گلگت میں پانی کی آلودگی کا مسئلہ

کرن قاسم

گلگت بلتستان سمیت دنیا بھر میں پانی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد پینے کے پانی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اسے محفوظ بنانے کی ضرورت پر زور دینا ہے۔

گلگت بلتستان میں بجٹ کا سب سے کم حصہ صاف پانی کی فراہمی و نکاسی آب کے لئے خرچ ہوتا ہیں نکاسی آب کا نظام نہ ہونے سے پیدا ہونے والی آلودگی سے گلگت بلتستان میں ہر سال سینکڑوں بچے ہیضہ، اسہال اور دیگر بیماریوں سے جاں بحق ہوتے ہیں۔

آلودہ پانی انسانی صحت اور جان کیے دشمن ہیں۔ یہ نہ صرف انسانوں کے لئے بلکہ جانوروں اور پودوں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ گلگت شہر میں سیوریج کا سسٹم سرے سے موجود ہی نہیں۔ رہائشی مکانات کےنکاسی آب کا رخ دریائے گلگت کی جانب ہوتا ہے جس سے دریا کا پانی آلودہ ہوجاتا ہے۔

دوسری طرف دریائے گلگت کا پانی کنوداس، ذوالفقارآباد، جٹیال اور دیگر علاقوں میں پینے کے لئے استمعال ہوتا ہیں۔ دریا کا گدلا اور آلودہ پانی استعمال کر کے عوام مختلف وبائی امراض جن میں ہیپاٹائٹس، ٹائیفائیڈ، ہیضہ، یرقان اورایپنڈیکس جیسی مہلک بیماریوں میں تیزی سےمبتلا ہو رہے ہیں۔

ادارہ ماحولیات کے ڈائریکٹر شہزاد شگری کے مطابق سردیوں کے موسم میں پینے کا پانی جراثیم سے پاک ہوتا ہے مگر جونہی گرمی بڑھتی جاتی ہے پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوتا ہے،۔ گلیشیئرز پگھلنے لگتے ہیں جس سے پانی میں جراثیم اور گدلاپن شروع ہو جاتا ہے۔ گلگت کے عوام کو پینے کے پانی سپلائی کرنے والے واٹر کمپلکس ٹینک غیر معیاری ہیں۔ ان میں پانی کو فلٹر کرنے کا کوئی بندوبست نہیں اور نہ ہی پانی میں موجود جراثیم کو مارنے والے کیمیکل کا استعمال کیا جاتا ہے۔

آلودہ پانی سے پیدا ہونے والے بیماریوں کے میڈیکل اسپیشلسٹ ڈاکٹر ذوالفقار نے بتایا کہ 80 فیصد بیماریاں پانی کی آلودگی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ آلودہ پانی سےمتاثر سب سے زیادہ مریض ہسپتال آتے ہیں۔ خاص کر حاملہ خواتین جن میں ہیپاٹائٹس A کے وائرس پائے جاتے ہیں۔ اس کے جراثیم آلودہ پانی سے منتقل ہوتے ہیں۔

چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر وجاہت حسین نے بتایا کہ پانی روزمرہ زندگی میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ پانی کی وجہ سے پیٹ کی اور دیگر بیماریاں ہمارے معاشرے میں خاص کر پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں سب سے زیادہ پھیلتی ہے۔ ان بیماریوں میں دست ایسی بیماری ہے جس سے سب سے زیادہ بچوں کی اموات ہوتی ہیں۔ اور پانی کے آلودگی کی وجہ سے آج کل ہیپاٹائٹس اے تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔

سیوریج نظام بہتر نہیں ہونے کی وجہ سے نکاسی کا پانی صاف پانی میں شامل ہوجاتا ہے۔ جس سے پانی آلودہ ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹر وجاہت نے بتایا کہ حکومت عالیشان ہسپتال کے لیےعمارت اور ڈاکٹروں کو پرکشش مراعات دینے کے بجائے سیف واٹر سپلائی پر توجہ دیں کیونکہ صاف پانی سے بیماریاں کم ہوجائینگے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments