وزیر اعلی کی زہر افشانی کا جواب

تحریر-طالب استوری

گزشتہ دنوں جب ٹیکسز کے خلاف احتجاج عروج پر تھا اور مکمل شٹر ڈاون ہڑتال کے ساتھ جب بلتستان ریجن سے ہزاروں افراد نے گلگت کی طرف لانگ مارچ کا آغاز کردیا تو صوبائی حکومت کی بنیاد ہل کر رہ گئی اور ایوان اقتدار لرزنے لگا تو جناب وزیر اعلی حفیظ الرحمن صاحب عوامی بیداری اور مظاہرین کی استقامت کے نتیجے میں شدید دباؤ اور بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے۔چونکہ احتجاج کے آغاز میں صوبائی حکومت کے وزراء مظاہرین کو مقدمات اور گرفتاریوں سے ڈرانے سمیت اپنے دیگر پتے کھیل کر ناکام ہو چکے تھے اس لئے جناب وزیر اعلی صاحب نے ایک دھواں دار پریس کانفرنس کی اور اپنی دانست میں آخری چال کے طور پر پرامن اور نہتے مظاہرین کو را کے ایجنٹ اور ایک مخصوص طبقہ فکر کا احتجاج قرار دے کر ترپ کا پتہ پھینک دیا اور گلگت بلتستان کے عوام پر لڑاو اور حکومت کرو کا فارمولہ مسلط کرنے کی مذموم کوشش کی۔جناب وزیر اعلی صاحب آپ نے را کے ایجنٹوں کی بات کی ہے تو ذرا اس رخ پر بھی نگاہ ڈالنے کی زحمت گوارا کیجئے کہ نواز شریف کی نااہلی پر وفاق پاکستان کے خلاف پرس کانفرنس کس نے کی تھی۔مودی اور جندال سے تعلقات،دوست یاری اور کاروباری شراکت کس کی ہے،کس کے کارخانوں میں ملازمین کا روپ دھار کر را کے کارندے کام کر رہے تھے۔کون ملکی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہا ہے۔کون عدلیہ پر دشنام طرازی کر رہا ہے اور لشکر کشی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔جے آئی ٹی کے والیم ٹین کے صفحات میں کیا بھرا ہوا ہے۔جو لوگ ایک مصدقہ نااہل شخص کو اپنا قائد تسلیم کریں ان سے ایسی ہی گفتگو کی توقع کی جا سکتی ہے۔جناب وزیر اعلی صاحب حالات و واقعات سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ اپنے مسلمہ اور عالمی و عدالتی طور پر ثابت شدہ نااہل قائد کے اشارے پر آپ خود اس حساس خطے کے حالات خراب کر کے سی پیک کو ناکام بنانے کے درپے ہیں۔مگر جناب وزیر اعلی صاحب گلگت بلتستان کا ایک ایک فرد وطن عزیز کی بقا و استحکام اور سالمیت کی خاطر کے ٹو کی طرح سینہ تان کر صف اول میں کھڑا ہے۔گلگت بلتستان کے عوام عظیم کایا پلٹ اقتصادی منصوبے سی پیک کی کامیابی کے ضامن اور محافظ ہیں۔گلگت بلتستان وفاداروں اور جانثاروں کی دھرتی ہے غداروں کی نہیں۔گلگت بلتستان کے باسیوں کی رگوں میں وطن عزیز پاکستان کی محبت کا خون گردش کرتا ہے۔سبز ہلالی پرچم کے سائے تلے پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعرے بلند کرتے ہوئے ٹیکسز کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو را کے ایجنٹ قرار دینا حد درجہ مذموم حرکت اور شر انگیزی ہے۔ مگر تمام تر حکومتی مذموم عزائم کے باوجود سلام ہو گلگت بلتستان کے باشعور عوام پر جنہوں نے متحد و متفق ہو کر بھر پور احتجاج کیا اور حکومتی سازش کو ناکام بنا دیا۔غیر آئینی ٹیکس پورے گلگت بلتستان کا اجتماعی مسئلہ ہے اور حکومت کو اس حقیقت سے نظریں نہیں چرانی چاہئیں۔جناب وزیر اعلی صاحب گلگت بلتستان کے عوام نے آپ کے اچھے اقدامات کو سراہا بھی ہے۔اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ صوبائی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاج ہرگز بھی کسی ایک مکتبہ فکر کا نہیں ہے کیونکہ اگر احتجاج مکاتب فکر کی بنیاد پر ہوتے تو سابق وزیر اعلی سید مہدی شاہ صاحب کے دور حکومت میں خود انکے حلقہ انتخاب سکردو میں گلگت بلتستان کی تاریخ کا طویل ترین دھرنا کبھی نہ دیا جاتا اور سکردو کی تاریخ میں پہلی بار این آئی ایس سے متاثرہ خواتین کا احتجاج اور تین روزہ دھرنا کبھی نہ دیا جاتا۔حتی کہ یادگار چوک سکردو میں مہدی شاہ صاحب کی ذاتیات پر وہ تنقید کی گئی کہ اللہ کی پناہ۔جناب وزیر اعلی صاحب  خدارا ذاتی مفادات کی خاطر اور حکومتی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے اسطرح کے منفی پروپیگنڈے سے گریز کریں۔اور اس ابدی حقیقت کو ذہن نشین کر لیجئے کہ جب عوام کی شرافت کو بزدلی اور برداشت کو بے غیرتی سمجھا جانے لگتا ہے تو پھر عوام اپنے حقوق کے لئے نکل پڑتے ہیں۔احتجاج ظلم و جبر کے خلاف ہوتا ہے احتجاج ناانصافیوں کے خلاف ہوتا ہے۔احتجاج حکومتی ظالمانہ اقدامات کے خلاف ہوتا ہے۔احتجاج کا کوئی علاقہ،مذہب یا کوئی مسلک نہیں ہوتا۔
گلگت بلتستان کے عوام نے بلآخر صوبائی حکومت کو دھول چٹا دی اور پھر وہ فرعون مزاج وزراء گھٹنوں کے بل پر مذاکرات کے لئے آگئے جو عوام کو نظروں میں لانا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔اس صورتحال پر یہ شعر صادق آتا ہے کہ
یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا۔۔
یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں۔۔
پاکستان زندہ باد

آپ کی رائے

comments