استور پریس کلب کی جانب سے سنیئر صحافی بشارت حسین کو دی جانے والی قتل کی دھمکی کی مزمت

استور (پ ر) استور پریس کلب کے ممبران کا ایک اہم اجلاس زیرصدارت صدر پریس کلب استور سبخان سہیل کے ہوا۔اجلاس میں استور پریس کلب جنرل سیکرٹری عابد حسین پرونہ اوردیگر کابینہ سمیت تمام ممبران نے شرکت کیا۔ اجلاس میں گزشتہ دونوں گلگت بلتستان کے سنیر صحافی و تجزیہ نگار بشارت حسین کو دی جانے والی قتل کی دھمکی کی شدید الفاظ میں مزمت کی گئی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوے صدر پریس کلب استور سبخان سہیل نے کہا کہ صحافیوں کو حق اور سچ لکھنے کی پاداش میں جو دھمکیاں دی جاتی ہیں اسے ہمیں کسی صورت نظر انداز نہیں کرنا ہوگا۔ ہمیں ایسے افرد اور ایسی قوتوں کا ملکر مقابلہ کرنا ہوگا ۔۔۔بشارت حسین گلگت بلتستان کے نامور صحافی اور سنئیر تجزیہ نگار ہے۔ بشارت حسین کو جن لوگوں نے قتل کی دھمکی دی ہے وہ صرف ایک بشارت حسین کو دھمکی نہیں دی ہے بلکہ پوری آزادی صحافت پر حملہ ہے۔ میں وزیر اعلی گلگت بلتستان اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتاہوں کہ ان لوگوں کے خلاف فوری کاروائی عمل میں لائیں جنہوں نے فون پر قتل کی دھمکی دی ہے۔ گلگت بلتستان سمیت وفاق میں آئے روز صحافیوں پر تشدد اور ان کو دھمکیاں دی جاتی ہے اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ریاست کا چوتھا ستون کو حق اور سچ لکھنے میں مزید مشکلات کا سامنا ہوگا۔ جن لوگوں نے اور جن قوتوں نے صحافیوں کو قتل کی دھمکی دی ہے دراصل وہ سامنے آکر مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتے ہیں اسی لیے فون کال پر دھمکیا ں دینے لگے ہیں۔ ہم سنیر صحافی بشارت حسین کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس کو دی جانے والی دھمکی کی پریس کلب استور کی جانب سے بھر پور مزمت کرتے ہوے اس کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments