گلگت بلتستان کو این ایف سی ایوارڈ میں حصہ ملنے تک پنجاب حکومت سالانہ ایک ارب کی خصوصی گرانٹ دے گی

اسلام آباد (پ ر) پنجاب حکومت نے گلگت بلتستان کے عوام کی خدمت اور محبت میں ایک مرتبہ پھر دیگر صوبوں کو پیچھے چھوڑ دیا ایک ارب روپے کی خصوصی گرانٹ گلگت بلتستان حکومت کے حوالے جبکہ این ایف سی ایوارڈ میں گلگت بلتستان کو حصہ ملنے تک سالانہ بنیادوں پر ایک ارب کی خصوصی گرانٹ پنجاب حکومت گلگت بلتستان کو دے گی۔

تٖفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی سربراہی میں اقتصادی رابطہ کونسل کے ایک اہم اجلاس میں گلگت بلتستان آزاد کشمیر اور فاٹا کو این ایف سی ایوارڈ میں حصہ دینے کیلئے ووٹنگ کرائی گئی تھی جس میں پنجاب اور بلوچستان نے گلگت بلتستان کو این ایف سی ایوارڑ میں حصہ دینے کی حمایت کی جبکہ سندھ اور کے پی کے کے وزرائے اعلی نے مخالفت کی جس پر این ایف سی ایوارڑ کا معالہ لٹک گیا اور اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ جب تک گلگت بلتستان ،آزاد کشمیر اور فاٹا کو این ایف سی میں شامل کرنے کے حوالے سے اتفاق رائے پیدا نہیں ہوتا این ایف سی ایوارڑ کو حتمی شکل نہ دی جائے۔ اس ضمن میں پیش رفت جاری تھی اور وزیر اعلی گلگت بلتستان بھر پور کوشییں کر رہے تھے ،لیکن میاں محمد نواز شریف کی وزارت عظمی ختم ہو گئی۔

پنجاب حکومت نے وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کی گلگت بلتستان میں عوامی خدمات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ جب تک این ایف سی ایوارڑ میں گلگت بلتستان کو حصہ نہیں ملتا اس وقت تک پنجاب حکومت گلگت بلتستان کیلئے سالانہ ایک ارب روپوں کی سپیشل گرانٹ جاری کرتی رہے گی۔ اسی مد میں وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر گزشتہ روز گلگت بلتستان حکومت کو ساٹھ کروڑ کا چیک حوالہ کر دیا گیا جبکہ چالیس کروڑ روپے کی خطیر رقم سے گلگت بلتستان کے تمام ہسپتالوں کیلئے جدید مشنیری جن میں چالیس ڈیجیٹل ایکسرے مشین اور پنتیس ڈائلا ئسسز مشیں شامل ہیں خر یدی جا ئیں گی۔ جس کیلئے پنجاب حکومت نے باضابطہ ٹینڈر جاری کر دئے ہیں ،اور جلد یہ جدید مشینیں گلگت بلتستان کے تمام ضلعوں میں موجود ہسپتالوں میں نصب کر دی جائیں گی ۔

دوسری جانب ساٹھ کروڑ کی خطیر رقم سے گلگت میں شہید سیف الرحمن کے نام سے قائم جدید ہسپتال کو اپ گریٹ اورتمام سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا۔

وزیر اعلی گلگت بلتستان نے اس ضمن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں جو ترقیاتی کام اور صحت کے شعبے میں بہتری آرہی ہے وہ ہمارے عوامی ٹیکسوں اور سالانہ ملنے والے بجٹ سے ممکن نہیں۔ پنجاب جیسے مخلص اور عوام دوست صوبے کی وجہ سے گلگت بلتستان کے عوام مستفید ہو رہے ہیں جبکہ دوسری جانب کے پی کے اور سندھ حکومت ایک روپیہ تو درکنار گلگت بلتستان کے طالب علموں کیلئے اپنی کالجز اور یونیورسٹیوں میں ایک سیٹ کا اضافہ تک کرنے سے قاصر ہیں اور عوام سے محبت اور ہمدردیوں کے بلند بانگ دعوے ان کی منافقانہ سیاست کا شاخسانہ ہیں۔ گلگت بلتستان کی عوام کو دوست صوبوں اور محبت کرنے والے عوامی رہنماؤں کی پہچان اور قدر کرنا لازم ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں گلگت بلتستان کے ان سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مخاطب ہوں جن کی حکومتیں سندھ اور کے پی کے میں ہیں وہ گلگت بلتستان کے عوام کو گمراہ کرنے کے بجائے اپنی صوبوں کی حکومتوں کو قائل کریں کہ این ایف سی ایوارڑ اور دیگر حقوق کے حصول میں گلگت بلتستان کی حمایت کریں صرف اپنی سیاسی دوکانیں چمکانے کے لئے عوام کو بے قوف بناناچھوڑ دیں اور ترقی کیلئے حکومت کا ہاتھ بٹائیں۔

وزیر اعلی نے مزیدکہا کہ حکومت پنجاب کے عوام سے ٹیکس کی مد میں حاصل ہونے والی رقم سے جو کہ پنجاب کے عوام پر خرچ ہونی چاہئے اس میں گلگت بلتستان کو بھی حصہ دینے پر گلگت بلتستان کے عوام پنجاب کے عوام اور حکومت کا جتنا شکریہ ادا کریں کم ہے اور مجھے یہ بتاتے ہوئے کوئی عار محسوس نہیں ہوتی کہ شہبازشریف صرف پنجاب کے خادم اعلی نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے عوام بھی انہیں اپنے محسن کا درجہ دیتے ہیں

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments