گلگت بلتستان اوربلوچستان میں’’را‘‘ کی دلچسپی

تحریر:فیض اللہ فراق

پاکستان گلگت بلتستان سے شروع ہو کربلوچستان میں اختتام ہوتاہے، جبکہ دونوں علاقوں میں قدرتی وسائل تیل اور معدنیات کی کثرت ہے۔ ماضی میں بلوچستان کی اہمیت اس لئے بھی تھی کہ یہاں سے ملکی معیشت بہتر کیاجاتاتھا کیونکہ ملک کے سب سے بڑے تیل اورگیس کے ذخائر یہاں تھے۔ یہی وجہ تھی ہندوستان روزاوّل سے اس علاقے میں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر خفیہ سرمایہ کاری کرتا رہا۔ ہندوستانی ایجنسی’’را‘‘کی یہ حکمت عملی کسی حد تک پروان چڑھی جس سے وہاں علیحدگی پسند جتھوں اورگروہوں کاوجود عمل میں آیا۔ مذکورہ ہندوستانی حکمت عملی کو تقویت دینے میں ہر دور کی وفاقی حکومتیں بھی پیش پیش رہی کیونکہ لیڈر یا حکومت نے بلوچستان کے مسائل کو دیکھنے کی بجائے وہاں کے زخموں پر نمک پاشی کا فریضہ ہی انجام دیا۔ بے روزگار نوجوانوں کو وفاق کے دروازے بند کردیے گئے اوربلوچستان کی مقامی قیادت اورلیڈر شپ نے بھی وفاق سے بلوچ نوجوانوں کے مسائل کی جنگ لڑنے کی بجائے جاگیر داری ،نوابی،سرداری رویے کو پروان چڑھایا یوں بلوچ عوام دو طرح کی محرومیوں کے چنگل میں پھنس کر رہ گئی۔ ایک تو مقامی نوبواں اور سرداروں کے زیرعتاب رہے جبکہ دوسری جانب وفاق کی سرد مہری کا بھی سامنا رہا ہے۔ یہ وہ بنیادی ایشوز تھے جن کی وجہ سے ایک عام اور غربت بلوچ بھی خود کارمحرومی کا شکارہوا اور پہاڑوں پر چڑھ کر غلط ہاتھوں اور منفی رستوں کا انتخاب کربیٹھا ۔

ایوان اقتدارمیں بیٹھے عیاش بیورو کریٹس ،سیاستدان اور اسٹیلبشمنٹ نے اس خطرناک لہر پر توجہ نہیں دیا اورکئی عشروں سے دشمن کی لگائی ہوئی آگ ہزاروں گھروں کو جلا کر راکھ کرچکی ہے، کئی گھر اجڑ چکے ہیں جبکہ بدامنی کی وجہ سے تعمیر و ترقی اور خوشحالی کاپہیہ رک چکا تھا۔ نوجوانوں کو بہتر مواقعوں کی کمی کی وجہ سے منزل تاریک نظر آرہی تھی اورخوف و ہراس کی کیفیت سے بے یقینی کی فضا قائم تھی۔

دوسری جانب گلگت بلتستان چونکہ تنازعہ کشمیر کا اہم فریق ہونے کی وجہ سے دنیا کے نقشے پرمتنازعہ حیثیت کے حامل اپنی بقاء کو یقینی بنارہاہے جبکہ پاکستان کا انتظامی حصہ ہونے اور یہاں کی مخصوص جغرافیائی حیثیت اور بے تحاشا وسائل کی وجہ سے ہندوستان کی نظریں روز اوّل سے گلگت بلتستان کے اوپر بھی جمی ہوئی ہیں۔ بلوچستان جیسی علیحدگی پسند تحریکوں کا وجود گلگت بلتستان میں نہیں ہے لیکن ہر دور کے حکمرانوں کی نااہلیوں کی وجہ سے گلگت بلتستان کے نوجوانوں پر بھی بہتر مواقعوں کے دروازے بند رہے جس کی وجہ سے ایک خود کار محرومی کا درس عام رہا۔ اس نے خطے کے نوجوانوں کا بہت بڑا نقصان کیا مگر پھر بھی یہاں کے نوجوان اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پرمحنت سے آگے بڑھتے رہے۔

دونوں علاقوں کے نوجوانوں میں یہی کیفیات نے احساس کمتری میں مبتلا رکھا یہی وجہ ہے بلوچستان اور گلگت بلتستان میں باہر سے آنے والوں کو قبول کرنے کا مادہ بہت کم ہے۔ موجودہ حالات میں بدلتے ہوئے عالمی حالات اور سی پیک جیسے میگا منصوبوں کے آغاز سے گلگت بلتستان اور بلوچستان کی اہمیت پہلے سے بہت زیادہ بڑھ چکی ہے کیونکہ سی پیک کا آغاز گلگت بلتستان کا علاقہ خنجراب سے ہو کر بلوچستان میں اختتام ہوگا۔

سلیم صافی کے مطابق یہ ’’جی ٹو جی ‘‘منصوبہ ہے یعنی گلگت ٹو گوادر پراجیکٹ سی پیک کی وجہ سے ہندوستانی عزائم خطرناک حد تک گلگت بلتستان اور بلوچستان میں سرائیت کررہے ہیں جس کی وجہ سے ہندوستانی ایجنسی ’’را‘‘کی دلچسپی ان دونوں علاقوں میں پہلے سے زیادہ بڑھ رہی ہے۔ سی پیک کو ناکام بنانے کیلئے ’’را ‘‘نے ’’ڈیسک فار جی بی سی پیک اینڈ واخان‘‘کے نام سے خصوصی سیل قائم کیا ہے جس کا سربراہ ’’را‘‘کے ایک سابق میجر جنرل ہے۔ اس سیل کا دفترلودھی روڈ دہلی میں واقع ہے۔ اس ڈیسک میں سی پیک کو ناکام بنانے کیلئے 2014میں 269ملین ڈالرز بجٹ مختص کیا تھا جبکہ 2017اور 2018میں بجٹ میں اضافہ کر کے 500ملین ڈالرز مختص کیاگیا ہے۔ ہ رقم گلگت بلتستان اور بلوچستان میں عدم استحکام کے لئے استعمال ہوگی جس سے سیاستدانوں ،مذہبی قیادت ،صحافیوں اور سول سوسائٹی کے بااثر افرادغیر محسوس طریقے سے بھی مستفید ہوسکتے ہیں۔

ہندوستانی ایجنسی ’’را ‘‘گلگت بلتستان اوربلوچستان کے نوجوانوں کے ذہنوں کو متنفر کرنے کیلئے لسانی اور علاقائی تقسیم کو فروغ دینے کا کام کرنے کی کوشش کریگا۔ اپنے وظیفہ خوروں کے ذریعے علاقائی مسائل اورایشوز میں گھس کر عوام کی سوچ کو منتشر کرکے ملک دشمن روش کو پروان چڑھائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہندوستانی عزائم کوخاک میں ملانے کیلئے حکومتوں اور عوام کے پاس کیا حکمت عملی ہے ؟ جب ہماری حکومتیں مقبول فیصلوں کے ذریعے عوام کے دل جیت لیں گی اور بلوچستان و گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو زندگی کے مختلف النوع شعبوں میں بہتر مواقع پیدا کریں گے تو ہندوستان کے عزائم خود بخود خاک میں مل جائیں گے۔

یہاں ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ بلوچستان اورگلگت بلتستان میں پیدا ہونے والے عوامی ایشوز کو فوراً حل کردیا جائے اور نوجوانوں کے ذہنوں میں نئے خواب اور امید کا رجحان ڈالا جائے ۔عوام کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ارد گرد کے حالات پر کڑی نظر رکھے۔ کہیں حقوق کے نام پر چلنے والی تحریکیں غیر محسوس اور معصومانہ اندازمیں کسی اور کیلئے استعمال تو نہیں ہورہی؟ کیا ہمارا اختلاف،تفریق ،تقسیم اوراحتجاج و ہڑتال دشمن کی حمایت میں تو نہیں چلا جاتا ہے؟

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments