اپرچترال کی بجلی

شمس الرحمن تاجکؔ

چترال کی تاریخ اس بات کاگواہ ہے کہ چترال میں شروع اور کامیاب ہونے والی تقریباً تمام تحاریک کا آغاز اپر چترال سے ہوا۔ ریاست کے دور میں بھی اپر چترال ریاستی حکمرانوں کے لئے ایک مسلسل درد سر رہا ہے اس کی وجہ شاید یہی ہے کہ لوئر چترال کے مقابلے میں اپر چترال بہت زیادہ وسیع علاقے پر پھیلا ہوا ہے۔ چترال ٹاؤں ریاستی دور کا پایہ تخت ہونے کی وجہ سے ان دور افتادہ اور مشکل علاقوں تک سفر اور پھر وہاں چلنے والے کسی منظم تحریک کوکچلنا کم وسائل والے ریاستی حکمرانوں کے لئے ہمیشہ سے جاں جوکھوں کا کام رہا ہے۔ لوئر چترال میں مولانا نورشاہی الدین کی الحاق پاکستان تحریک شاید اس لئے بھی کامیاب رہی کہ اس وقت تک ریاستی ڈھانچہ کافی حد تک کمزور ہوچکا تھا۔ اگر مولانا نورشاہی الدین ریاستی عروج کے دور میں کسی ایسی تحریک کا حصہ بنتے تو لازم تھا کہ انہیں اور ان کی تحریک کو بہت زیادہ سختی سے کچل دیا جاتا۔ لوئر چترال کے باسی ہونے کی وجہ سے ریاستی عملے کے لئے ان تک یا ان کی تحریک میں شامل دوسرے افراد تک پہنچنا اپر چترال کے مقابلے بہت ہی آسان رہتا۔

اس تمہید کی اصل وجہ اس حیرانی کا اظہار ہے کہ گزشتہ 70 سالوں سے جو ظلم چترال خصوصاً اپر چترال کے لوگوں کے ساتھ روا رکھا گیا وہ غیر انسانی ہے۔ شدید ترین ظلم کے باوجود ستر سال سے اپر چترال کے لوگ کسی تحریک کا حصہ نہ بن پائے یا اپنے حقوق کے لئے کسی تحریک کو جنم دینے میں ناکام رہے۔ یہ شاید ان کی پاکستان کے ساتھ محبت اور چترالی تہذیب کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے ملک میں کسی ایسی تحریک کو جنم دینے سے گریزاں ہیں جس سے لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہو، حالانکہ گزشتہ دو ڈھائی سال سے تو اپر چترال کو باقاعدہ پتھر کے زمانے میں دھکیل دیا گیا ہے۔ نا صرف پتھر کے زمانے میں دھکیل دیا گیا بلکہ روز ان کا تماشا دیکھا جارہا ہے اور ان کی بے بسی کو باقاعدہ انجوائے کیا جارہا ہے۔ گزشتہ دورہ چترال کے دوران پرویز خٹک صاحب نے اپنی تقریر میں اپر چترال کے مسائل سے جس لا علمی کا اظہار کیا اس سے تو یہی لگ رہا تھا کہ ہماری لیڈرشپ وزیر اعلی کے علم میں یہ بات لانے میں ناکام رہی ہے کہ تقریباً تین سال سے اپر چترال والوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا گیا ہے۔ وزیر اعلی نے ریشن بجلی گھر پر کام تیز کرنے کی ہدایت دینے کا اپنی تقریر میں ذگر کرکے یہ ثابت کرچکے ہیں کہ چترال کے بارے میں وہ کتنا لاعلم ہیں۔

گزشتہ چار سال سے چترال ٹاؤن کو زور زبردستی اندھیروں کا شکار کردیا گیا۔ ایک نام کی تختی کے لئے عوام کا اتنا استحصال کیا گیا کہ الامن الحفیظ۔ پرائیوٹ طور پر بنے ہوئے ایک بجلی گھر کو لے کر اتنی گندی سیاست کی گئی کہ چترال کی نسلوں کو سیاست سے نفرت سی ہوگئی۔ کروڑوں کے فنڈز کی خردبرد کا ایک دوسرے پر الزام لگایا گیا۔ ایک دوسرے کی ذات پر سیدھے سیدھے حملے کئے گئے۔ اسی دو میگا واٹ بجلی کو لے کر علاقہ کوہ اور چترال ٹاؤں کے عوام کو ایک دوسرے سے لڑانے کی کوشش کی گئی۔ حیرت انگیز طور پر چترال کے عوام خصوصاً اپر چترال کے عوام نے اس پر خاموشی اختیار کئے رکھا جو کہ ان کے عمومی مزاج کے خلاف ہے۔ ریشن بجلی گھر کی بحالی کے لئے ان سے ہفتہ وار وعدہ کیا جاتا ہے مگر تین سال گزرنے کے باوجود کسی بھی ہفتے کا وعدہ ایفا نہ ہوسکا۔

اپر چترال کے کچھ عمائدین سے اس سلسلے میں بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ اپر چترال کے لوگ اپنی جفاکشی اور حقوق کے لئے لڑنے کی صفت کھو چکے ہیں بلکہ وہاں تعلیم کا رواج عام ہونے اور چترال کی روایتی نرم خوئی کی وجہ سے وہ لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ حکومت کو ان کا کام کرنے دیا جائے۔ ملک شدید مسائل کا گزشتہ کئی دہائیوں سے شکار رہا ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ چترال میں بھی انتظامیہ کے لئے کوئی مسئلہ پیدا ہو۔ ہم نرمی سے اپنی بات ضلعی انتظامیہ اور صاحب اقتدار لوگوں تک باربار پہنچا رہے ہیں۔ چترال کے سیاسی نمائندے ہمیں جس طرح بے وقوف بنا رہے ہیں اور بیوقوف سمجھتے ہیں اس سے بھی اچھی طرح آگاہ ہیں ان کو بھی ہم چترال کے مہذب انداز سے جواب دیں گے۔ ابھی انتخابات میں کتنے دن رہ گئے ہیں۔ ہم انتخابات میں اپنا جواب ریکارڈ کرائیں گے۔تاہم نوجوان نسل کی بے صبری اور حقوق کے لئے لڑنے مرنے کے جذبے سے علاقے کے عمائدین بھی خائف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل کو ہم کب تک روکے رکھیں گے۔ ہمارے جائز حقوق سے ہمیں محروم کرکے نوجوان نسل کے اندر ایک لاوا بھرا جارہا ہے جو ایک دن پھٹے گا۔ اس پھٹے ہوئے لاوے کو علاقے کے عمائدین بھی روک نہیں پائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم نہیں چاہتے کہ انتظامیہ، سیاسی لیڈرشپ، صاحب اقتدار لوگ چترال میں موجود ہماری ذاتی بجلی کی پیداوار سے بھی ہمیں محروم رکھیں۔ ہمارے گھر کی پیداوار اگر آپ حقداروں سے چھین کر ملک کے دوسرے حصوں میں تقسیم کریں گے۔ ہمارے گھروں کی

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments