گلگت بلتستان میں سیاحتی انقلاب اور قومی میڈیا کی ذمہ داری

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

رشید ارشد

تین سال قبل دنیا کے خوبصورت علاقے گلگت بلتستان میں غیر ملکی سیاح تو درکنار ملکی سیاح بھی جانے سے پہلے کئی دفعہ سوچتے تھے ،نہ امن تھا تو نہ سکون ،نہ شاہراہیں تو نہ سیاحوں کیلئے سہولیات ،بڑے بڑے سیاحوں کیلئے بنائے گئے ہوٹل ویران ہو گئے تھے ،ہر طرف خوف کے سائے منڈلا رہے تھے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت لسی پی کر سو چکی تھی۔ نیند سے جاگتی تھی تو نوکریوں کی فروخت اور کرپشن میں مصروف ہوتی تھی ۔ اسے کوئی غرض نہیں تھی کہ گلگت بلتستان کا امن تباہ ہو چکا ہے ،سیاحت کا شعبہ تباہی کے دھانے پر پہنچ گیا ۔ پی پی کی حکمرانوں نے شاید یہ تسلی کر رکھی تھی کہ ہم آخری دفعہ حکومت کر رہے ہیں اس لئے اتنا مال جمع کیا جائے کہ باقی کی زندگی عیش و آرام سے گزرے۔ پی پی کے دور میں گلگت بلتستان کے تمام شعبے تباہ و برباد ہوئے ہاں البتہ ایک کام بہت ہی لگن اورایمانداری سے کیا جاتا تھا اس کا نام ہے کرپشن ،خیر آج کا موضوع نہیں۔

مسلم لیگ ن کی حکومت نے آتے ہی وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے سب سے پہلے گلگت بلتستان میں امن قائم کر دیا اور آج گلگت بلتستان کے امن اور محبتوں کے ماحول کی مثالیں دی جاتیں ہیں۔ یہ امن بہت ساری قربانیوں کے مرہون منت ہے۔ من قیادت کے اخلاص اور محنت سے آتا ہے ،قیادت مخلص نہ ہو تو محبتوں کا ماحول نفرتوں میں بدل جاتا ہے ،امن کے قیام کے بعد حکومت نے سب سے پہلے گلگت بلتستان کودنیا بھر کے سیاحوں کیلئے توجہ کا مرکز بنانے کیلئے عملی اقدامات کئے ،شاہراہوں کی تعمیر کی گئی ،سیاحوں کی آگاہی کیلئے حکومتی سطح پر بہت سارے اقدامات کئے گئے ،ہوٹل انڈسٹری کو فروغ دیا گیا۔ دنیا بھر میں گلگت بلتستان کے قدرتی حسن کو اجاگر کرکے سیاحوں کو متوجہ کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کئے گئے۔ ان حکومتی اقدامات کا نتیجہ یہ نکلا کہ گلگت بلتستان دنیا بھر کے سیاحوں کیلئے توجہ کا مرکز بن گیا۔ اس برس لاکھوں سیاحوں نے گلگت بلتستان کی جنت نظیر وادیوں کا رخ کیا۔

گلگت بلتستان حکومت کے اقدامات اپنی جگہ تاریخ ساز ہیں لیکن یہاں ایک بات قابل افسوس ہے کہ ملک کے قومی میڈیا کا کردار اس حوالے سے قابل ذکر کھبی بھی نہیں رہا۔ آج میڈیا کا دور ہے،اگر میڈیا اپنی توجہ گلگت بلتستان کی حسن سے بھر پور وادیوں کی طرف مبذول کرے تو گلگت بلتستان کے سیاحتی شعبے میں دن دگنی ترقی ہو سکتی ہے۔ دنیا کے اکثر ممالک نے سیاحت کو انڈسٹریز کا درجہ دیا ہے اور اس شعبے سے ریونیو حاصل کیا جاتاہے لیکن قابل افسوس عمل ہے کہ ہمارے ہاں اس اہم شعبے کی طرف توجہ نہیں دی گئی ،حالانکہ دنیا کے سب سے زیادہ خوبصورت مقامات ،سب سے اونچے پہاڑ ،خوبصورت ،آبشاریں اور گلیشئر گلگت بلتستان میں ہیں۔

گلگت بلتستان دنیا کا وہ حسین اور منفرد خطہ ہے جہاں نہ صرف خوبصورتی اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہے بلکہ دنیا کی خوبصورت اور منفرد تہذیبوں کا مسکن بھی گلگت بلتستان ہے۔ گلگت بلتستان کو سیاحوں کی جنت کہا جاتا ہے ،ہر طرف قدرت کے حسین نظارے بکھرے پڑے ہیں لیکن اس کے باوجود سیاحت کے شعبے سے ہم اپنی معیشت کو بہتر نہیں بنا سکے۔ دنیا کے بہت سے ممالک نے سیاحت کو معیشت کے لئے سیڑھی بنایا۔

ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں اوسطاً دس لاکھ کے قریب غیرملکی سیاحت کے لیے آتے ہیں اور 2017 میں 136 ممالک کی فہرست میں پاکستان کا 124 واں نمبر ہے۔پاکستان 2015 میں 141 ممالک کی فہرست میں 125 ویں نمبر پر موجود تھا۔اعداد وشمار کے مطابق ملک میں آنے والے سیاحوں کی بدولت ملکی معیشت میں فی کس 328.3 امریکی ڈالرجبکہ مجموعی طور پر30 کروڑ 17 لاکھ ڈالر آمد کا تخمینہ لگایا جارہا ہے جو قومی معیشت میں سیاحت کی مد میں 2.8 فی صد کا حصہ بنتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ممالک کی ویزا پالیسی کی درجہ بندی میں پاکستان کی بدترین پوزیشن ہے جہاں 136 ممالک میں 135 واں نمبر ہے جبکہ حکومت کی سیاحتی ترجیحات کی فہرست میں پاکستان 136 ممالک میں 132 نمبر پر ہے۔پاکستان سیاحت کی صنعت میں بہترین کی فہرست میں 128 اور سیاحوں کو راغب کرنے کی حکمت عملی میں 125 واں نمبر ہے۔ملک میں سیاحت کے انفراسٹکچر میں 123 واں نمبر جبکہ ہوٹل کے کمروں کی درجہ بندی میں 129 واں نمبر ہے۔خیال رہے کہ پاکستان میں سیاحوں کو اپنے طرف متوجہ کرنے والے عالمی ثقافتی ورثے کی تعداد 36 ہے اسی لیے پرکشش قدرتی اثاثوں میں 127 نمبر ہے۔سیاحت کی صنعت کا عالمی معیشت میں 7 کھرب اور 6 ارب ڈالر کا حصہ ہے جو دنیا کی معیشت کا 10.2 فی صد بنتا ہے جبکہ 2016 میں 20 کروڑ 92 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیاحت کے لیے قدرتی ماحول کی اہمیت کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی کے باوجود سیاحت کو ترقیاتی کاموں میں عدم تسلسل جیسے شدید مشکلات کا بھی سامنا ہے۔سیاحت کی درجہ بندی میں اسپین، فرانس اور جرمنی بدستور سرفہرست ہیں لیکن ایشیا نے سیاحوں کے لیے موزوں ماحول کے باعث خطے کی بڑی معیشت کے طور پر پہلا نمبر حاصل کرلیا ہے۔ایشیا کی بڑی مارکیٹیں نہ صرف ایک بڑا ذریعہ ہیں بلکہ دلکش ترین مقامات بھی ہیں۔پاکستان کے علاوہ ایشیا کے دیگر ممالک نے بھی اپنی پوزیشن بہتر بنائی سوائے جاپان، ہانگ کانگ، چین، جنوبی کوریا اور ملائیشیا کے لیکن یہ ممالک سرفہرست 30 ممالک میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔بھارت نے اس فہرست میں سب سے زیادہ ترقی کرتے ہوئے سرفہرست 50 ممالک میں اپنی جگہ بنالی ہے۔

ان تمام ممالک سے زیادہ سیاحتی مواقع پاکستان اور گلگت بلتستان میں ہیں اگر ان گلگت بلتستان کے سیاحتی مقامات اور گلگت بلتستان حکومت کے سیاحتی اقدامات کو قومی میڈیا کوریج دے تو یم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ گلگت بلتستان کی سیاحت سے نہ صرف گلگت بلتستان خود کفیل ہو سکتا ہے بلکہ ملک کے قومی خزانے میں میں ریونیو جمع ہو سکتا ہے اس لیے قومی میڈیا پرنٹ ہو یا الیکٹرانک ہو اس کی زمہ داری ہے کہ اپنے ملک کے خوبصورت علاقے کی دنیا بھر میں تشہیر کریں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments