداری کو مالِ مفت سمجھتی ہے یا پھر یہاں کے پانچ نمائندہ علاقہ کی مسائل کے حل کے لئے مل بیٹھنا اور وزیر اعلیٰ سے بات کرنا پسند نہیں کرتے اور ان دونوں مسائل کا آسان حل عوام کے پاس موجود ہے ۔

 اگر صحت کی بات کی جائے تو ضلع کا سب سے بڑا ہسپتال ڈاکٹروں سے محروم ہے۔ دور دراز کے ہسپتال جن میں سکسا اور تھغس ہسپتال شامل ہیں ان کا تو کئی پُرسان حال نہیں۔ دور دراز علاقوں سے آنے والے مریض خپلو اور سکردو پہنچھنے سے پہلے ہی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر سفر کرتز کرتے رستہ میں آللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں۔

  ٹورزم جس کو گلگت بلتستان کی معیشیت کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیجاتی ہے اس شعبہ میں بھی کوئی خاص انفراسٹکچر پر کام نہیں کیا گیا، کسی نئے سرکاری گیسٹ ہاوس یا ہوٹلز یا کوئی ٹورزم پلان ترتیب نہیں دی گئ۔ سیاچن جیسے دنیا کے بلند ترین گلیشئرز کی بین الاقوامی سطح پر نمائش کے لئے کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی۔

البتہ مسلم لیگ ن کی ضلع کے لئے جند اہم کارنامے بھی ہیں جن کو ہم فراموش نہیں کریں گے ان میں ڈغونی اور چھوربٹ ڈویژن کا قیام، ڈویژنل پبلک سکول خپلو کا اعلان، ڈغونی بریج ، غواڑی بجلی گھر کا اعلان سمیت کچھ دیگر پلوں کی تعمیر ہے جس سے عوام کو یقیناَ فائدہ ہو گا۔ البتہ یہ پروجیکٹز عوامی مسائل کے سامنے آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔

تعلیمی میدان میں یوں تو یہاں کے لوگ اپنی مدد آپ بہت کچھ کر رہے ہیں مگر یہ علاقہ ایک سٹریٹیجک اہمیت رکھنے کے باوجود یہاں نہ کوئی کیڈٹ کالج ہے اور نہ یونیورسٹی کا کوئی کیمپس۔ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات اس قدر نمایاں ہیں کہ یہاں کے  گلیشئرز پگل رہے ہیں اور گرمیاں آتے ہی لینڈ سلائیڈنگ سے تمام اہم روڈز بند ہو جاتے ہیں اور تمام نالوں میں طُغیانی ہوتی ہے۔

ایسے میں اس ضلع کو نہ صرف ایک خاص اہمیت دینے کی ضرورت ہے بلکہ یہاں پر تعلیم، صحت کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی کے بچاوٗ کے حوالے سے بھی کرائسیس بلان تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ کہنے کو تو پاکستان میں ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کو ضلعی سطح تک پھیلایا گیا ہے تاہم ضلع گانچھے میں اس کی کوئی موجودگی نظر نہیں آتی۔

اُمید کرتے ہیں کہ وزیر اعلٰی گلگت بلستان ضلع گانچھے میں بڑھتے مسائل پر خاص توجہ دیں گے اور ایک قابل حکمران ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے عوامی اُمیدوں پر اُترنے کے لئے بہترین لائحہ عمل ترتیب دیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments