گانچھے کے رحمان بابا کی کہانی

تحریر: عارف نواز بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان

” رحمان بابا، رحمان بابا کوئی کہانی سنائیے ” سکول کےسات آٹھ بچے رحمان بابا کے گرد حلقہ بنا کر بیٹھ گئے۔کیوں کہ وہ بوڑھا آدمی سردی سے بچنے کی خاطر آگ جلائے آگ سینک رہا تھا وہ سارے بچے بھی وہیں آگ کے گرد حلقہ بناتے ہوئے ،کہنے لگے۔

لیکن وہ معمر شخص غالبا کسی گہری سوچ میں گم تھا اپنا بھاری سر اٹھایا جو کہ عمر اور کمزوری کی وجہ سے نیچے کو جھکا ہوا تھا۔

”کہانی ۔۔۔۔۔۔آج کل ہر کوئی اپنے آپ میں ایک مکمل کہانی ہے اور میں خود ایک کہانی ہوں مگر”۔۔۔۔ اس کے بعد کے الفاظ اس نے اپنے پوپلے منہ میں ہی بڑبڑائے شاید وہ اپنی یہ جملہ ان کے سامنے ادا نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ سارے کم عقل اور شاید ان میں اتنی سمجھ نہیں تھی کہ وہ ان کی فلسفیانہ نکات حل کر سکیں۔
آگ کے شعلوں کی عنابی روشنی بچوں کے معصوم چہروں پر ایک عجیب انداز میں رقص کر ہی تھیں ۔ خزاں کی سرد ہوائیں درختوں پے موجود خشک اور بےجاں پتوں کو آگ میں دھکیل رہے تھے اور اس آگ سے نکلنے والی کالی کالی دھواں اس سرد موسم میں زندگی کی نشانی دے رہی تھی۔

آج نہیں کل سناوَں گا ابھی تم سب گھر چلے جاوَتمھارے گھر والے انتظار کر رہے ہونگے” اس نے کمزور گردن کو پھر سے نیچے کرتے ہوئے کہا۔

یہ سن کے ان تمام کے تمتماتے ہوئے چہرے یک دم مرجا گئیں اور ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے شاید آنکھوں سے یہی کہنے کہ کوشش کر رہے تھے کہ آج رات بغیر کہانی سنے سوجانے پڑئیں گے۔

لیکن ان میں سے ایک بچہ فورا کہنے لگا بابا جی آپ نے کل ہم سے وعدہ کیا تھا لیکن آج آپ خود وعدہ خلافی کر نے جا رئے ہیں یہ اچھی بات تو نہ ہوئی نا؟

کہنے لگا ”اچھا اچھا مجھے یاد ہے اپنا وعدہ سناتا ہوں کہا نی ” باباجی مسکرایا۔

”بچو آج آپ لوگوں کو اپنے بیٹے کی کہانی سناتا ہوں”۔

باباجی کہنے لگے

”ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی کی بات ہے ہم سب ایک خوش حال زندگی گزار رہے تھے ۔میں پہلے محنت مزدوری کیا کرتا تھا لیکن بڑھاپے نے مجھے گھر کی احاطے تک محدوط کر دیا ۔لیکن میرے بیٹے نے اس وقت میرا ساتھ دیا اور سارے گھر کی بھاگ دوڑ اس نے اپنی کندھوں پے لےلیا۔

وہ مزدوری کے لئے دوسرے شہر چلا گیا اور وہاں سے ہر مہنیے گھر چلانے کے لئے پیسے بھیج دیا کرتا تھا اس طرح ہم سب گھر والے ایک آرام زندگی گزر رئے تھے۔وہ ہمارئے گھر کا واحد کفیل تھا۔ بیٹے کی شادی نہیں ہوئی تھی جب ان سے شادی کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا بابا ابھی مجھے بہت سارا کام کرنا ہے ابھی میں شادی نہیں کر سکتا۔

وہ جب بھی شہر سے چھٹیوں پہ گھر آتا تو اپنے ساتھ کافی سارا سامان گھر والوں کے لئے بھی لے آیا کرتا تھا۔وہ باب کی طرح گھر والوں کا خیال رکھا کرتا تھا لیکن ۔۔باباجی یہاں تک پہنچ کر رک گیا ، ان کی آنکھیں جو ہمیشہ ایک ناقابل انداز میں چمکتی رہتی تھیں ، یک دم دھندلی پڑ گئیں۔ان کی چہرے کی تبدلی سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے زبردست ذہنی تکلیف کا سامنا کر ہا تھا۔ چند لمحات کے توقف کے بعد وہ پھر سے گویا ہوا۔

میرا بیٹا ایک ہوٹل میں کام کیا کرتا تھا اور اسی ہوٹل میں ہمارئے علاقہ کے اور بھی کافی لڑکے بھی کام کر رہے تھے ان میں سے بھی اکثر اپنے گھر والوں کے واحد کفیل تھے ۔سردی کا موسم تھا اس لئےسردی سے بچنے کی خاطر ان لوگوں نے سارئے ہوٹل کو پلاسٹک سے بند کر دئے تھے ۔لیکن۔۔۔

رحمان بابا یہاں تک پہنچ کے پھر سے رک گیا لیکن اس بار ان کی دھندلی آنکھیں بلکل نم ہوگئے تھے ۔
یہ دیکھ کے بچوں کے بھی معصوم اور روشن آنکھیں نم ہوگئیں ۔وہ آنسو آنکھوں سے گر کے آگ کی شعلوں میں اپنا وجود کھو رہے تھے ۔

آگ کی عنابی روشنی جب ان آنسووں پہ پڑ رہے تھے ،ایسا لگتا تھا جیسے شبنم گلاب کی پتیوں سے نیچے گر رہے ہوں ۔
خیر انہی بچوں میں سے ایک پھر سے گویا ہوا ” بابا جی آگے کیا ہوا تھا؟”

باباجی نے اس کی معصوم چہرے کی طرف نظر ڈالی ، ایک سرد آہ کے ساتھ کہنے لگا۔۔

”جب وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ رات کو ہوٹل کے کمرے میں سو نے کی تیاری کر رہے تھے تو انہوں نے سردی سے بچنے کی خاطر تندور سے کولے نکال کے اپنے کمرے میں رکھ دیے اور سب سو گئے ۔لیکن کس کو خبر تھی کہ یہ ان کے زندگی کی آخری رات ہوگی۔

آگلے دن 5 دسمبر 2017 صبح جب کمرے کے اندر سے کوئی جواب نہ آیا تو باہر سے کمرے کا دروازہ کھولا تو میرا اور میرے گھر کا واحد سہارا اپنے باقی چار ساتھیوں سمیت اس فانی دنیا کو خیرباد کہہ کے ابدی نیند سو رہے تھے”۔

اسطرح میرا بڑھاپے کا واحد سہارا ہمیں بے یار و مدد گار اس دینا میں چھوڑ کر چلا گیا اب گھر میں کوئی کمانے والا نہیں ہے اور بغیر کسی کمانے والے کے زندگی کتنی مشکل ہوتی ہے ۔۔۔۔ یہ جملہ بولتے بولتے باقی کے الفاظ اس نے اپنے منہ میں ہی بڑبڑائے شاید وہ اس لئے خاموش ہوگئے کیوں کہ ”زندگی” کس شے کا نام ہے یہ بات ان کمزور ذہن کے بچوں کی دسترس میں نہیں تھا ۔

انہی میں سے ایک لڑکے نےپھر سے سوال کیا

”باباجی پھر گورنمٹ نے کوئی مالی امداد وغیرہ نہیں کی؟ کیوں کہ ہم نے تو سنا تھا کہ جب کبھی خدانخواستہ اگر اس طرح کا کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو صوبائی اور وفاقی گورنمنٹ ان لوگوں کی مالی امداد کیا کرتے ہیں” ۔ وہ لڑکا یہاں تک کہتے کہتے خاموش ہوگیا۔

رحمان بابا نے بھر سے ایک سرد آہ کے ساتھ آسمان کی طرف دیکھا پھر بچے سے گویا ہوا ۔۔۔

نہیں بیٹا! ۔۔ ” نہ ہماری صوبائی حکومت نے کوئی مدد کی اور نہ ہی وفاقی حکومت کی طرف سے کوئی مدد ملی ہے”۔

باباجی نے اپنی بات یہیں ختم کردی ۔

سارے بچوں نے کہا باباجی ہم سب دعا کرتے ہیں کہ ہمارے حکمرانوں کے دلوں میں خوف خدا پیدا ہو اور ان کو آپ اور باقی تمام لوگوں کی مدد کرنے کی توفیق دیں ۔آمین۔

لڑکے اٹھے اور باباجی کو شب بخیر کہتے ہوئے چلے گئے۔ باباجی کی نگاہیں ان کو تاریکی میں گم ہوتے دیکھ رہی تھیں۔ تھوڑی دیر اسی طرح دیکھنے کے بعد وہ اٹھا اور گھر کا دروازہ بند کرتے ہوئے بولا۔

آہ،” حکمران کب اپنی

آپ کی رائے

comments