آہنگ ریڈیو، مرحوم محمد اکرم خان ایک عہد ساز شخصیت

شکور علی زاہدی

قانون قدرت کے مطابق دنیا نے جب سے اپنے سفر کا آغاز کی وہ اپنے مقررہ وقت پر انجام پذیر ہو رہا ہے۔ اس طویل عرصے کے دوران دنیا میں کروڑوں لوگ پیدا ہوئے ۔ اپنا سفر مکمل کر کے دنیا سے چلے گئے۔ لیکن بہت کم لوگوں نے تاریخ میں اپنا نام رقم کیا۔ اللہ نے انسان کو زمین میں اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا۔ ا سے علم عقل حُسن اور گویائی دے کر اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کیا۔ اسے محنت کے ذریعے اپنی زندگی میں تبدیلی لانے کا بھی اختیار دیا۔ لیکن ان تمام نعمات کے باوجود بہت کم لوگ قدرت کے ان عظیم عطیات سے مستفید ہو کر اپنا نام ہمیشہ کے لیے روشن کیا۔

تاریخ کے ایسے ہی افراد میں گلگت بلتستان کا ایک فرزند مرحوم محمد اکرم خان بھی ہیں۔ آپ اپنی محنت شجاعت، خود اعتمادی ، حُسن اخلاق اور ایک خاموش سمند رکی حیثیت سے گلگت بلتستان کے معاشرے میں اپنے زمانے کے لوازمات کے مطابق بہت کچھ کر گئے۔ لیکن آج ہمارے معاشرے میں بہت ہی کم افراد کوان کی اس عظیم خدمات کا علم ہے۔ راقم کی ملاقات غالباً2000کے بعد کسی شادی کی تقریب میں ہوئی تھی وہ ایک شریف اور دیانت دار انسان کی حیثیت سے بہتر سے بہتر مشورہ اور گائیڈ کرنے میں بہت مہارت رکھتے تھے۔ زمانہ طالب علمی سےآخری دم تک انہوں نے اپنی زندگی کو خدمت انسانیت قوم ملت اور علاقے کی بہتری ایک ملازم کی حیثیت سے حکومتی شعبہ میں احساس ذمہ داری اپنے خاندان اور علاقے میں غریب و یتیم افراد کی کفالت کے ساتھ معاشرے میں امن و امان کی بحالی کے لیے جرگہ سسٹم میں بنیادی کردار کے ساتھ گلگت بلتستان میں اتحاد بین المسلمین کے لیے بھی گراں قدر خدمات انجام دیے۔

مرحوم 1932کو ضلع استور کے گاؤں بونجی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد بختاور خان برٹش دور میں محکمہ پولیس کے ملازم تھے۔ مرحوم محمد اکرم خان نے پرائمری تک تعلیم بونجی سکول سے حاصل کی۔ 1957میں گلگت ہائی سکول نمبر 1کے طالب علم کی حیثیت سے پشاور بورڑ سے میٹرک میں نمایاں پوزیشن حاصل کی اور ہائی سکول گلگت کے ہاسٹل میں طلبہ یونین کے صدر بھی رہے۔ 1959میں راولپنڈی گارڈن کالج سے ایف اے اور 1962میں راولپنڈی گارڈن کالج پنجاب بورڈ سے بی اے کا امتحان نمایاں نمبروں میں پاس کیا۔

1960میں ریڈیو پاکستان راولپنڈی کے شینا پروگرام میں پہلی دفعہ بطور کنٹریکٹ ملازم حصہ لیا۔ 1966میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کیا اور ریڈیو پاکستان راولپنڈی میں پہلے آفیسر کی حیثیت سے پروڈیوسر کی خدمات انجام دی۔ 1970سے 1972تک ریڈیو مظفر آباد میں بطور پروڈیوسر تعینات رہے۔ 1971کی پاک بھارت جنگ کے دوران لیپہ سیکٹر سے پاک آرمی کی شجاعت براہ راست ریڈیو پاکستان میں کوریج کی۔ 1973میں دوبارہ راولپنڈی سٹیشن منتقل ہوئے۔ وہ ریڈیو پاکستان راولپنڈی میں غلام الدین کے کریکٹر کے نام سے پہچانے جاتے تھے۔ اس کریکٹر کو سب لوگ پسند کرتے تھے اس وجہ سے وہ اپنی مہارت میں بہت مشہور ہو چکے تھے۔ شینا زبان کی ترویج و اشاعت کے لیے انہوں نے دوران ملازمت کئی پروگرام ترتیب دیے۔ راولپنڈی میں ملازمت کے دوران جی بی کے غریب اور مستحق طلبہ کی نہ صرف مالی معاونت کرتے تھے بلکہ درجنوں طلبہ کو ریڈیو پاکستان میں بطور عارضی ملازمت عطا کی تاکہ وہ اپنی تعلیم آسانی سے حاصل کر سکیں۔ 1967 میں رشتہ ازدواج سے منسلک ہو گئے۔

اپریل 1979میں ریڈیو پاکستان گلگت کا افتتاح ہوا اور مرحوم سینیئر پروڈیوسر کی حیثیت سے تشریف لائے۔ 1990میں ریڈیو پاکستان گلگت کے ڈائریکٹر نامزد ہوئے۔ 1993میں ریڈیو پاکستان جوٹیال برانچ کا افتتاح کیا۔ 1996میں ریڈیو پاکستان گلگت میں بطور ڈپٹی کنڑولر اور 1999میں کنٹرولر ریڈیو پاکستان گلگت کی حیثیت سے خدمات انجام دیے۔ 1991میں سری لنکا میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے براڈ کاسٹنگ کے ٹرینر کے طور پر خدمات انجام دیے اور حکومت سری لنکا سے خصوصی ایوارڈ بھی حاصل کیا۔

انہوں نے گلگت میں ملازمت کے دوران شینا زبان کی ترویج میں بہت وسعت دی۔ شینا زبان میں کئی ڈرامے افسانے اور کہانیاں بھی تحریر کی۔ جو ریڈیو پاکستان گلگت سے نشر ہوتے تھے۔ انہوں نے محرم اور رمضان کے ایام میں ہر سال اخلاقیات اور معرفت دین و اتحاد کے متعلق بہت سے پروگرام تشکیل دیتے رہے اور ریڈیو پاکستان گلگت کے پروگراموں کو ہمیشہ امن اتحاد رواداری معلوماتی اور زمینی حقائق کے مطابق پیش کرنے میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔ ی

1986میں گلگت بلتستان رائٹر فورم کے بانی اور صدر بھی رہے ۔ یہ فورم آج حلقہ ارباب ذوق جی بی کی حیثیت سے مشہورہے ۔ 2000میں ان کو وفاقی حکومت کی جانب سے پورے ملک کے لیے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر نامزد کے لیے دو دفعہ آفر ہوا۔ لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اب مجھے گلگت بلتستان میں ہی خدمت کرنا ہے۔ مرحوم بحیثیت کنٹرولر ریڈیو پاکستان گلگت کے ساتھ ریڈیو پاکستان سکردو اور ریڈیو پاکستان چترال کے بھی نگرانی کرتے رہے۔ ان کا ریڈیو پاکستان گلگت میں مشہور پروگرام شاہراہ ریشم سے شاہراہ قراقرم تک طویل عرصے سے چلتا رہا۔ 2000 میں اعلیٰ عہدے پر ترقی ملنے کے باوجود ملازمت سے ریٹائر ہوئے اور اپنی مصروفیات اہل علم و اہل قلم اور شعراء و ادب کے ساتھ وابسطہ رکھا۔ وہ علم و ادب پر فائز لوگوں کی بڑی قدر کرتے تھے ۔ 1999میں سفر حج پر چلے گئے۔ اور 2007میں دوبارہ حج ادا کیا۔ جبکہ 2012میں ایران، عراق اور شام کے مقدس زیارات کا شرف حاصل کرتے ہوئے عمرہ بھی ادا کیا۔

آپ کے خاندان شرو ع ہی سے خدمت اور فلاحی کاموں میں مشہور تھا۔ ان کے حقیقی چچا نیاز علی بونجی کے نمبردار تھے۔ انہوں نے 1947کے انقلاب آزادی میں کرنل مرزا حسن خان کے ساتھ بھر پور مالی و جانی تعان کیا۔ اور مرزا صاحب کئی ایام تک ان کے گھر میں مہمان رہے۔ جنگ آزادی کے ہیرو بختاور شاہ مرحوم کے ماموں تھے۔ نمبر دار نیاز علی کی بہترین حکمت عملی کی وجہ سے ڈوگرہ فوج دھوکہ میں آکر بونجی کی چھاونی کو خالی کر کے پہاڑوں کی جانب بھاگنے لگے تو یہ چھاؤنی مجاہدین اور گلگت سکاؤٹ کے استعمال میں آئی۔

سانحہ 1988میں دوسرےلوگوں کے ساتھ ان کا پورا گھرانہ گلگت شفٹ ہوا لیکن ان کی عظیم خدمات، حُسن اخلاق اور منصفانہ فیصلوں کی وجہ سے آج تک بونجی کے عوام مرحوم سے مدد اور استفادہ لیتے رہے۔ مرحوم کافی عرصے سے علیل تھے۔ 8دسمبر 2017بروز جمعہ 85سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ قائد ملت امامیہ علامہ راحت حسین الحسینی نے مرکزی جامعہ مسجد میں نماز جنازہ ادا کی جن میں تمام مکاتب فکر کے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اور دنیور آستان محلہ کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ مرحوم نے اپنے پسماندگان میں تین بیٹے چھوڑے۔ آپ تا حیات گلگت شفٹ ہونے کے بعد کرایوں کے مکانوں میں رہے لیکن اپنی قابلیت ذہانت اور مالی پوزیشن کو خطے کی تعمیر و ترقی کے لیے صرف کیا۔ ان کی ان عظیم خدمات کی وجہ سے ان کا نام جی بی اور ریڈیو پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رہے گا۔ اللہ ان کے پسماندگان اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا کرتے ہوئے مرحوم کے درجات کو بلند کرے۔ (آمین)

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments