ڈاکٹر روتھ فاو ،جذام کے مریضوں کی مسیحا

ڈاکٹر روتھ فاو ،جذام کے مریضوں کی مسیحا

64 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

داکٹر روتھ فاو جذام کے مریضوں کی مسیحا جو کہ جرمن نژاد پاکستانی تھی ۹ ستمبر ۱۹۲۹ ء ؁ میں جرمنی میں پیداء ہوئی۔ انہوں نے میڈیکل کی تعلیم ۱۹۴۹ء ؁ میں مکمل کر نے کے بعدمشن میں اپنی خدمات پیش کیا اور ۱۹۵۸ ء میں مشن کی طرف سے وہ پاکستان آئیں اور جذام کی مریضوں کے بارے میں معلومات اکھٹی کیا اور ۱۹۶۰ء ؁ میں واپس آئیں اور جزام کے مریضوں کا علاج ریلوے بستی کے پیچھے ایک جھونپڑی سے شروع کیا۔ انہوں نے اپنی زندگی اس مشن کے لئے وقف کردیا۔

شروع میں بڑی تکلیفیں اٹھائیں کیوں کہ پاکستان میں لوگ اس بیماری کو لا علاج اور چھوت قرار دے کر جذام کے مریضوں کے نزدیک بھی نہیں جاتے تھے۔

کسی گھر کا کوئی فر د اس بیماری کا شکار ہو جاتا تو اس کو کہیں دور لے جا کر علیحدہ چھوڑ دیا جاتا تھا اور کوئی اس کے نزدیک نہیں جا تا تھا اور جذام کے مریض سسک سسک کر مرجاتے تھے۔

ڈاکٹر روتھ فاو نے مشکل سے لوگوں کو قائل کیا کہ یہ بیماری قابل علاج ھے اور یہ بیماری ایک سے دوسرے کو نہیں لگتی۔ اس نے بہت محنت سے ڈاکٹروں اور دوسرے معاون سٹاف کو تیار کیا اور ان کو ٹرننگ بھی خود دی۔

ریلوے بستی کی اس جھونپڑی سے آغاز کرنے والے کلینک کی مختلف شاخیں بنی، اور بالاخر کر اچی کے علاقے صدر بازار میں میری ایڈلید لیپروسی سنٹر کی شکل میں ایک بہت بڑا ہسپتال بن گیا۔ آج ملک پاکستان کے ہر ضلع میں تقریباََ اس کے شاخیں قائم ہیں۔

اس مسیحاء نے جذام کے لاکھوں مریضوں کا علا ج کیا اور یہا ں تک کہ افغانستان سے بھی مریض کراچی آکر اپنا علاج کراتے ہیں ۔ ڈاکٹر روتھ فاو کی قربانیاں رنگ لائیں اور ۱۹۹۶ء میں پاکستان کولیپروسی (جذام) سے پاک ملک قرار دیا گیا۔

ڈاکٹر روتھ نے تا دم مرگ اپنا مشن کو انتہائی محنت اور جانفشانی سے ادا کیا اور حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوے انہیں نشان پاکستان اور نشان قائد اعظم جیسے ایوارڈز سے نوازا۔ جرمنی نے بھی انہیں اپنے ملک کا اعلیٰ اعزاز دیا۔ جبکہ آغا خان یونیورسٹی کراچی نے انہیں اعزازی ڈاکٹریٹ (پی ایچ ڈی) کی ڈگری دی۔ ان کے علاوہ بھی مختلف اداروں نے انہیں لاتعداد اعزازات اور انعامات سے نوازا۔

حکومت پاکستان نے ان کو ۱۹۸۸ء ؁ میں اُنہیں شہریت دی تھی۔ اس وقت ۱۵۷ لیپروسی سنٹرز ملک بھر میں کام کر رہے ہیں۔ یہ اس عظیم خاتوں کا ہی کارنامہ ہے کہ انھوں نے اپنی جوانی ، جرمنی جیسا ملک اور اپنی پوری زندگی جذام کی بیماری کے خلاف جنگ کے لئے قربان کیا ، یہ ان کا ہی کارنامہ تھا کہ اس نے لوگوں کو قائل کیا کی جذام قابل علاج بیماری ہے اور یہ ایک سے دوسرے میں منتقل ہونے والی یا پھیلنے والی بیماری نہیں ہے۔ اس عظیم انسان نے گلی گلی اور کونے کھدروں سے ڈ ھونڈ ڈھونڈ کر مریضوں کو اپنے ہسپتال میں لایا اور ان کا علاج کیا نہ صرف علاج کیا بلکہ بہت سے لا وارث مریضوں کو گھر بھی بناکر دیا۔

اس بیماری کی علامات اس طرح سے ہیں کہ شروع شروع میں جسم پر گول دھبے سے بن جاتے ہیں اور اگر یہ دھبے دو مہینے تک قائم رہیں اور ان میں درد نہ ھو بل کہ یہاں تک کے ان میں سوئی چبونے سے بھی درد نہ ھو تو یہ جذام کی علامت ھو سکتا ہے اس کو فوراََ کسی قریبی لیپروسی سنٹر کے ماہر ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا چاہئے، اگر یہ بیماری پرانا ہوگیا تو اس کا اثر آنکھوں پر ہوتا ہے اور ہاتھ کے جوڑوں پر ہوتا ہے اور انگلیاں جوڑ سے الگ ہو کر گرتے ہیں کیوں کہ گوشت سڑ کر گر جاتا ہے اور آنکھوں کے گرد کے گوشت بھی گر جاتا ھے، اس لئے اگر کسی انسان کو اللہ نہ کرے یہ بیماری لگ جائے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے بل کہ اس کا علاج کرایا جائے۔ گلگت میں امھپری میں ٹی بی ہسپتال میں بھی لیپروسی سنٹر ہے اور اس کا بہترین علاج کیا جاتا ہے ،

ڈاکٹر روتھ فاو ۱۰ اگست ۲۰۱۷ء ؁ کو کراچی میں انتقال کر گئی۔ انہیں وصیت کے عین مطابق گورا قبرستان کراچی میں دفنایا گیا۔ ان کی خدمات کو سراہتے ہوے ریاست پاکستان نے ڈاکتر روتھ فاو کو سرکاری سطح پر دفنانے کا انتظام کیا۔ پاک فوج کے ایک چاق و چوبند دستے نے ان کو آخری سلامی دی، اور ان کی میت توپ پر لاد کر کراچی میں واقع چرچ تک لے جایا گیا، جو سرکاری اعزاز اور اکرام کا اہم جزو ہے۔ اس موقعے پر صدر پاکستان، گورنر اور وزیر اعلی سندھ، چیف آف آرمی سٹاف  اور ان کے ساتھ مختلف اداروں کے سربراہان موجود تھے۔ ڈاکٹر روتھ فاو کے اعزاز میں قومی پرچم کو سرنگوں کیا گیا۔

جرمنی میں پیدا ہونے والی ڈاکٹر روتھ فاو اپنے ملک کی آسائشیں چھوڑ کر پاکستان آبسی، اور ایک تاریخ رقم کر گئی۔ ان کی محبت اور ان کی قربانیوں کی تاریخ ہمیشہ ہمارے دلوں میں رہے گی۔

ڈاکٹر روتھ فاو پاکستان کی مدر ٹریسا تھیں جو ہم سے بچھڑ گئی۔

ڈاکٹر روتھ فاو ہمیشہ زندہ باد

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔