کار ہائے نمایاں، آغاخان رورل سپورٹ پروگرام

تحریر: دیدار علی شاہ

اندھیرے سے روشنی کا سفر بہت دلچسپ ہیں۔ یہ ایک دن ، مہینہ یا سال پر مشتمل نہیں بلکہ کئی عشروں پر محیط ہیں۔ اس سفر کا آغاز پاکستان کے آزاد ہونے کے بعد نومبر ۱۹۴۸ سے شروع ہوتی ہیں پھر ۱۹۶۰ کے بعد اس سفر میں خاصہ تیزی دیکھنے کو ملتا ہیں۔ یہ سفر آگے بڑھتے ہوئے ۸۰ کی دہائی میں اس میں خاصہ تیزی آتی ہیں اور ۹۰ کی دہائی کے بعد اس سفر کی کامیابی عیاں ہوتی ہے۔ اور اب یہ سفر اس سائنسی دنیا کے برابر تو نہیں مگر قریب قریب ضرور ہے۔ جی ہاں گلگت بلتستان جوجیو اسٹرٹیجک اعتبار سے ہمیشہ دنیا کی نظروں میں رہی ہیں اور اس کی تاریخ ہمیشہ تبدیلی کے مراحل سے گزری ہے اور خاص کر یہاں پر اقتدار کے لئے جنگیں لڑی گئی ہے۔ یہاں پر مختلف ادوار میں مختلف راجاوں نے مختلف علاقوں میں مختلف انداز سے حکمرانی کی ہیں ۔ماضی میں مال مویشیوں اور زراعت کے شعبے سے وابستہ رہے ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ یہاں کے لوگوں کو سب سے زیادہ سخت موسمی حالات اور خوراک کی کمی کے مسائل کا سامنا رہا ہے ۔

۱۹۶۰ سے پہلے یہاں لوگوں کی زندگی ابتر ،تاریک،اور مشکل رہی ہیں اور اُس وقت کے بعض قصبے اور حالات ناقابل بیان ہیں۔ یہاں کے سماجی اور معاشی حالات میں اس وقت تبدیلی آنا شروع ہوئی جب پاکستان اور چین نے مل کر شاہرہ قراقرم کی تعمیر کی، تب سے لے کر آج تک اُس وقت کی تاریک ادوار کی تصویر ہی بدل گئی ہیں۔ شاہرہ قراقرم کی تعمیر سے یہاں پر معاشی ، سماجی اور معاشرتی تبدیلی میں تیزی آئی ہے اور ساتھ ساتھ اس پسماندہ علاقے کی سماجی اور معاشی ترقی کے لیئے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں نے اہم کردار ادا کیا ہے اور خاص کر غیر سرکاری اداروں کا کردار بنیادی رہی ہے جس میں آغاخان رورل سپورٹ پروگرام AKRSP کا نام اول درجہ پر ہے۔

آغا خان رورل سپورٹ پروگرام یعنی آخا خان دیہی اشتراکی پروگرام ایک غیر سرکاری ادارہ ہے جو آغا خان فاؤنڈیشن کے زیر نگرانی 1982 میں قیام عمل میں آیا جس کا مقصدپسماندہ دیہی علاقوں کو ترقی دینا تھا۔اس وقت یہ فلاحی ادارہ پاکستان میں گلگت بلتستان اور صوبہ خیبر پختون خواہ کے ضلع چترال میں ترقیاتی منصوبوں میں مصروف عمل ہے۔ یہ ایک غیر منافع بخش فلاحی ادارہ ہے اس ادارے کا اصل مقصداس علاقے کے لوگوں کے لئے ایسے پروگرامز مرتب کرنا جس سے یہاں کے لوگوں کی آمدن بڑھ جائے، جس سے گلگت بلتستان اور چترال کی پسماندگی کو دور کرکے ان کے معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے اور لوگوں کی ضروریات اورخواہشات کے مطابق منصوبوں کی نشاندہی کرکے علاقے کے لوگوں کی مہارت، صلاحیت اور علم میں اضافہ کرنا اور ساتھ ساتھ ان زرعی اور انتظامی صلاحیت کو بہتر بنانا اور سہولیات کی فراہمی اور بچت کی عادت پیدا کرنا شامل ہے اور اس علاقے میں موجود وسائل کو ان لوگوں کے ذرئعے سے ہی استعمال میں لانا تاکہ ان کی آمدنی میں اضافہ ہو اور ان کے معیار زندگی بہتر ہوسکے۔اس ادارے کو بنانے کا دوسرا مقصد یہ تھا کہ دیہی ترقی کے لئے ایک ایسا ماڈل تیار ہوجس کو پاکستان اور دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھی اپنایا جا سکے ۔ اس لئے یہ ادارہ اب بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ کمیونٹی کی بنیاد پر ترقی کی تنظیم بن چکی ہے جوپاکستان میں گلگت بلتستان و چترال اور دنیا کے دوسرے ملکوں نے اسی ماڈل کو اپنا کر بہتر ذرائع معاش کو فروغ دے کرغربت کے خاتمے کیلئے کام کررہاہے۔ بین الاقوامی مخیرڈونرز حضرات اور ادارے اس ادارے کیلئے عطیہ دیتے ہیں جسے اس علاقے میں مربوط دیہی ترقی، دیہی کمیونٹی کے فعال اور پائیدار انداز میں دیہی ترقی کیلئے خرچ کئے جارہے ہیں۔

یہ فلاحی ادارہ اس خطے میں سب سے بڑا ترقی کا نیٹ ورک اور علاقے کے سماجی اور اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کررہاہے اور اس علاقے کے لوگوں کے معیارزندگی کو بہتر اور ہنر مند بنانے میں سماجی، معاشی، معاشرتی، نفسیاتی، تکنیکی اور زرعی شعبوں میں اہم کردار ادا کررہاہے۔ خاص کر غربت میں کمی کے لئے مختلف پروگرامز متعارف کئے گئے ہے ، بچت کی عادت کو مضبوط بنانے کے لئے دیہی تنظیمات کے ذریعے مختلف طریقہ کار واضح کیا گیا ہے، زمین کی بہتر استعمال کے لئے طریقہ کار، پانی او ر ساتھ ساتھ شجرکاری، جنگل بانی اور بجلی کی ترقی کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا انتظام کو بہتر طریقوں سے متعارف کروارہاہے۔نوجوان ، خواتین اور کاروبار کے فروغ کے لئے بہت سے پروگرامز اب بھی جاری ہے۔

اس وقت اے کے آر ایس پی گلگت بلتستان اور چترال کے گیارہ اضلاح میں مصروف عمل ہے۔ یہ علاقہ دنیا کے سب سے اونچے پہاڑی سلسلہ میں شمار ہوتاہے جس میں ہمالیہ، قراقرم، اور ہندوکش شامل ہے۔ دیہی ترقی کے اس ادارے نے ا قتصادی، اجتماعی اور سماجی ترقی میں کامیابی کے ساتھ پیش رفت کی ہے جس میں تقریباً 4700دیہی و خواتین تنظیمیں شامل ہیں، ان تنظیمات کےذریعے ہی سے اے کے آر ایس پی نے اس علاقے میں کامیابی کے منازل طے کی ہے۔ ان دیہی و خواتین تنظیمات میں تقریباً 194,306گھرانے شامل ہے ان تمام تنظیمات کی کُل بچت تقریباً 535ملین روپے ہے۔اس علاقے میں گاوں کی سطح پر5242کمیونٹی آرگنائزیشن بنائے گئے ہے۔ اب تک تقریباً 634کلو میڑ لنک روڑ مختلف جگہوں پر بنائے گئے ہے جس سے لوگوں کو آمد و رفت کے لئے آسانیاں پیدا ہوئی ہے ۔ کاشتکاری ، شجرکاری اور بنجر زمین کو سیریاب کرنے کے لئے 1500سے زائد کوہل تعمیر کی گئی ہے ۔ بجلی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے 700 سے زائد مائکرو ہایٗڈل پر وجیکٹ پن بجلی گھر تعمیر کی گئی ہے جس سے لوگوں کی ضروریات زندگی اور کاروبار میں مدد ملتی ہے۔ علاقے کو خوبصورت ، ماحول کو خوشگوار اور لکڑی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے 31ملین درخت لگائے گئے ہے اور ساتھ ساتھ پھل دار درخت کی تعداد کو بڑھانے کے لئے 1479 نرسریاں بھی بنائے گئے ہے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کے لئے، خواتین کے لئے، نئے کاروبار کرنے والوں کے لئے، بہت سے پروجیکٹس اور کام کئے گئے ہے اور کچھ ابھی جاری ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہے کہ اس علاقے کے لوگوں کے ضروریات زندگی سے متعلق جتنے بھی شعبہ اور ضروریات ہیں اُن سب پر اے کے آر ایس پی نے اب تک کام کیاہے اور کر رہاہے۔

اے کے آر ایس پی کی ایک اور کامیابی لوکل سپورٹ نیٹ ورک (LSO)کی تشکیل ہے وقت اور حالات کے بدلنے کے ساتھ ساتھ 2003 کے بعد ان تمام دیہی و خواتین تنظیمات نے یہ بات محسوس کی کہ آنے والے وقت کے لئے اجتماعی طور پر یہاں کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے کا م کرنے کی ضرورت ہیں اور ان تمام تنظیمات کو وسعت دے کر ایک مضبوط فلاحی ادارے کی شکل میں لائے تاکہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ فلاحی، سماجی اور معاشی مدد مل سکے اور ساتھ ساتھ اے کے آر ایس پی کی بھی یہی کوشش تھی کی ان تمام دیہی و خواتین تنظیمات کو مضبوط بنا کر اجتماعی طور پر ایک ادارے کی شکل میں لایا جائے جو کہ اب LSO (لوکل سپورٹ آرگنائزشن ) کی صورت میں گلگت بلتستان اور چترال میں مختلف کاموں میں مصروف عمل ۔ایل ایس او یونین کونسل کی سطح پر دیہی و خواتین تنظیمات کی اجتماعی رجسٹرڈ فلاحی ادارہ ہیں اورحکومت اور دوسرے فلاحی اداروں کے ساتھ مل کر گلگت بلتستان اور چترال میں لوگوں کی فلاح بہبود کے لیئے کام کر رہا ہیں۔

اس وقت یونین کونسل کی سطح پر گلگت بلتستان اور چترال میں ان ایل ایس اوز کی تعداد۷۷ہے اور کل دیہی و خواتین تنظیمات کی تعداد ۵۶۹،۴ہے جبکہ اس میں کل ممبران کی تعداد ۲۵۱،۱۴۹ ہے۔

اے کے آر ایس پی نے یہ سارے کام تین دہایوں میں کامیابی کے ساتھ مکمل کی ہے اس کی وجہ اس ادارے کے بنائے گئے اصول اور طریقہ کار ہے جس میں تنظیم، ہنر اور بچت شامل تھا انہیں اصولوں کو اپنا کر لوگ منظم ہوئے ، اپنے مدد آپ کے تحت کام کئے اور بچت کی عادت ڈال کر معاشی لحاظ سے مضبوط ہوئے اور ان کے اندر یہ سوچ پیدا ہوئی کہ یہ لوگ خود اپنے تقدیر بدل سکتے ہے۔

مستقبل میں گلگت بلتستان اور چترال کے لوگوں کو ہنرمند اور کامیاب دیکھنے کے لئے ضروری ہے کہ اب گورنمنٹ اور اے کے آر ایس پی مل کر کام کریں اس کی وجہ یہ ہے کہ اے کے آر ایس پی کو اس علاقے میں ۳۵ سالوں کا تجربہ ہے اوردوسری وجہ اب سارے وسائل حکومت کے پاس ہے ۔ اس لئے لوگوں کی حالات زندگی کو مزید بہتر بنانے کے لئے حکومت اور یہ ادارہ مل کر پارٹنرشپ میں کام کرسکتی ہے اور ان تمام ایل ایس اوز کو بنانے کا مقصد بھی یہی ہے۔

اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ۱۹۸۳ سے لے کر اب تک اے کے آر ایس پی نے اس علاقے کی مناسبت سے وقت اور حالات کے مطابق جو کرنا تھا وہ کیا ہے ، خاص کر ان لوگوں کے اندر یہ سوچ ضرور پیدا کہ ہے کہ انسان محنت کر کے اپنے حالات کو بدل سکتا ہے ۔اب وقت بھی بدل گیا ہے اور ضروریات بھی ، جب تک انسان معاشی طور پر مضبوط نہ ہو تب تک اسے اپنے آپ کو بدلنے میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ گلگت بلتستان اور چترال کے موجودہ حالات اور ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت ہے جس میں خاص کرمعاشی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لئے آسان شرائط پر قرضہ، دوسری چیز نوجوانوں کو ہنر مند اور بے روزگاری ختم کرنے کے لئے ٹیکنکل سینٹرز کا قیام، تیسری بات ٹوریزم کے حوالے سے لوگوں کو ٹریننگز اور انتظامات، چوتھی بات اللہ تعالیٰ نے ہمارے پہاڑوں میں بے شمار معدنیات رکھا ہے جس کو استعمال میں لانے کے لئے اقدامات اور پانچویں بات یہاں کے لوکل پروڈیکٹ کو مارکیٹ تک پہنچانے کے لئے بہتر انتظامات اور اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح سے بے شمار زرائع موجود ہے جس سے یہاں کے لوگوں کو معاشی اعتبار سے مضبوط بنایا جا سکتا ہے چھٹی بات اس ادارے نے یہاں پر خواتین کو ترقی اور باختیار بنانے کے لئے بے شمار اقدامات اور کام کئے ہے ،مزید اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اور یہ کام گورنمنٹ کے اداروں کے ساتھ مل کرمکمل کیا جاسکتا ہے۔

آغاخان رورل سپورٹ پروگرام اس علاقے کے ۹۰فیصد گھرانوں کو اپنی خدمات فراہم کررہاہے اوراس ادارے کی پالیسی اور پروگرامز کو گلگت بلتستان اور چترال میں کامیابی کے بعد اب قومی اور بین الاقومی سطح پر اپنایاگیا ہے جوکہ ساؤتھ ایشیاء اور دنیا کی دوسری جگہوں پر اس ماڈل کو فروغ مل رہاہے۔

ہز ہائنس پرنس کریم آغاخان شاہ کریم الحسینی کا حالیہ دورہ گلگت بلتستان اور چترال کامیاب رہا ہے اور ذرائع کے مطابق گلگت میں ہزہائنس کے ساتھ گورنر، چیف منسٹر، چیف سکریٹری اور فورس کمانڈر کے کامیاب میٹنگ رہی ہے جس میں آغاخان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک اور یہاں کے گورنمنٹ نے مل کر مستقبل قریب میں کام کرنے کافیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں جوائنٹ کنسلٹینسی گروپ بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے ۔ اسے ہم گلگت بلتستان اور چترال کے لوگوں کے لئے خوش آئند قرار دیتے ہے اور امید یہی رکھتے ہے کہ اس اقدامات سے یہاں کے لوگ بااختیار اور معاشی طور پر مضبوط ہونگے اورآنے والے وقتوں میں ان کی حالات زندگی بدل جائے گی۔مگر ایسا ہونے اور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ لوگ جدیدیت کو قبول کریں ایسا کرنے سے تبدیلی کی رفتار میں تیزی آتی ہے اور اس معاشرے کو تبدیل ہونے میں کچھ وقت ضرور لگتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments