کارپٹ ہی کارپٹ

ایس ایس ناصری

سال کے چاروں موسموں میں گلگت بلتستان کی جو اہمیت ہے وہ اہمیت دنیاء کے کسی دوسرے خطے کو میسر نہیں یہان گرمیوں اور بہار کےموسم میں ہر طرف سبزہ ہی سبزہ نظر آتے ہیں اور جس طرف بھی نظر ڈورائیں کھیتوں سےلیکر پہاڑوں تک ہریالی دیکھنے کو ملتی ہےاور اپنی مخملی صورت پر یہاں آنے والے لوگوں کو فریفتہ بنادیتے ہیں اس کے بعد جو ایک بار آئے بار بار آنے پر مجبور ہوتے ہیں بلکل اسی طرح خزان کے رت بھی نرالے ہوتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ پورے بلتستان کے اشجار، پہاڑ اور میدانوں میں سونے کی ورق بچائے گئے ہیں ہر طرف سونے کی ورقیں بچانے کی مانند زرد رنگ کے خوبصورت سیں گرمیوں کی خوبصورتی سے بھی زیادہ دلکش بنادیتے ہیں اسی لیے زیادہ تر سیاح اور قدرتی مناظر دیکھنے آنے والے انہی سیزن میں اس خطے کا رخ کرلیتے ہیں اور موسم خزاں کی خوبصورتی سے زیادہ محظوظ ہوتے ہیں اور قدرت کی شان پر رشک کرنے لگتا ہے اسی طرح سردیوں کے اوقات میں ایک طرف یہاں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے گر جاتا ہے اور لوگ اللٰہ اللٰہ کرکے وقت گزار دیتاہےتو دوسری طرف وںنٹر ٹورزم کیلے نیشنل اور انٹر نیشنل سیاح جوق درجوق اس خطے میں آتے ہیں اور ونٹر ٹورزم سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ برف باری سے بھی انجوائے لیتے ہیں یہاں پر پڑنے والی برفباری کو دیکھنے اتنے لوگ آتے ہیں کہ یہاں کے لوگ حیران رہ جاتے ہیں کیونکہ اس ٹھٹرتی سردی کےموسم میں بھی یہاں کی خوںصورتی کی وجہ سے باہر سے آنے والوں کو سردی نہیں لگتی۔نیلے رنگوں والی آسمان اور اس آسمانوں کو اٹھائے ہوئے پہاڑوں کی پیلر کی رنگت اس موسم میں تبدیل ہوجاتی ہیں فیروزہ کی طرح دیکھنے والی آسمان کی رنگ کو بادل کی چادروں نے ایسے انداز میں گھیر لیتے ہیں جسطرح اس موسم میں یہاں کے باسی اپنے آپ کوسردی سے بچانے کیلے مختلف چادروں اور دیسی قار (لوئی) سے اپنے آپ کو لپیٹ لیتے ہیں اور یہاں کے بلند وبالا پہاڑی چوٹیاں برف باری کی وجہ سے دلہں کی طرح لگتے ہیں تو اندازہ کیجے خوبصورتی میں کتنی حد تک اظافہ ہوتا ہوگا انہی سارے خوبیوں کے پیش و نظر بلتستان دنیاء میں خوبصورتی کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہے اور ان ساری واقعات سے ایسا لگتا ہے کہ جس طرح دیگر ملکوں اورشہروں میں مختلف جہگوں خصوصًاکھیلوں کے میدانوں کو خوبصورت بنانے اور جازب بنانے کیلے مختلف رنگوں کے کارپٹوں کے زریعے تزییں و آرائش کرتے ہیں بلکل اسی طرح بلتستان کے زرہ زرہ کو قدرت نے مختلف رنگوں کے کارپٹس سے سجائے گئے ہیں اور یہ کارپٹس بچھا نماء جھگے یہاںپر آنے والے مقامی و دیگر مہمانوں کو اپنے مختلف رنگوں کے زریعے خوش آمدید کہتے ہیں یہاں کی قدرتی رنگوں والی کارپٹ سے مزیں مقامات کی طرح اگر سہولیات بھی بہتر انداز سے ہوتیں تو جس انداز میں اس وقت ان رنگوں کو دیکھنے کیلے سیاح اس خطے میں آتے ہیں ان سے بڑھ کر سیاح اس خطے کو دیکھنے آتے لیکن اس خطے پر صرف خدا کا نظر ہے اسی لیے ہر سو قدرتی رنگ سے رنگیں ہے۔یہاں آنے والے سیاح ایک طرف ان قدرتی رنگوں کے معترف ہے تو دوسری طرف ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور دیگر سہولیات نہ ہونے کا رونا بھی روتے ہیں کہتے ہیں خداوند متعال نے اس خطے کو ہر سیزن میں مختلف رنگوں کے کارپٹوں کی طرح رنگوں سے سجائے ہےاورچار چاند لگا دیے ہیں لیکن انہی قدرتی رنگوں والی کارپٹس کی طرح یہان کی سڑکوں پر بھی کالے رنگ کی کارپٹ ہوتے تو کیا بات تھی لیکن ایسا نہ ہونے پر اس خطے کی اہمیت میں کمی واقع ہوئی ہے سیاحوں نے اس خطے میں جس چیز کی کمی کا احساس کیا ہے وہ کالی رنگ کی کارپٹ والی سڑک ہے مگر ان سیاحوں سے معزرت کے ساتھ یہ کہنا چاہوں گا کہ محترم اگر میں غلط نہ ہوں تو آپ مہمان حضرات اس خطے کی خوبصورتی دیکھنے اور دیگر رنگوں والی کارپٹ سےلیس بلتستان کانظارہ کرنے کیلے دن کے وقت آئے ہوں گے اگر آپ رات کے اوقات میں تشریف لاتے تو آپکو نہ صرف کالی رنگ کےکارپٹ والی سڑک نظر آتیں بلکہ پورا خطہ ہی کالا نظر آتا البتہ کالی رنگ والی سڑک پر ڈراٰئیو کرتےہوئے ہر پانچ قدم کے فاصلے پر اگر آپکو جھولا سا لگ جائیں تو شائید آپ یہ سمجھ بیٹھتے کہ یہ راتوں کو نیند نہ آئے تو لوری سنا کر سلانے کیلے کوئی نیاء نظام متعارف کرائے ہوں گے کیونکہ جب اس خطے میں ہر چیز آپکو رنگیں کارپٹس کی طرح لگتے ہیں تو یہ بھی بعید نہیں ہے مگر آپ کی شکایات سے یوں لگتاہے کہ آپ نے دن کے اوقات ان سڑکوں پر سفر کئے ہیں اگر ایسا نہ ہوتے تو آپ بھی گلگت بلتستان کے وزیر بلدیات رانا فرمان کی طرح ان سڑکوں کو کارپٹ سے ہی تشبیہ دیتے موصوف گزشتہ دنوں سولڈ ویسٹ منیجمنٹ کمپنی سکردو کی افتتاح کرنے کیلے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان ودیگر وزراء کے ہمراہ سکردو پہنچے اور بقول ان کے انہیں رات کو آنا پڑا الم برج سے شہید پل تک روڈ یعنی جگلوٹ سکردو روڈ پر رات میں سفر کیا اور انہیں احساس ہواکہ بلتستان کے لوگ جس سڑک کو لیے چیخ رہے تھے وہ حق بجانب تھا کیونکہ اس سڑک پر سفر کرنے کے بعد انسان کے جسم کا ہر اعضاء جواب دے دیتا تھا اور حالت اتنی خراب ہوتی تھی کہ الامان الامن بے اختیار ان کے زنبن نر جاری ہوتے تھے تاہم کچورہ سے سکردو داخل ہوتے ہی سکوں ملتا تھا اور یوں لگتا تھا جیسے یہ سڑک نہیں بلکہ کارپٹ ہی کارپٹ ہے۔انہوں نے ایس ڈبلیوایم سی کے افتاح کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے سابق حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان کی ناکامی اور نالائقی کا طعنہ دیتے ہوئے موجودہ حکومت خصوصاً بلتستان کے اسمبلی ممبران کا تعریف کرتے ہوئے اس حد تک بول ڈالا کہ یہاں کے اسمبلی ممبران نےاتنے کام کیئے جو قابل فخر ہے انہوں نے کہا ہماری حکومت ہوا میں تیر نہیں چلاتی جو بولتے ہیں وہ کردکھاتے ہیں یہاں کے لوگوں کی فریاد سنکر جگلوٹ سکردو روڈ پر کام شروع کر لیا ہے اب یہاں کے عوام کو ریلیف ملے گا اسی طرح کچورہ سے سکردو تک جو روڈ ہے اس سے لگتا ہے کہ یہان کارپٹ ہی کارپٹ ہے۔وزیر موصوف کی ان باتوں سےیوں لگتا ہے کہ گلگت سے لیٹ سفر کرنے اور شاہراہ جگلوٹ سکردو پر گھنٹوں جھولاجھولتے ہوئے اپنے تمام اعضاہ کی تھکاوٹ کے باعث جب کچورہ پہنچ گیئے تو سکردو پہنچنے کی آسرااور موت کی کنوئیں سے بچ نکلنے میں خوشی کے مارے انہیں کچوہ تا سکردو روڈ کی حالت دیکھائی نہیں دی یا شاہراہ جگلوٹ سکردو نےموصوف کواتنا تھکا دیا کہ ہوش ہی نہ رہا ہوگا دوسری بات رات کی وجہ سےوزیر بلدیات صاحب کو اندھیرے میں سڑک کی شکل وصورت دفاتروں میں بچھائے جانے والے میل خور کارپٹس کی طرح لگے ہوئے ہوں گےاگر ایسا نہیں ہے تو میرے قارئیں مجھ سے اتفاق ضرور کریں گے کہ یہ سڑک بھی جگلوٹ سکردو روڈ کاحصہ ہے البتہ فرق صرف اتنا ہے کہ الم برج سے شہید پل تک زیادہ تر پہاڑی ایریاءہونے کی وجہ سے خطرناک یعنی موت کا کنواں لگتا ہے جبکہ کچورہ سے سکردو کی طرف میدانی علاقہ ہونے پر زیادہ خطرناک نہیں لگتا لیکن سڑک کی حالت تو ابتر ہی ابتر ہےاور ہر جگہ کھڈہ، ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہےالبتہ گمبہ سکردو سے شہر کے درمیان بعض جہگوں پر پیوند کاری ضرور کی ہے اگر اسی کو کارپٹ ہی کارپٹ کہیں تو ہرخصوصیات سے بھری دیگرکارپٹ کی توہیں ہوگی جسکا احساس وزیر موصوف کو بھی سکردو سے واپسی پر اگر دن میں سفر کیا ہے تو ہوا ہوگا اور اپنی اس بات پر غور کر رہا ہوگا کہ یہ سڑکوں کی حالت تو ناگفتہ بہ تھی مگر میں نے یہ لمبی کیسی چھوڑی کاش رات کی سفر میں دیکھی ہوئی سڑک کی حالت پر بناء سوچے سمجھے عوامی اجتماع میں اسے کارپٹ سے تشبیہ نہ دیتے تو کیا ہوتا۔وزیر صاحب کی یہ بات اس وقت تقریب میں جلوہ افروز ہر فرد کیلے مزاح تو ضرور لگا ہوگا لیکن امید بھی تو بڑی چیز ہے اور امید پہ ہی دنیاء قائم ہےاور ساتھ ساتھ بعض لوگوں کی خواب کی تعبیر بھی مثبت اثر رکھتی ہے اسی طرح رانا فرمان کی خواب جو رات کے وقت الم برج سے کچورہ تک سڑک نما سڑک پر تھکے مارے کچورہ پہنچنے پر آنکھیں لگتے ہی آئی تھی اس کی تعبیر بلتستان کے عوام کیلے کار آمد ثابت ہو یہ کیونکہ بقول رانا فرماں گلگت بلتستان سے کرپٹ لوگوں کی حکومت ختم ہوکر نیک ،پارسا،اور پیرو فقیروں کی حکومت قائم ہے ایسے میں پیروں اور فقیروں کی خواب بھی شرمندہ تعبیر ممکن ہے کیونکہ وزیر موصوف کو تھکے ہارے میں جو کارپٹ والی سڑک کی خواب آئی ہے اس کی تعبیر انشاءاللہ بلتستان کی عوام کیلے نیک شگون ثابت ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments