ہندور کا مشاعرہ اور بجایوٹ کی ڈھلتی شام (قسط دوم)

فکرونظر: عبدالکریم کریمی

گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔۔۔ نیت شاہ قلندر پہلے ہی کچھ احباب کے ساتھ روڈ پہ ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ نیت شاہ کے ساتھ ان کا بڑا بھائی، گاؤں کے معززین، بابائے حریپ استاد حاجت قبول اور ایک ڈاکٹر صاحب بھی تھا جس کا نام ذہن سے نکل گیا۔ نیت شاہ کے بڑے بھائی جو فوج سے حولدار ریٹائرڈ ہیں، نے ان معززین کا تعارف کراتے ہوئے جب ڈاکٹر صاحب کا تعارف کرنے لگے تو یہ کہنا بھی مناسب سمجھا کہ موصوف بچوں کے ختنہ کا ڈاکٹر ہے۔ یہ سننا تھا کہ تاج صاحب کی حس مزاح جاگ اٹھی اور سرگوشی میں مجھے کہتا ہے کہ ’’نیت شاہ نے نہ جانے ختنہ کے ڈاکٹر کو کیوں بلایا ہے اب تو ساتھیوں میں سے کسی کو ڈاکٹر صاحب سے تعاون کرنے کی ضرورت ہوگی۔‘‘ میں نے کہا ’’سر بجا فرمایا آج ہمارے ساتھ جو نیا شاعر ہوگا اس کا سنت کرانا لازمی ہے آخر حلقہ اربابِ ذوق میں داخلے کی بھی کوئی شرط ہونی چاہئیے۔

یہ تو وہی بات ہوئی ایک دفعہ ایک ہندو مسلمان ہوا تو اس کا ختنہ کراکے اس کو اسلام میں داخل کرایا گیا تھا لیکن جلد ہی اس کو پشیمانی ہوئی وہ واپس ہندو بننا چاہتا تھا مولوی کے پاس جاکے کہنے لگے میں دوبارہ ہندو بننا چاہتا ہوں اس کی کیا شرط ہے۔ مولوی صاحب فرمانے لگے آپ کا سر کاٹنا پڑے گا۔ وہ بندہ بہت حیران ہوا کہنے لگے مولوی صاحب یہ کیسا دین ہے یہاں آنے کے لیے نیچے سے کاٹنا پڑتا ہے اور یہاں سے جانے کے لیے اوپر سے۔ تاج صاحب بہت ہنسے اور کہا ہمارے ساتھ ایک نئے شاعر آئے ہیں بس آغاز اس سے کر لیتے ہیں انجام خدا جانے۔ مجھے شرارت سوجھی میں نے کہا ’’سر کون ہے وہ کم بخت کہ جس کو اس امتحان سے گزرنا ہے۔‘‘ تاج صاحب نے فرمایا ’’مشاعرے میں کلام سے ہی پتہ لگ جائے گا۔ تھوڑا انتظار کیجئیے۔‘‘

تاج صاحب کی ان باتوں سے محظوظ ہوتے ہوئے ہم نیت شاہ کے گھر پہنچے۔ بچوں نے انگریزی میں ویلکم پوئم کے ساتھ مہمانوں پر پھولوں کی پتیاں ڈال کر  خوش آمدید کہا۔ دوپہر کے کھانے کا وقت تھا۔ دسترخوان پر طرح طرح کھانے سجائے گئے تھے۔ غذر میں یہ مذہبی روایت کا حصہ ہے کہ کھانے کے بعد شکرانے کی دعا کی جاتی ہے۔ جس میں اس رزق پر اللہ کا شکر ادا کیا جاتا ہے۔ اس لیے مجھے توقع تھی کہ یہاں بھی ایسا ہوگا مگر اس دوران ابھی کھانا ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ ایک آدھ نے وہاں ہی جرابیں اتار کر دسترخواں پھلانگتے ہوئے ساتھ والے کمرے میں نماز پڑھنے گئے۔ نمازی کچھ دوستوں نے سبزی پر ہی اکتفا کیا کہ گوشت کھانے سے ان کے ایمانی پیٹ میں درد ہونے کا اندیشہ تھا۔ یہاں وہ محاورہ یاد آیا کہ علاج سے احتیاط بہتر ہے۔ بہت اچھی بات ہے سفر میں اپنی صحت و ایمان کا خیال رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ سبزی کے تذکرے سے ایک لطیفہ یاد آیا۔ ہنزہ کے میرے ایک دوست سنا رہے تھے کہ ایک دفعہ ایک شیخ صاحب ہمارے ہاں مہمان ٹھہرے۔ شیخ صاحب ہمارے خاندان کا آدمی تھا لیکن شیخ بننے کے بعد وہ ہم سے دور دور ہی رہا کرتے تھے۔ جب وہ مہمان بنے تو مہمان کے اعزاز میں بڑی خاطر مدارت ہوئی۔ جب دسترخواں پہ کھانا سج گیا تو شیخ صاحب سبزی تک ہی محدود رہے شاید ان کو بھی اپنے ایمانی پیٹ میں درد کا خدشہ تھا۔ میزبان نے حیرانگی سے کہا کہ ’’یہ کیسا شیخ ہے  کھاد سے اگی ہوئی سبزی تو شوق سے کھاتا ہے لیکن جس ذبیحہ پر اللہ کا نام لے کر ذبح کیا گیا ہے اس گوشت کو کھانے سے ڈرتا ہے۔‘‘ ہم یہ لطیفہ سن کے بہت ہنسے تھے۔ آج پھر جب کچھ دوستوں نے گوشت کے مقابلے میں سبزی کو ترجیح دی تو بے اختیار وہ شیخ صاحب یاد آگئے تھے۔

خیر اس پر پھر کبھی تفصیل سے بات ہوگی یہاں اس مسلے کا ذکر کرکے اس خوبصورت سفرناے کے مزے کو کرکرا نہیں کرنا چاہتا۔ ہاں دل سے ایک ٹیس ضرور اٹھی کہ جب پڑھے لکھے لوگوں کی یہ حالت ہے تو عام بندے کا کیا حال ہوگا۔

کھانے کے بعد ہندور کی خوبانیوں سے لطف اندوز ہوئے۔ اور اب مشاعرے کی طرف رختِ سفر باندھا گیا جو کہ نیت شاہ کے گھر سے دو کلیومیٹر آگے شہید لالک جان نشانِ حیدر آرمی پبلک سکول میں رکھا گیا تھا۔ صدر اسماعیلی لوکل کونسل سیلگان اور سکول کے پرنسل نے ہمارا استقبال کیا۔ یہاں امیر جان حقانی صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔ وہ جہاں سیر و تفریح کی غرض سے ان علاقوں کی خاک چھاننے آئے تھے تو وہاں بطور ایگزامنر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو بھی نبھا رہے تھے۔ آج اتوار تھا اس لیے وہ ادبی مشاعرے کا سن کر تشریف لائے تھے۔ بڑے نفیس انسان ہیں۔ ان سے ملاقات نے دلی تسکین دی۔ پھر مشاعرہ شروع ہوا۔ مشاعرے کے شروع میں وہاں کے مقامی شاعروں نے اپنا کلام سنایا۔ بعد اذان حلقہ اربابِ ذوق کے مہمان شعرا نے اپنا کلام سنایا۔ پھر وہ نئے شاعر بھی اپنا کلام لے کے اسٹیج پر نمودار ہوا۔ جس کی طرف تاج صاحب نے اشارہ کیا تھا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ جس کو میں ٹیکسی ڈرائیور سمجھ رہا تھا وہ تو شاعرِ نامراد نکلے۔ جب وہ کلام سنا رہے تھے تاج صاحب میری طرف دیکھ کے ہنس رہا تھا کہ بھیا! اب فیصلہ کرو۔ اس کو کب ڈاکٹر کے حوالے کرنا ہے۔ ابھی ہم کسی نتیجے پر پہنچھے بھی نہیں تھے کہ نیت شاہ کسی کا تعارف کراتے ہوئے ان کی کتابوں کے بارے میں بتا رہا تھا کہ موصوف کی کئی کتابیں منصہ شہوت پر آئی ہیں۔ وہ منصہ شہود کو کئی بار جب منصہ شہوت کہہ رہا تھا۔ حفیظ صاحب میرے پہلو میں تھے مجھ سے کہا کہ اس کو سمجھاؤ یار یہ کیا کہہ رہا ہے۔ جب میری نظر تاج صاحب پر پڑی جو میرے قیریب ہی بیٹھے تھے بہت خوش تھے اور قہقہے لگا رہے تھے۔ میں نے حفیظ شاکر سے کہا بھیا! آپ کو کیا تکلیف ہے تاج صاحب کتنے خوش ہیں شہود کی جگہ شہوت سن کے۔ آکر ان کا پسندیدہ موضوع جو تھا۔ ہم آپس میں ان باتوں سے محظوظ ہو رہے تھے کہ کسی دل جلے نے کہا نیت شاہ یہ منصہ شہوت نہیں منصہ شہود ہے۔ پھر کیا تھا قہقہوں سے ہال گونج اٹھا تھا۔ بڑا مزیدار مشاعرہ رہا۔ مشاعرے کے بعد سکول انتظامیہ کی طرف سے چائے کا بندوبست کیا گیا تھا۔ ہم چائے کی چسکیوں سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ تاج صاحب ہمارے پاس نازل ہوئے اور کہنے لگے پلان کینسل۔ میں حیران ہوا۔ سر خیر تو ہے۔ کہنے لگے نئے شاعر بچ گئے، ابھی اس منصہ شہوت والے کو ہی ڈاکٹر کے حوالے کرکے ہم جان چھڑائیں گے۔ ہم بہت ہنسے۔

(جاری ہے۔۔۔۔ باقی حصہ آئندہ)

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments