’’نئے سال کاسورج اور ہم ‘‘

تحریر:فیض اللہ فراقؔ

عہد گزشتہ کی تلخیاں،یادیں،فرقتیں ،کوتاہیاں ،کامیابیاں اورگزرے ایام کا ہرپل ماضی تو بن جاتاہے لیکن انسانی دل و دماغ پر منعکس ہوکر ستاتا رہتاہے،وقت کی خوبی ہے کہ ہر اک کیلئے یکساں لمحات فراہم کرتا ہے جبکہ ٹھہرنے کا لفظ وقت کی ڈکشنری میں شامل نہیں ہرگزرے سال اپنے ساتھ بہت ساری ادھوری یادوں کو بھی سمیٹ کر چلا جاتا ہے 2017ء کا سال بھی ماضی بن گیا اس ماضی کے دھندلکوں میں کسی کے غم گم ہیں، کوئی کسی سے بچھڑ گیا ہے، کسی کو ترقی ملی ہے ،کسی کوزندگی ملی ہے اورکوئی اجل کے ہاتھوں داغ مفارقت دے گیا ہے کسی نے دوسرے پر ظلم کیا ہے ،کسی کے قلم سے ناانصافی کے دستخط ہوئے ہیں ،کسی نے کسی کا دل توڑا ہے اورکسی نے وقت کے قیمتی لمحات کی ناقدری کرتے ہوئے 12مہینوں سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے اب کس میں ہمت ہے کہ 2017ء کے 365دنوں کو واپس لے آئیں،آنے والے سال کا سورج بڑے طمطراق سے طلوع ہوا ہے اورہماری زندگی کی کتاب سے ایک باب بند جبکہ نئے باب کاآغاز ہواہے اور ہم ہیں وقت کے عروج و زوال سے سبق حاصل کرنے کی بجائے روایتی زندگی کے ڈگر پر چل پڑے ہیں گزرے سال کی تلخ و شیریں یادیں ہمارے دل و دماغ پرگہرے اثرات چھوڑ گئے لیکن زندگی کی دیوار سے ایک اینٹ گر گئی ، عمر کی رفتار سے ایک کلو میٹر کا فاصلہ موت کیلئے کم ہوگیا،جوانی کی کتاب سے ایک باب گم ہوا اور زوال کی جانب عروج کا سفر کم ہوا،نئے سال کاسورج امید و بیم کے ساتھ طلوع ہو چکا ہے ،سورج کی کرنوں میں وہی نامطمئن خدشات اب بھی موجود ہیں جن پر گزرے سال نے گہرے اثرات چھوڑے تھے جن میں زخموں سے بدن چور مزدوروں کے شب و روز شامل ہیں،بم دھماکوں سے مرتے بے گناہوں کی اٹھتی میتیوں کا ماتم ،میرٹ کی دھجیاں اڑاتی حکومتوں کے ظالمانہ احکام،حاکم وقت کا گھمنڈ ،ایوان و منصفی کے غیر متوازن فیصلے ،جھوٹ فریب کی سیاست،گالم گلوچ کانیا جمہوری رویہ،بے روزگاری سے تنگ آکر خودسوزی کرنے والوں کی آہ و فغاں،بھوک افلاس کی ماری قوم کی فریاد،طاقت کے نشے میں دھت کرداروں کا راج،لینڈ مافیا ،ڈرگ مافیا،اور تھانہ کلچر کے ہاتھوں ستائی عوام کی داستانوں پر مبنی گزشتہ سال کاایک ایک پل گواہ ہے لیکن ہم اپنے اعمال و کردار پر نظرثانی کرنے کی بجائے نئے سال کا جشن منارہے ہیں اورنئے سال کی خوشی میں کیک کاٹے جارہے ہیں۔دکھ کی بات یہ ہے کہ نئے سال کے آغازاورگزرے سال کی کوتاہیوں پرنظر ثانی کر کے نئی اور مطمئن زندگی کا سفر شروع کرنے کی بجائے محض روایات کی پاسداری کرنا خود پر لازم سمجھتے ہیں اور وہ روایات جن کا ہماری تہذیب و ثقافت سے دورکا بھی تعلق نہیں ہے ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم گزرے سال کے ایک ایک پل کا محاسبہ کریں،اپنے اعمال و کردار کے کیلنڈر پر نظر دوڑایں اپنی اچھائیوں برائیوں کے ترازوں کو جانچیں اورنئے سال کی شروعات کے ساتھ خود میں تبدیلی لائیں کیونکہ قطرہ دریا میں مل کرسمندر بن جاتا ہے اورانسان کی انفرادی اعمال سے اجتماعی سماج کا تاثر تشکیل پاتا ہے اس بات کا احساس بھی ناگزیر ہے کہ آج ہماری زندگی سے ایک سال خارج ہوا ہے ہماری عمر کے گوشوارے سے 12مہینوں کاخانہ خالی ہو چکا ہے اس لئے نئے سال کی آمد کے ساتھ زندگی میں آسانیاں پیدا کر کے انسانی قدروں کی بحالی کا عزم کرنا چاہیے اور جو غلطیاں ہم سے گزرے سال سرزد ہوئیں انہیں آنیوالے لمحات میں نہیں دہرانا چاہیے۔وقت کے قیمتی ہونے کا شعورکو مربوط طریقے سے ذہنوں میں نقش کرتے ہوئے نیکیاں ،انصاف ،مساوات ،سخاوت ،انسانیت شناسی اورعبادات و ذکر و اذکار کو زندگی کا نصب العین بناتے ہوئے وقت کو مزید قیمتی بنانے کی ضرورت ہے ملک سمیت گلگت بلتستان میں نئے سال کا جشن منانے والوں کو موت کے اس لمحے کوبھی یاد کرنے کی ضرورت ہے جس کیلئے ہم سب ایک اورسال قریب جا چکے ہیں 2018کا پہلا سورج طلو ع ہوچکا ہے اورآئیے اس لمحے عہد کریں کہ نئے سال کا ایک ایک پل انسانی سکون اور عظمت کیلئے سود مند بنائیں جبکہ گزرے سال کا ڈھلتا ہوا آخری سورج کے ساتھ ہم سے سرزد ہوئے گزشتہ گناہوں پر ندامت کریں خدا کرے کہ نیا سال ملک کیلئے ترقی ،خوشحالی ،امن ،امید ،سکون اور وقارکا سبب بنے۔

بھری پڑی ہے گزشتہ کی یاد اشکوں سے

چلا گیا ہے دسمبر اداس کرکے مجھے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments