گلگت بلتستان سیاحوں کی جنت

ایس ایس ناصری

وطن عزیز پاکستان کے خطہ گلگت بلتستان کو زمین پر جنت کہا جاتا ہے۔ یہان موجود دیومالائی میدان دیوسائی جیسے دنیا کا چھت بھی کہا جاتا ہے۔ یہان پر موجود مختلف رنگوں کے پھول اور نایاب پرندے سیاحوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ اس میدان میں پائے جانے والے بھورا ریھچ دنیا کی نایاب جانوروں میں شمار ہوتا ہے۔اسطرح ہیون آف ارتھ شنگریلا اور اس کے آغوش میں نیلی نیلی رنگوں والی پانی کے قدرتی جھیل اور اس میں پائے جانے والی ٹراوٹ مچھلی سیاحوں کیلے قابل دید ہے۔ شنگریلا کی خوبصورتی اور آس پاس کے نظاروں کے باعث اس سیاحتی مقام کو زمیں پر جنت کا لقب دیا گیا ہے۔ شنگریلا سے ایک ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلے پر موجود سحر انگیز جھیل جیسے اپر کچورا لیک سے لکھا اور پکارا جاتا ہے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ اس وسیع وعریض قدرتی جھیل کو دیکھنے کے بعد سیاح بوٹنگ کئے بغیر نہیں رہ سکتی اور اس جھیل کے کنارے سیاحوں کی خدمت میں بیٹھے ہوئے ملاح خندہ پیشانی سے سیاحوں کو جھیل کی سیر کرانے اور انہیں اس جھیل کی تاریخ بتانے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ ویسے تو اس جھیل میں مختلف شہروں اور ممالک سے اپنی فیملی سمیت سکون اور ریلکس کے غرض سے آنے والے سیاحوں کو سیر کرانے والے کشتی اور دیسی ساختہ رافٹ کے مالکان کرایہ وصول کرتے ہیں لیکن انکی محبت پیار اور خلوص سیاحوں کو کرایہ لینے کی احساس ہونے نہیں دیتا کیونکہ وہ سیاحوں کو اس علاقے کی تاریخ یہاں کی ثقافت اور رسم ورواج کے بارے میں آگاہی دیتے ہیں۔ سیاح اس جھیل کی سیر کے بعد خوشی خوشی انہیں معاضہ ادا کرتے ہیں اور کئی بارپیچھے مڑکے ایسے انداز میں چلے جاتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ اس کے پاؤں واپس جانے میں اس کے ساتھ نہیں دیتے۔ واقعاً پاؤں کیسے اس کے ساتھ دیں کہ ان حسین اور دل کو سکون ملنے والی جہگوں کو چھوڑ کر جانا کسی کا بھی دل نہیں کرتا۔

 گلگت بلتستان کے ہر علاقہ اور وادی کی روداد بلکل اسی طرح ہے جہاں آنے والے سیاح چاہے وہ ملکی ہو یا غیر ملکی اس خطے کی قدرتی حسُن سے متاثر ضرور ہوتا ہے۔ گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں موجود سیاحتی مقامات ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت ہے اور سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں، چاہے ضلع استور کے راما ہو یا ضلع غذر کے یٰسن ویلی، شگر ہو یا گانچھے، کھرمنگ کے منٹھوکہ ہو یا سکردو کے سدپارہ نگر کے راکا پوشی ہو یا ہنزہ کے لیڈی فنگر، علاوہ ازیں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو ہو یا سیاچن گلیشیر، رگشہ بروم ون ہو یا ٹو، غنڈوغورو ہو یا ننگا پربت، جہان بھی نظر دوڈائیں قدرت کے کرشمے ہمیں بے اختیار ان کی تعریف کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

 انہی ساری نعمات اور وسائل کو مدّنظر رکھ کر سینٹ میں قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر وگلگت بلتستان نے گلگت بلتستان میں سیاحت کو فروغ دینےکیلے پبلک اور پرائیویٹ پارٹنر شب میں ٹورازم پروموشنل بورڈ بنانے کی تجویز دی ہے۔ سینیٹر رحمٰن ملک کا کہنا ہے کہ سوئز لینڈ گلگت بلتستان کی خوبصورتی کا دس فیصد بھی نہیں ہے اور اس خطے کی خوبصورتی پوری دنیا  کیے مثال ہے لیکن اس خطے میں سہولیات نہ ہونے سے سیاحت زوال پزیر ہے۔ انہوں نے گگت بلتستان میں موجود ہوائی اڈوں کی توسیع اور سیاحوں کیلے تمام تر سہولیات فراہم کرنے کو کہا ہے تاکہ اس خطے میں موجود قدرتی وسائل کو  انہی ساری نعمات اور وسائل کو مدّ نظر رکھ کر سینٹ میں قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر وگلگت بلتستان نے  بروئے کار لاسکیں۔

 قائمہ کمیٹی کی اس تجویز اور ہدایت پر اگر عمل در آمد ہوا تو اس خطے کی سیاحت کو فروغ دینے کیلئے قابل فخر اقدام ہے لیکن اس طرح کی باتیں ستر سالوں سے سنتے ہوئے آرہے ہیں اور عمل در آمد کہیں دور تک دکھائی نہیں دیتا۔ کاش اگر پاکستان کے حکمران دیگر ممالک کی طرح اس شعبے کو بھی انڈسٹری کا درجہ دیکر حقیقی معنوں میں سیاحت کو پروموٹ کرے تو معاشی ترقی کے حوالے سے وطن عزیز دنیا میں ایک مستحکم ملک ہوسکتا ہے اور اپنے ملک کے نظام کو چلانے کیلئے کسی دوسرے ملک کے سامنے کشکول اور ہاتھ پیھلانے نہیں پڑیں گے جبکہ اکثر ممالک کو قرضے بھی فراہم کر سکیں گے۔ یہ سب اس وقت ممکن ہے جب اقتدار کے نشے میں مست حکمرانوں کو اس شعبے اور خطے سے دلی لگاؤ اور محبت ہو۔اور اس شعبہ کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس شعبے کی ترقی اور علاقوں کو پروموٹ کریں ۔

کیمٹی کی تجویز ایک لحاظ سے اس شعبے کو پائیدار بنانے اور پاکستان میں سیاحتی صنعت کو دیگر ممالک کے برابر لانے کی ایک بہتریں سوچ ہے۔یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ سیاحت کے فروغ کیلے بورڈ بناتے وقت مختلف ممالک سے سیاحت کے غرض سے وطن عزیز آنے والے سیاحوں کیلے ویزہ پالیسی سمیت دیگر سہولیات کو بہتر بنانے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ گلگت بلتستان میں آنے والے سیاحوں کی بیشتر اوقات یہ شکایت رہتی ہے کہ انہیں مختلف جہگوں پر تحقیقات اور چھان بیِن کے نام پر ہراساں کیا جاتا ہے اور انہیں اذیت پیش آتی ہے۔ ملکی مفاد اور سکیورٹی پوائنٹ آف ویو سے ان سے پوچھ گچھ  ضروری ہے لیکن اس کے طریقہ کار بھی وضع ہونا چاہیئے۔ وطن عزیز میں آنے والے سیاح ہمارے مہمان ہیں اور ان کا عزت واحترام ہمارا فرض ہے۔ ایسے میں ملکی سکیورٹی کو برقرار رکھنے اور سیاحوں کی سکیورٹی بہتر کرنے کیلے اگر ہمارے مختلف اداروں کےذمہ دار ان سے بات چیت اور پوچھ گچھ کرے تو انکی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان سے مہمانوں والارویہ رکھے نہ کہ انہیں ملزم سمجھیں۔ اگر سوچا جائے تو ہمارے ایمبیسز سے ان تمام  سیاحوں کی فہرست اور دیگر کاغذات ملک کے تمام سکیورٹی ایجنسیوں کو فراہم ہونی چاہئیے تاکہ انہیں آسانی سے ان مہمانوں تک رسائی ہو لیکن بد نصیبی سے ایسا نہ ہونے پر سکیورٹی اداروں کے اہلکار ان سے مختلف اینگل سے سوالات کرتے ہیں جو ان سیاحوں کو ناگوار گزرتے ہیں اور واپسی پر مثبت پیغام کی بجائے منفی تاثر لیے چلتے ہیں جس سے سیاحت متاثر ہوتی ہے۔

ان سب باتوں کا خیال رکھتے ہوئے اگر اس شعبے کی ترقی اور علاقے میں موجود مقامات کی مشہوری کیلے کام کریں تو یہ خطہ وطن عزیز کو ایک ماڈل ملک بنا سکتے ہیں اور دنیا بھر سے سیاح نیپال، سویزلینڈ، اور دیگر ممالک کی طرف جانے کی بجائے قدرتی نعمات سے مالا مال خطہ گلگت بلتستان آنے کو تر جیح دینگے جس سے نہ صرف اس خطے کی قسمت بدل سکتی ہے بلکہ پورے ملک کا نقشہ تبدیل ہو سکتا ہے۔ ایسے میں جب سیاحوں کو سہولیات دینے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے تو بلکل اسی طرح ان قدرتی جہگوں کی سیر کےلیے آنے والے سیاحوں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہاں جہگوں کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھتے ہوئے ماحول کو آلودہ ہونے سے بچائے۔ سیاح اپنے ساتھ لے جانے والی چیزوں کی ریپر اور دیگر گندگی پھیلانے والے اشیاء باقاعدہ طریقے سے تلف کریں یا ایسے جہگوں پر رکھیں جواسطرح کے کوڑا کرکٹ کیلے مختص ہو تو نہ صرف یہ سیاحتی مقامات گندہ ہونے سے محفوظ رہے گی بلکہ علاقے کی ماحول اور آب وہواتعفن سے پاک رہے گا، اسطرح سرسبز شاداب پاکستان کی خواب پورا ہوگا 

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments