” ٹیکس معطل نہیں منسوخ کیا جائے “

تحریر : محمد شراف الدین فریادؔ

گلگت بلتستان میں ٹیکسز کے نفاذ کے خلاف ہونے والے ہڑتالوں ،دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں کے بعد اسلام آباد میں حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبران کے مابین ہونے والے مذاکرات کی کامیابی حقیقتاً ہم سب کے لیے اطمینان بخش تھی ۔ ٹیکسز کے خاتمے کے لیے وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی صاحب کو جو سفارشات بھیج دی گئی تھیں اسے من و عن تسلیم کروانے کے لیے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جناب حافظ حفیظ الرحمٰن صاحب نے اپنا کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے بلا آخر ایڈاپٹیشن ایکٹ 2012 کے معطلی کا نوٹفیکیشن جاری کروادیا جس سے نہ صرف دھرنے ختم ہوئے بلکہ عوام میں پائی جانے والی بے چینی بھی ختم ہوگئی ہے ۔

قارئین کرام کو یاد ہوگا کہ موصوف نے ” حقوق نہیں تو ٹیکس کیسا ۔۔۔۔؟ ” کے عنوان سے 2012 میں اس وقت ایک مضمون تحریر کیا تھا جب گلگت بلتستان کونسل کے ممبران جن میں پی پی پی کی اکثریت تھی نے مذکورہ ٹیکس کے متعلق ایکٹ پاس کیا تھا۔ موصوف نے اس وقت کے وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ صاحب کا اس بارے میں موقف معلوم کیا تو وہ بھی مذکورہ ایکٹ کی مکمل تائید اور حمایت کر رہے تھے۔ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے اراکین بھی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے۔ جن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین زیادہ تعداد میں شامل تھے لیکن آج یہ دیکھ کر تعجب نہیں بلکہ مایوسی ہوئی کہ وہی پیپلز پارٹی کے بعض رہنما مذکورہ ٹیکسز کے خلاف ہونے والے ایکشن کمیٹی کے دھرنوں میں بھی نظر آئے اور مذکورہ ٹیکس کا سارا ملبہ موجودہ وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن صاحب پر گراتے ہوئے بڑی بے شرمی کے ساتھ اخباری بیانات بھی دیتے رہے ۔ مایوسی اس لیے ہوئی کہ ہمارے معاشرے کے سیاسی ماحول کے قول و فعل میں اس قدر تضاد کیوں ہے؟ نہ جانے ہمارے سیاسی لیڈر اس منافقانہ طرز سیاست سے کب باہر نکلیں گے۔۔۔۔؟ اسلام آباد میں ہونے والے کامیاب مذاکرات کے بعد پی پی پی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈوکیٹ صاحب نے یہ بیان جاری کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن ٹیکس کے خاتمے کا کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ نے ٹیکس کے مسلے کو اُلجھا کر گلگت بلتستان بھر کے عوام کو سڑکوں پر لایا ۔ “حفیظ الرحمٰن چھوٹا شہباز شریف بننے کی کوشش نہ کریں انہیں فٹ پاتھ پر لاسکتے ہیں پیپلز پارٹی والے ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہیں “

یہاں ہم امجد صاحب سے پوچھتے ہیں کہ اُنہوں نے اپنی روش بدلنی ہی تھی تو اس وقت مذکورہ ٹیکس کے خلاف ایکٹ ہی پاس کیوں کیا ؟جس جی بی کونسل نے مذکورہ ایکٹ پاس کیا امجد حسین صاحب اس کونسل کے ہی رکن بھی تھے ۔ اگر وہ اس وقت مذکورہ ایکٹ پاس ہی نہیں کرتے تو گلگت بلتستان کے عوام کو آج سڑکوں پر نکلنے کی نوبت نہیں آتی ۔ یہاں ہم حافظ حفیظ الرحمٰن کی وکالت نہیں کر رہے ہیں موصوف نے سال 2012 میں پاکستان مسلم لیگ ” ن” کے سنٹرل سکریٹریٹ کشروٹ گلگت جاکر اس اہم ایشو پر بیان لینے کی کوشش کی تو اُنہوں نے اس پر خاموش رہنے کو ترجیح دی اور کہا کہ اس ایشو کو نہ چھیڑا جائے تو بہتر ہوگا جس پر ہم نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہ بھی خاموشی سے مذکورہ ٹیکس کی حمایت کر رہے ہیں اور یوں یہ ایشو دب گیا۔ جب 2017 میں مذکورہ ایکٹ پر عملدرآمد ہونے لگا اور ٹیکس کٹوتی کا عمل شروع ہوا تب عوام ہوش میں آئے اور وہی ہوا جس خدشے کا اظہار موصوف نے سال 2012 کی تحریر میں کر چکے تھے ۔ ہمارے سیاسی لیڈروں کو اس طرح کی طرز سیاست سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے ۔ ان کے قول و فعل میں تضاد کی ہی وجہ ہے کہ ہم گزشتہ 70 برسوں سے اپنے تمام تر آئینی ، سیاسی و جمہوری حقوق سے محروم چلے آرہے ہیں ۔ وقت کی مناسبت کو دیکھتے ہوئے اپنے موقف بدلتے رہتے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ اس خطے کی اپنی الگ تاریخ و شناخت ہے تو کبھی کہتے ہیں کہ یہ خطہ کشمیر کا حصہ ہے جب تک کشمیر کا مسلہ حل نہیں ہوتا اس خطہ (گلگت بلتستان ) کے مسلے کو چھیڑا نہ جائے ۔

آج پھر سے کہا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں لاکر پاکستان کے قومی اسمبلی اور سینٹ میں نمائندگی دی جائے ۔ سرتاج عزیز صاحب کی سربراہی میں جو جائزہ کمیٹی بنائی گئی تھی ذرائع کے مطابق اس کے سفارشات میں اسپیشل صوبے کے نام پر ایک پیکج دینے کی تیاری ہورہی ہے ۔ مکمل آئینی صوبہ کے حصول تک اسے آئینی حقوق کے لیے پہلی پیش قدمی کے طور پر قبول کیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا تاکہ پاکستان کے قومی اسمبلی اور سینٹ میں اس خطے کی کچھ نہ کچھ نمائندگی تو ہوگی اور ہمارے منتخب نمائندے اپنے مکمل آئینی حق کے لیے اعلیٰ ایوانوں میں آواز بلند کر سکیں ۔ ہمارا تو شروع دن سے یہ موقف رہا ہے کہ اس خطے کی اپنی الگ تاریخ اور شناخت ہے جس کا کشمیر سے دور کابھی تعلق نہیں ہے ۔ ہم پر کشمیر کے ڈوگروں سے پہلے یعنی 1842 میں پنجاب کے سکھوں نے حملہ کرکے قبضہ کیا تھا پھر 1847 میں کشمیری ڈوگروں نے پنجاب کے سکھوں کو شکست دیکر اس خطہ پر قبضہ کیا ۔ 1935 میں اس خطے کو برٹش حکومت کے تحویل میں دے دیا گیا پھر برصغیر کے تقسیم کے بعد جولائی 1947 میں کشمیری ڈوگروں نے دوبارہ اس خطے پر قبضہ کرکے نظم و نسق چلانے کی کوشش کی تو یہاں کے عوام نے علم بغاوت بلند کیا اور یکم نومبر 1947 کو یہ خطہ ڈوگروں سے آزاد کرایا پھر 16 نومبر 1947 کو غیر مشروط طور پر مملکت پاکستان میں شامل ہوگئے۔

اب مملکت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ 16 نومبر 1947 کے الحاق پاکستان کی روشنی میں اس خطے کو آئین پاکستان کے آرٹیکل نمبر ۱ میں شامل کرتے ہوئے اپنا آئینی صوبہ تسلیم کریں اور مملکت پاکستان کے دیگر آئینی صوبوں کے برابر حقوق و مراعات دیں ۔ جس کے بعد جو بھی قانونی ٹیکس لاگو ہوگا وہ یہاں کے عوام ادا کریں گے۔بہر حال دیر آید درست آید کے مصداق حفیظ صاحب نے مذکورہ ٹیکس کی معطلی کے لیے اسلام آباد کے ایوانوں میں جنگ لڑ کر نہ صرف گلگت بلتستان کے عوام کی نمائندگی کا حق ادا کیا بلکہ اپنی 2012 کی خاموشی کا کفارہ بھی ادا کیا ہے اور پیپلز پارٹی کی طرف سے لگائے گئے ٹیکس کو معطل کراکر عوام کے سامنے سرخرو بھی ہوگئے ہیں لیکن صرف ٹیکس معطلی سے بات نہیں بنے گی بلکہ مکمل طور پر ٹیکس منسوخی کے لیے انہیں اپنی جنگ مزید لڑنا پڑے گی کیونکہ معطل شدہ ٹیکس کسی بھی وقت ایک ایگزیکٹیو آرڑر پر دوبارہ بحال ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان کے عوام کو قومی دھارے میں شامل کرانے کے وعدے بھی ابھی باقی ہیں جس کے لیے اُنہیں سنجیدہ کوششیں جاری رکھنی ہوگی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments