گلگت میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رحجان

ڈاکٹر صابر حسین

ایک اور ہوا کی بیٹی نے خودکشی کر لی۔ مجھے یہ افسوس سے لکھنا پڑھ رہا ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں صرف مجینی محلہ میں 4نوجوان لڑکے اور لڑکیوں نے خودکشی کر ڈالی۔ خودکشی نوجوان ہی کیوں کرتے ہیں وہ معاشرے میں امیر اور غریب کے فرق کو نہیں جانتے مثال کے طور پر دو دوست ایک ہی کالج مین پڑھتے ہیں ۔ایک کا باپ امیر جب کہ دوسرے کا باپ غریب ہوتا ہے۔ایک کے بچے کے پاس لیپ ٹاپ ٹچ موبائل اور کار ہوتا ہے جب کہ غریب سٹوڈنٹ کے پاس عام موبائل بھی نہیں ہوتا۔ یہاں سے وہ سوچنا شروع کرتا ہے اور اپنے والدین سے یہ چیزوں کے مطالبہ کرتا ہے۔ جب کہ اس کے مطالبہ پورے نہیں ہوتے ہیں تو وہ سوچنا شروع کرتا ہے بلآخر وہ ڈیپریشن کا شکار ہوجاتا ہے۔ جب ڈیپریشن پرانا ہوجاتا ہے تو وہ خودکشی کرتا ہے۔

خودکشی کی اصل وجہ والدین اور ہمارا سوسائیٹی ہے۔ والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کرتے وقت یہ بتادیں کہ اپنے برابر سے دوستی کریں امیر سے نہیں۔ میں ان این جی اوز سے یہ پوچھتا ہوں کہ وہ کروڑوں روپے مختلف ممالک سے ان ہی مقاصد کیلئے لاتے ہیں اور اپنے جیبوں میں ڈالتے ہیں۔ میں گورنمنٹ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ خود اور NGOsسے مل کر ہر محلے میں خودکشی کے بارے میں سیمینارز منعقد کریں اور نوجوان نسل کے کاؤنسلگ کریں۔ میں تمام عمراء سے گزارش کرتا ہوں کہ کالج لیول تک اپنے بچوں کو لیپ ٹاپ ، ٹچ موبائل کار وغیرہ نہیں دیں، آپ کی مہربانی ہوگی۔ وگرنہ خودکشی میں آپ بھی ذمہ دار ہوں گے۔

خودکشیوں کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں زبردستی کی شادیاں بھی خودکشی کا سبب بنتے ہیں۔اس لئے میں والدین سے گزارش کرونگا کہ وہ شادی میں اپنے بیٹا یا بیٹی کے شادی میں اپنا فیصلہ نہ تھوپیں بلکہ شادی میں50%والدین اور 50%بچوں کے مرضی سے شادی انجام دیں۔انشاء اللہ شادی کامیاب ہوگی اور خودکشی کے رجحان کم ہوگا۔

تمام والدین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت اسلام کے احکام کے مطابق کریں اس وقت ہم اپنے بچوں کو دنیاوی تعلیم دلاتے ہیں شادی سے پہلے لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو دیکھیں اور بات چیت کریں یہ اسلامی حکم ہے۔

آخر میں والدین اور بچوں سے گزارش ہے کہ جب شادی کا پیغام آتا ہے تو والدین چاہتے ہیں کہ لڑکا بڑا نوکری والا ہو اور زیادہ مالدار ہو وہ یہ نہیں سوچتے کہ لڑکا کتنا مومن ہے کہ وہ ثم و صلوات کے پابند ہے یا نہیں۔

لکھاری سماجی کارکن، صابر میڈیکوز کے مالک اور گلگت کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن کے صدر ہے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments