نئے سال کی مبارکبادی مگر کیسے!!

ذوالفقار علی کھرمنگی

میری طرف سے اپنے تمام قارئین کو نئے سال کی نئی خوشیوں سے بھری پرمسرت زندگی,نئے خواب جن کی تعبیر ممکن ہو,نئے جذبے جو اچھے اعمال میں سے ہو کی دلی مبارکبادی پیش کرتا ہوں.البتہ نئے قسمیں ,نئے وعدوں کی زد میں رہنے والوں کو بلکل بھی مبارکبادی نہیں دونگا کیونکہ زمانہ اور ہمارے سیاست دانوں کی چالیں بڑی حد تک بے وفا ہوتی ہے.وعدہ وفا نہ کرنا فیشن بنتا جا رہا ہے .یہی لکھتے ہوئے اور زبان سے ورد کرتے ہوئے اپنے کالم کی ابتدا ہی میں تھا دوست آیا اور مسکراہٹ کے ساتھ یک دم بہت بڑے قہقہے کے ساتھ مجھ سے کہنے لگا یہ کیسا ٹاپک چنا ہے، جس کی آمد صرف امیروں کے ہاں ہوتی ہے.میں سمجھا وہ کچھ غلط سجھ گئے ہو نگے حالانکہ میں نے ابھی امیری غریبی کی بات چھیڑا ہی نہیں تھا .لیکن غلط وہ نہیں شاید میں نکلا۔

.اس نے مجھ سے کہا کہ تم جس نئے سال پر کالم لکھنے جا رہے ہیں وہ میری نظروں نے کھبی نہیں دیکھا ہے.میں نے گزرتے,آتے دنوں میں پھر وہی دن پھر وہی رات دیکھے ہیں.میں نے راتوں کو بھوک سے بلبلاتے بچے کل بھی دیکھے ہیں اور آج بھی,دکھ وہی ہے مگر انداز نیا ضرور ہے. پھر وہی رنج و مصبیت.پھر وہی بے روزگاری ,رشوت ستانی ,خوف کا عالم پھر وہی سال ہے.نئے سال کی مبارک دینا ہے تو نیا دن دو ان غریبوں کو جو چاروں اطراف سے مصیبتوں سے نڈھال ہے.ان کے لئے نئے روزگار دے دو جن سے ان کے بچوں کی بھوک ختم ہو سکے.اس نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا لیکن میں نے نئے سال کے دن بدلتے بھی ضرور دیکھا ہے امیدیں بھر آتے بھی دیکھا ہے مگر کسی غریب کی نہیں بلکہ امیر شہر کا ان کے اولادوں کا.میں نے امیروں کے دن بدلتے دیکھا ہے جو کل تک ایک یونٹ کا مالک تھا آج دسیوں کا مالک بن چکا ہے.آہ غریب پھر وہی غریب ہے.وہ بوڑھی اماں جو کہی دہائیوں سے بھیک مانگتی تھی آج پھر ان کی روش یہی ہے.وہ مزدور جو مزدوری کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتا تھا پھر اسی جگہہ مزدوری کرتا نظر آتا ہے.بس ایک اضافہ ہوا ہے .

بوڑھی اماں کے ساتھ بھیک مانگنے کے لئے پوتی ساتھ کھڑی ہے تو مزدور کا بیٹا گھر کے راشن ڈالوانے کے لئے باپ کی جگہہ لینے کی کوشش کر رہا ہے.نہ ان کے دن بدلے ہے نہ سال پھر صاحب آپ کس بات کی مبارکبادی دے رہے ہو یہ جو مبارکبادی دے رہے ہو نا وہ ان بے کس غریبوں کے زخموں پر نمک پاشی کے زمرے میں آتا ہے .اس نے جب لفظ صاحب کہا تو مجھے ایسا لگا کہ ساتھ میں اس نے میری بے روزگاری کا مذاق اڑایا ہو.آپس کی بات ہے.آپس کی بات سے یہ نہ سمجھ لینا آپس کی بات صرف نجم سیٹھی کے ساتھ کی جا سکتی ہے. ہم اور آپ بھی کر سکتے ہے.سچ کہوں تو اب ان کی باتوں کا مجھے بہت حد تک احساس ہوا ہے میری زندگی میں بھی کچھ نہیں بدلا وہی بے روزگاری سر پرمنڈالا رہی ہے جو ایک سال پہلے سے خوف بن کر میری زندگی کے ساتھ چمٹ گئے تھے.معاف کیجے احساس بہت جلدی ہوتا ہے اسی لِئے ہر جگہہ نقصان میں رہتا ہوں وہاں پر بھی اپنی حساسیت دکھانے کی کوشش کرتا ہوں جہاں ضرورت ہی نہ ہو.

دوسری بار معافی کا طالب ہوں میں بھی کیسا انسان ہوں جو آپ کو اپنی زندگی کی رودات سنانے بیٹھا ہوں.معذرت جب بھی کالم لکھتا ہوں آب بیتی بیان کرنے کا دل کرتا ہے تو کالم کے درمیان کھبی کھبی گزرا ہوا صبح و شام کی داستان غم سنا دیتا ہوں.سیانے لوگ کہتے ہے نا! جیسے اپنی خبر نہ ہو وہ بھلا دوسرے کے بارے میں کیا جانے.نئے نئے سال کی آمد غریبوں,مسکینوں ,مظلموں و محکموں کے حالات زار پر لکھنے سے پہلے راقم نےاپنے حالات کو مختصراّ بیان کی ہے.تاکہ سیانے یہ نہ سمجھے میں اپنی حالات سے باخبر نہ ہو.مگر ضروری ہے کہ اپنے حالات کے علاوہ وہ تمام موجودہ حالات کو منظر عام پر لاوُں جس سے معاشرے کی اکثریت متاثر ہو.دینی و اخلاقی فریضہ ہے دوستو! ان تمام معاشرتی و سماجی مسائل کو بیان کر دوں جو ایک صحت مند معاشرتی بقا کے لئے خطرے کا باعث ہو.

واپس اپنے ٹاپک پر آتا ہوں جس کے لئے میرے عزیز دوست نے مجھے کالم کا رخ موڑنے پر مجبور کیا تھا وگرنہ آپ کے علم میں ہو گا اوپر کے چند سطر میں بندہ نا چیز نے کھلے دل کے ساتھ پر جوش انداز میں محترم مگر مختصر قارئین کو نئے سال کی آمد پر مبارکباد پیش کی تھی. لیکن کیا کرئے دوست نے آتے ہی ذائقہ بدل دیا کے مصداق چلا.واقعی میں انہوں نے مجھے بہت ہی حساس طریقے سے نئے سال کی خوشیوں میں غریبوں کو شریک کرنے کا بہت بڑا درس دیا.توآئے آج سے ہم اپنی سوچیں بدل لیتے ہیں .نئے سال کی نئی خوشیوں کو سمیٹنے کا عزم کرتے ہیں .اپنے چھوٹی ہو یا بڑی ہر خوشی میں ان کو ضرور شریک کرنے کا عزم کرینگے جو انسان خوشی سے محروم ہو،اس کے ہونٹوں پر خوشیان بکھیرنے کی کوشش کرینگے.اسی دعا کے ساتھ خدا ہر نیا آنے والے سال ہم سب کے لئے خوشی کا سال ہو .بقعث عظمت و رحمت کق سال ہو آمین.

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments