ہڑتالیں نہیں المیہ

تحریر: فہیم اختر

گلگت بلتستان کی موجودہ صورتحال یقیناً’المیہ‘کی صورتحال اختیار کرگئی ہے ۔ صوبائی حکومت کو ہزہائینس پرنس کریم آغا خان کے دورہ کے بہانے سے ملنے والا طویل دورانیہ بھی کارآمد ثابت نہ ہوسکا۔اس دوران صرف چند ہی دوکانداروں کو حکومت اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہوگئی ۔ حکومت چاروں طرف سے گھیراؤ میں ہے اور دباؤ کا شکار ہے ۔ ایک طرف وزراء، معاونین اور مشیروں کا غیر معمولی حجم رکھا ہوا ہے دوسری جانب وزیراعلیٰ کے اپنے حلقے بلکہ اس کے گڑھ سے اس ہی کے خلاف دھرنے اور نعرے بلند ہوگئے ۔ تیسری جانب سوشل میڈیا میں ایک ماں کے ساتھ ’ہتک‘آمیز رویہ کی ویڈیو وائرل ہوچکی ہے جہاں خرچے کے لئے ’چار ‘پیسے دئے جارہے ہیں معلوم نہیں چار میں سے ’دو ‘پیسے بھی دئے گئے ہیں یا نہیں ۔ اور چوتھی طرف سے شٹرڈاؤن کا انتہائی بڑا احتجاج ہے۔

بروز جمعرات ہونے والا احتجاج گلگت بلتستان میں ’گود لئے گئے ‘ ٹیکسز کے خلاف مسلسل دوسرا احتجاج ہے جبکہ اس سے قبل بھی پچھلے سالوں میں بھی احتجاج ریکارڈ پر ہے ۔ حکومتی تمام حربے استعمال ہونے کے باوجود تقریباً کامیاب شٹرڈاؤن آئینہ دیکھنے کے لئے کافی ہے کہ حکومت کو فیصلے کب اور کیسے کرنے چاہئے ۔ گلگت بلتستان میں مسلم لیگ ن کی صوبائی حکومت کو اڑھائی سال کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن حکومت اب تک یہ چیز سمجھنے میں ناکام ہے کہ انہوں نے ’کڑوے ‘فیصلے کرنے ہیں یا ’میٹھے ‘فیصلے کرنے ہیں۔ ایک طرف وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن مسلسل ٹیکسز کو علاقائی مفاد کے لئے بہتر اور مفید تصور کرتے ہوئے اسمبلی ،اجلاسوں سمیت عوامی ’ملاقاتوں‘ میں بھی زور و شور سے بول رہے ہیں ۔

وزیراعلیٰ کا یہ موقف صرف موجودہ حکومت بننے کے بعد کا نہیں بلکہ 2012میں بھی حافظ حفیظ الرحمن نے بحیثیت چیف آرگنائزر پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹیکسز لگانے کی حمایت کی تھی ۔ وہ صورتحال اب تک دلچسپ سمجھی جارہی ہے جب پیپلزپارٹی کے منتخب ممبران اپنی ہی وفاقی حکومت کے خلاف ٹیکسز کے نفاز کے خلاف چلارہے تھے جبکہ اپوزیشن سے حافظ حفیظ الرحمن ٹیکسز کی حمایت میں کھڑے تھے ۔ حافظ حفیظ الرحمن کے پاس اس وقت بھی دلیل تھی کہ ٹیکسز سے چھوٹے تاجر اور عام آدمی متاثر نہیں ہوگا اور آج بھی یہ دلیل کار آمد ہے ۔ 4سالوں میں کسی بھی عام آدمی سے ٹیکسز نہیں کٹے ہیں۔ جو لوگ اس علاقے سے ’خوب ‘کمارہے ہیں بچوں کو مفت تعلیم دلارہے ہیں، ہسپتال ، سڑک ، پانی اور بجلی کی سہولیات کے مزے بھی لے رہے ہیں انہیں ٹیکسز دینے میں سخت دشواریوں کا سامنا ہے ۔ لیکن حکومت سنبھالنے کے بعد مسلم لیگ ن اور حکومتی کابینہ بھی اس حوالے سے ایک پیج پر متفق نظر نہیں آرہی ہے حکومتی موقف کی ترجمانی کرتے ہوئے وزراء نے کئی جگہوں پر علی الاعلان کہہ دیا ہے کہ حکومت کسی بھی صورت ٹیکسز کا نفاز نہیں چاہتی ہے اور ٹیکسز کی موجودہ صورتحال میں حکومت عوام کے ساتھ کھڑی ہے ۔ یہ موقف اپناتے ہوئے حکومت کے پاس سابق حکومت کے اس ’اقدام ‘ پر تنقید کرنے کا راستہ بھی کھل جاتا ہے ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ وزیراعلیٰ کے ٹیکسز کے حق میں ’بھاشن ‘دینے کے باوجود حکومت کو چھوٹے ٹیکسز کے خاتمے کے لئے اقدامات کرنے پڑے ۔ اب دیگر ٹیکسز پر بھی حکومت ٹیکس مخالف تحریک کو ’رام‘ کرانے میں مکمل ناکام ہے ۔

احتجاج اور ہڑتال کے بعد فیصلے واپس لینے سے تو بہتر ہے کہ پہلے ہی اس صورتحال کو دیکھ لیا جائے کہ اس کا عوامی سطح پر رد عمل کیا آسکتا ہے ۔ حکومت مشیروں میں اضافہ کرنے کی بجائے ’مشورے‘ کو وسعت دیدے ۔ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل پس منظر اور پیش منظر پر نگاہ دوڑائیں تاکہ معلوم پڑجائے کہ فیصلے کے اثرات کیا ہوسکتے ہیں۔ اس سے قبل بھی لکھا جاچکا ہے کہ گلگت بلتستان میں حکومت کرنا جتنا آسان ہے اتنا ہی مشکل بھی ہے ۔ یہاں کی مثال اس قدیم بستی کی ہے جو صرف ایک سال کے لئے بادشاہ کا انتخاب کرتی تھی لیکن اگلے ہی روز اسے خونخوار جانوروں کے سامنے پھینکتی تھی ایسی صورتحال میں ’کڑوے ‘ فیصلے کرنا آسان نہیں ہے ۔ہم یوں ہی تیار رہتے ہیں کہ کوئی ’بلائے ‘ تو صحیح سڑکوں پر
ہم محبت کی انتہا کردیں گے
ہاں!مگر ابتداء کرے کوئی

دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران (جنہوں نے ہڑتال کی ہے) کو بھی سنجیدگی سے سوچ لینے کی ضرورت ہے کہ علاقائی بدلتے ہوئے صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے کسی بھی اقدام کا کیا اثر ہوسکتا ہے ۔ بدلتا ہوا گلگت بلتستان کسی بھی حکومت کا محتاج نہیں لیکن یہ حرکتیں کسی بھی صورت میں گلگت بلتستان کے حق میں نہیں ہے ۔ شاید اس وقت گلگت بلتستان دنیا کا واحد خطہ ہوگا جو نمائندگی کے عوض ٹیکسز کا مطالبہ کررہا ہے جبکہ دنیا بھر میں آج ٹیکسز کا معاوضہ سہولیات ہیں ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہڑتال کی کال تقریباً کامیاب ہوگئی لیکن اس کے بیرونی دنیا پر کیا اثرات پڑیں گے ۔ گزشتہ ہڑتال کو جس انداز میں بھارتی میڈیا نے ’دکھا یا‘ ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔ یہ بات صرف اس لئے کہی جارہی ہے کہ ایسی تحریکوں کے سٹیج سے سب سے پہلا جملہ یہ ہوتا ہے کہ ’ہم محب وطن پاکستانی ہیں‘۔ انڈین میڈیا نے گزشتہ ہڑتال کو گلگت بلتستان کی پاکستان سے بغاوت سے تشبیہ دیدی جس پر عوامی ایکشن کمیٹی کو دوبارہ اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لئے سپہ سالار اعلیٰ جنرل قمر جاوید باجوہ کا تصویر پر مبنی بینر سر پر سجائے جلسہ کرنا پڑا ۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے ’بانی ‘ اجلاس سے لیکر اب تک میں نے اسی ڈگر پر لکھا ہے جس کا میں نے مشاہدہ کیا ہے ۔ اور جسے علاقے کے لئے صحیح سمجھا ہے ۔ میں نے جان بوجھ کر اس کالم کی ابتداء ’المیہ ‘ سے کی ہے کیونکہ جس کہانی کا راستہ ، سفر اور منزل دردناک ہو تو وہ المیہ ہی بن جاتا ہے ۔ گلگت بلتستان نے پہلی مرتبہ علاقے میں ترقیاتی کام دیکھا ہے ۔ چائینہ پاکستان اقتصادی راہداری جیسے اہم منصوبے کے گزرسے امیدیں بندھ گئی ہیں ۔ مقامی زبانوں پر پہلی مرتبہ تاریخی کام ہورہا ہے ۔ علاقے میں امن و امان کی مکمل بحالی کا مشاہدہ کیا جارہا ہے ۔

سیاسی تحریکوں کا سفر زور و شور سے آگے بڑھ رہا ہے ۔ عوامی سطح پر ’شعور ‘ کے لئے دروازے کھل رہے ہیں ۔ ایسی صورتحال میں ’معمولات ‘ کا متاثر ہونا حکومت کے لئے نہیں ’ریاست ‘ کے لئے مسئلہ ہے ۔ عوامی طاقت اختیار کرنے کی بجائے انجمن تاجران اور عوامی ایکشن کمیٹی کو فہم و فراست کا استعمال کرنے کی ضرورت ہے ۔ ورنہ سانپ کو مارنے کے لئے لاٹھی کی قربانی دینی پڑے گی جو سفر کا سہارا ہے ۔
صورتحال کو کسی شاعر نے یوں بیان کیا ہے کہ
شعر کی صورت میں اپنی راج دھانی بیچ کر
دو نوالے ہی ملے ۔۔ آنکھوں کا پانی بیچ کر

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments