اپر چترال کے نام سے اعلان کردہ نئے ضلع کا ہیڈ کواٹر مستوج کو بنا یا جائے، ویلج ناظم بروغل و جنرل کونسلر

چترال ( محکم الدین) ویلج ناظم بروغل امین جان تاجک اور جنرل کونسلر ( ر ) صوبیدار نادر خان نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک اور صوبائی حکومت سے پُر زور مطالبہ کیا ہے ۔ کہ اپر چترال کے نام سے اعلان کردہ نئے ضلع کا ہیڈ کواٹر مستوج کو بنا یا جائے ۔ تاکہ بروغل کے محروم و مجبور لوگوں کو بھی سہولت مل سکے ۔

گذشتہ روز میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ۔ کہ مستوج سے بروغل کا فاصلہ 147کلو میٹر ہے ۔ جبکہ یہ فاصلہ مقامی گاڑیاں 10گھنٹوں میں طے کرتی ہیں ۔ ایسے میں مستوج سے بونی کیلئے اُنہیں مزید سفر پر مجبور کرنا اضافی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے ۔ اور غریب لوگوں پر معاشی بوجھ ہے۔ اس لئے انصاف کا تقاضا یہ ہے ۔ کہ مستوج کو ہیڈ کوارٹر قرار دیا جائے ۔ تاکہ ، تورکہو ، موڑکہو ، اویر تک کے لوگوں کو برابر مسافت طے کرنا پڑے ۔ اور بروغل والوں کو ضلعی ہیڈ کوارٹر پہنچنے میں ریلیف ملے ۔

انہوں نے کہا ، کہ بونی کو ہیڈ کوارٹر بنانے کا اعلان عجلت میں کیا گیا ہے ۔ جس کا کوئی جواز نہیں ۔ جبکہ اصل ہیڈ کوارٹر قدیم زمانے سے مستوج رہا ہے ۔ اس لئے اب بھی مستوج کو ہیڈ کوارٹر قرار دے کر نو ٹیفیکیشن جاری کیا جائے ۔

امین جان نے کہا ۔ کہ بروغل کے لوگ انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ اُن کے آباؤ اجداد کے یہاں سکونت اختیار کرنے کے 85سال بعد پہلی مرتبہ بروغل روڈ کی تعمیر کرکے لشکر گاز پہنچا دیا گیا ہے ، جس پر وہ سابق ڈپٹی کمشنر شہید اُسامہ احمد وڑائچ اور موجودہ ڈپٹی کمشنر ارشاد سدھر اور سی ڈی ایل ڈی کے آفیسران کے مشکور ہیں ۔ جن کی کوششوں سے یہ ممکن ہوا ۔ اور بروغل کے بالائی علاقے کے لوگ بھی گاڑیوں کی سہولت حاصل کرنے کے قابل ہوئے ۔ جبکہ اب تک یہاں گھوڑوں اور یاک پر سواری کی جاتی رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ روڈ بروغل ویلی کی ترقی کیلئے ایک سنگ میل ثابت ہو گا ۔ تاہم طویل آمدورفت کی دُشواریاں اب بھی اپنی جگہ پر موجود ہیں ۔ تاہم مستوج کو اگر اپر چترال کا ہیڈ کوارٹر قرار دیا جائے ۔ تو اُن کی مشکلات میں بہت حد تک کمی آ سکتی ہے ۔ اور وزیر اعلی نے اپر چترال ضلع کا اعلان بروغل جیسے چترال کے دور دراز علاقے کے لوگوں کو سہولت دینے کی خاطر کیا ہے ۔

انہوں نے ڈپٹی کمشنر چترال کے دورۂ بروغل ویلی کو علاقے کیلئے انتہائی خوش آیند قرار دیا ۔ اور کہا ، کہ ڈپٹی کمشنر نے علاقے کی مشکلات کا مکمل طور پر جائزہ لیا ہے ۔ اس لئے ہم یہ توقع رکھتے ہیں ۔ کہ انہوں نے جن مسائل کے حل کی یقین دھانی کی ہے ۔ وہ ضرور پورا کریں گے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments