کالمز

فرزند غذر

 فداعلی شاہ غذری

وہ غالباََ اکتوبر کی ایک خنک شام تھی جب آج سے 26سال پہلے وادی پھنڈر کی فضا فلک شگاف نعروں کی گونج سے لرز اٹھی اور آیا آیا شیر آیا کی صداوں کیساتھ ایک پر جوش اور جوشیلا مگر ایک سلجھا ہوا دیسی لہجے والا شخص ہمارے سامنے کھڑے ہو ئے، وہ خود کو نواز شریف کا سپاہی اور فرزند غذر قرار دیتے ہوئے چہرے پر جس طمانیت کو ظاہر کیا تھا وہ میرے ذہن سے نکل ہی نہیں پا رہی ہے۔ اپنے گرما گرم سیاسی کمپین کے دوران وہ وادی پھنڈر کے ساتھ اپنے پرانے تعلق کا جس فخر سے اظہار کیا تھا وہ بھی انتہائی جذباتی نوعیت کا تھا۔ اکتوبر 1994کی وہ شام مجھ سمیت گاوں کے کئی بچوں کو سلطان مدد سے واقف کرا گئی اور یوں ذندگی کے پہیئے سے نکلتا وقت کا ہر لمحہ مجھے اس شخص کے ساتھ مزید غائبانہ تعلق اور تعارف کو مستحکم کر تا رہا اور میں ان کے ہر بیان، تقریر اور گفتگو کو ایک خاص حثیت میں پرکھتا رہا۔ اپنی صحافتی زندگی میں کئی بار ان سے بالمشافہ ملتے رہے اور ان کے خالص خیالات سے محضوظ ہوتا رہا۔ 11اپریل 2020 کی سہہ پہر میں اُنہیں فون کر کے "ہائیک ود فدا ” کے مہمان بننے کی درخواست کی تو وہ فوراََ مان گئے لیکن طبعیت میں کچھ خلل کی وجہ سے ہا ئیکنگ پہ آنے سے گریزاں نظرآئے تو میں بھی ان کو اُن کی مرضی کے کسی دن مہمان بنانے کی حامی بھر لی اور پروگرام کا فارمیٹ اور مو ضوعِ ِگفتگو کے آوٹ لائن سمجھانے کے بعد فون بند کر دیا مگر وہ لمحہ لوٹ کر پھر نہ آسکا کہ فرزند غذر کسی پہاڑی پر میرا مہمان بن کر شاید زندگی کا آخری انٹرویو ریکارڈ کرا سکتے ۔۔۔صد افسوس وقت کی تنگ دامنی پر کہ ہمارے لئے رک نہ سکااور رکتا بھی کیوں ہم کونسے اسپ عمر کے تازیانے کے ذمہ دار تھے مگر غالب کے بقول قدرت اتنا صبر فر ما لیتی تو کیا ہوتا؛ تم کو نسے تھے ایسے کھرے دادو ستدد کے کرتا ملک الموت تقاضا کوئی دن اور ملک الموت تقاضے میں ایک منٹ کا اونچ نیچ کبھی نہیں کرتاا ور تقاضائے حیات بھی یہی ہے کہ جہاں سے یہ مہمان (زندگی) آتی ہے لوٹ کر وہی پہنچنی ہوتی ہے۔ چلے جانے کا معین وقت پھر کس کا انتظار کرتا ہے۔ سلطان مدد جدوجہد اور کا میابی کا وہ نام تھا جو اپنی مناذل کے سنگ و راہ تراشنے کاہنر خوب جانتےتھے مگر کسی کا میابی کے لئے اصولوں کی سودا بازی پر کبھی راضی نہیں ہوئے۔ وہ سراپا محبت کے آمین تھے اور اپنے بھاری بھرکم اور مضبوط جسامت میں ایک نرم دل کے مالک تھے جو سر زمین غذر کے با سیوں کی محبت میں دھڑکتارہا، ان کے دکھ میں بے چین اور سکھ میں پر سکون رہتا تھا۔ ان کی ساری زندگی صبر اور استقامت کی متقاضی رہی اور تمام نا مساعد حالات میں آپ صابرو شاکر رہے۔ وفاداری آپ کی شخصیت میں کوٹ کر بھر دی گئی تھی جس وقت لوگ نواز شریف کے نام لینے سے ڈرتے تھے آپ خود کو ان کے سپاہی قرار دے کر فوجی امر کو للکار رہے تھے، جس دور میں ن لیگ کے کرتے دھرتے رہنما مشیر بن کر مراعات پہ اکتفا اور ن لیگ چھوڑنے کا واچن دے رہے تھے آپ واحد رہنما تھے جو ن لیگ کی کشتی کو خشکی پر چپو دینے میں مصروف عمل رہتےتھے۔ وقت وقت کی بات ہے کہ شریف خاندان پر ٹوٹنے والی سیاسی مصیبت ٹل جانے کے بعد حکمرانی کا تاج دوبارہ ان کے سر سجاتووہ گلگت بلتستان میں اپنے اکیلے وفادار سپاہی کو ساحل پر اُتار کر ساگر کی سیر پر نکلے اورہمراہی وہ لوگ بنے جو مصیبت کے وقت وفاداریاں تبدیل کر چکے تھے۔ جب وقت سلطان مدد کے احسانات کو واپس لو ٹانے کا موقع لے کر آیا تھا تو مفاد پرست اور موقع پرست حفیظ الرحمن بھی اسلام آباد کے ایک ریسٹورینٹ میں سلطان مدد کی پارٹی کے ساتھ والہانہ عقیدت پر سوال اٹھا کر انہیں انتخابی عمل سے دور رکھ کر خود دودھ نوش لینے کا کا میاب پلان بنا رہے تھے اور ہم ان سےمحض ایک ٹیبل دور سلطان مدد کی وفاداری پر حفیظ الرحمن اور ان کی بے وقعت ساتھیوں کی قہقوں پر سُن ہو چکے تھے کیونکہ یہ مفاد پرست ٹولہ پہلے انہیں گورنر بننے اور میاں صاحب سے مکمل مدد کی یقین دہانی کراتے رہے اور جب اصول پرست اور موقف پر ڈٹ جانے والے سادہ لوح شخص گورنر سے کم کسی عہدے پر راضی ہو نے کو تیار نہیں ہوئے تو حفیظ کو بھی ان پر وار کر نے کا ایک اچھا موقع ملا اور وہ سلطان مدد کی ن لیگ اور شریف خاندان کے ساتھ عشروں پر محیط وفاداری کو بغاوت قرار دینے میں دیر نہیں لگائی اور پیدا شدہ عارضی دراڑ میں مٹی ڈالنی شروع کر دی اور حالات بگڑنی شروع ہوئی اوران کو انتخابی عمل سے علیحیدہ کرنے کا آخری حربہ میاں صاحب کی مداخلت کے بعد ناکام ہوا مگر آنا پرست حفیظ الرحمن نے نواز شریف کے اس سپاہی کے ووٹ بنک توڑنے کے لئے امیدوار میدان میں اتارلیااور ان کو ہرا کر اپنی آنا کی جنگ ٹھنڈی کرنے میں کامیاب ہو ئے۔ جب سلطان مدد کو یقین ہوچکا کہ حفیظ الرحمن پارٹی پر دوسری مصروفیات اور ترجیحات کو تر جیح دینے لگا تو انہوں نے بھی وفاداری کاباب بند کرنے میں عافیت سمجھ لیااور کافی عرصہ پارٹی کے ناعاقبت اندیشوں کو مصلحت کا موقع بھی فراہم کر تے ہوئے خاموشی اختیار کی مگر تب تک ان کو ما ئنس کر نے کا فیصلہ طے ہو چکا تھا اور وہ اصول پرست، خوددار اور غیرت مند شخص بھی اپنی ذات کو بے مول کرنے کا خطرہ کہاں مول لیتا بس اس لئے چُلو بھر پانی میں خود کشی سے بہتر سمجھا کہ دریا کے کسی قطرے کی طرح خود کو نیکنامی کے سمندر میں شامل کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امر ہو گئے۔ سلطان مدد گلگت بلتستان کی سیاسی افق کا ایک تابندہ ستارہ تھا جس کی چمک اور روشنی آب وتاب سے اپنی وجود کو پورے خطے میں برقرار رکھا اور ہمیشہ برجستہ اور خالص سیاسی رویئے کا منبع رہا۔ غذر اور یہاں کے پرامن مکینوں کیساتھ امتیازی سلوک پر وہ ہمیشہ معترض اور بے تاب رہے اور یہاں بسنے والے ہر ایک شخص کو بقائے باہمی کے امور سیکھاتے رہے۔ ضلع غذر اپنے حقیقی اور تمام تر تعصبات سے بالاتر فرزند کو کھو دیا جس کی کمی صدیوں بعد بھی پُوری نہ ہوسکے گی۔ رب کریم ان کی روح کو غریق رحمت کرے۔ یار زندہ صحبت باقی

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button
%d bloggers like this: