106 میگا واٹ گولین گول پن بجلی گھر میں تکنیکی خرابی کا انکشاف، وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے بجلی گھر کی افتتاح التوا کا شکار

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(گل حماد فاروقی) چترال سے پچیس کلومیٹر دور گولین کے مقام پر گولین گول ہائڈرو پاؤر ہاؤس (پن بجلی گھر) جس کا آٹھ جنوری کو وزیر اعظم نے افتتاح کرنا تھا بدقسمتی سے ایک بار پھر التوا کا شکار ہوا۔

اس بجلی گھر پر جنوری 2011 میں باقاعدہ کام شروع ہوا تھا اور جنوری 2018میں اس کا افتتاح کرنا تھا مگر بجلی گھر واٹر چینل اور دوسرے جگہوں میں بڑے پیمانے پر پانی لیک ہونے کی وجہ سے اسے ملتوی کیا گیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چترال کے عوام پر امید تھے کہ تیرہ جنوری کو وزیر اعظم پاکستان شاہد حاقان عباسی اس بجلی گھر کا افتتاح کریں گے اور لوگوں کی زندگیوں میں روشنی آئے گی مگر لوگوں کی امیدوں پر اس وقت پانی پھر جب اس بجلی گھر میں بڑے پیمانے پر خرابی کا انکشاف ہوا۔

سماجی کارکن شیر جہاں ساحل کے مطابق اس بجلی گھر کی ٹربائین کیلئے ایک پہاڑ کے اندر سے سرنگ بناکر اس میں پانی کا لائن لایا گیا ہے جس میں 364 جوائنٹ یعنی جوڑ ہیں۔ ان Joints اور ٹینکی سے بھی پانی لیک ہونے پر ایک جرمن ماہر کو بلایا گیا جس نے اسے چیک کرنے کے بعد اسے دوبارہ مرمت کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

ا س سلسلے میں جب پراجیکٹ ڈائیریکٹر جاوید آفریدی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بھی تصدیق کرلی کہ بجلی گھر کے واٹر چینل میں لیک ہورہی ہے تاہم وہ پرامید تھے کہ ان کو جلدی ٹھیک کیا جائے گا ۔ تاہم دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کو ٹھیک کرنا اتنا آسان نہیں اور بعض ماہرین یہ بھی الزام لگاتے ہیں کہ اس میں ناقص میٹریئل کے استعمال کی وجہ سے یہ خرابی پیدا ہوئی ہے۔

چترال کے سیاسی اور سماجی طبقہ فکر نے چیف جسٹس آف پاکستان سے از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے کہ گولین گول بجلی گھر جو 800 ملین ڈالر کی لاگت سے تعمیر ہورہی ہے اور اس میں جو ناقص کام ہوا ہے اس کے حلاف جوڈیشل کمیٹی کے ذریعے تحقیقات کی جائے نیز واپڈا ملازمین کی مفت یونٹ حتم کی جائے اور جو ملازمین گھر بیٹھے تنخواہ لے رہے ہیں او ر بجلی کی بے دریغ اور بے جا خرچ کرتے ہیں ان سے کٹوتی کی جائے تاکہ خسارے میں جانے والا یہ ادارہ ایک بار پھر اپنے پاؤں پر کھڑ ا ہوجائے اور عوام کو سستا بجلی مل سکے کیونکہ اس وقت عوام کو جو مہنگا ترین بجلی دی جاتی ہے وہ صرف اور صرف عملے کی بدعنوانی اور کرپشن کی وجہ سے کیونکہ واپڈا اور پیسکو کا عملہ ماہوار کروڑوں روپے کا بجلی مفت خرچ کرتے ہیں مگر اس کا بوجھ بچارے عوام پر ڈالا جاتا ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments