غذر میں ایک سال کے دوران 15 کے قریب خود کشیوں کے مبینہ واقعات

غذر(کریم رانجھا) صوبائی وزیر باخبر یا غذر کی میڈیا لاعلم ۔صوبائی وزیر سیا حت نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ غذر میں خودکشیوں کے حوالے سے مقامی میڈیا غلط پر چار کر رہی ہے جبکہ گزشتہ سال غذر میں 45 خودکشیوں کے واقعات ہوئے صوبے میں نہ تو فیملی کورٹ ہے اور نہ دارالامان اور نہ ہی خواتین کیلئے الگ جیل۔انہوں نے کہا کہ غذر میں خود کشیوں کے ساتھ ساتھ قتل کے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں جس کیلئے صوبائی وزیر تعمیرات کی سربراہی میں کمیٹی بنا دی گئی ہیں جو اس حوالے سے تحقیقات کر رہی ہے ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال غذر میں 50 سے زائد کوخودکشیوں کے واقعات رونما ہو گئے ہیں ادھر غذر پریس کلب کے ارکین نے صوبائی وزیر سیاحت کے اس بیان پر کہ غذر کی میڈیا اس حوالے سے غلط رپورٹنگ کر رہی ہے کو مسترد کرتے ہوئے غذر میں گزشتہ سال ہونے والے خودکشیوں کے اعدادو شمار کو درست کرنے کا مشورہ دیا ہے کہ میڈیا پر الزام لگانے سے پہلے کم از کم غذر کے تھانہ جات سے ریکارڈ لیتے تو اصل حقیقت سامنے آتی کہ غذر میں ایک سال کے دوران 45 نہیں بلکہ 15 کے قریب خود کشیوں کے مبینہ واقعات ہو گئے ہیں اب صوبائی وزیر خود بتائیں کہ خود کشیوں کے واقعات کو بڑھا چڑھا کر میڈیا پیش کرتا ہے یا وزیر موصوف اس کا فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہیں ہمارا مشورہ ہے کہ بلا وجہ میڈیا پر تنقید کی بجائے اصل حقائق عوام تک وزیر موصوف خود پہنچائیں اگر خودکشیوں کی روک تھا م کی کمیٹی کے ممبر کو غذر میں ہونے والے خود کشیوں کی تعداد تک معلوم نہیں تو ایسے میں وزیر موصوف سے خود کشیوں کی روک تھام کی توقع رکھنا عبث ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments