وہ اپنی جوانی کے دن سیاچن میں گزارنا چاہتا تھا

تحریر۔ محمداہوب

گلگت بلتستان کے کچھ علاقوں میں دور قدیم سے یہ روایت ہے کہ جس گھر میں کسی کی موت واقع ہو ہمسائے تیسرے دن تک غم زدہ خاندان سے اظہار ہمدردی کے طور پر تیسرے دن تک راتیں اس گھر میں جاگ کے گذارتے ہیں۔ داداکی وفات پر بھی محلے والے شام سے گھر میں اکٹھا ہونے شروع ہوگئے تھے۔ کمرے میں پندرہ بیس لوگ موجود تھے۔ دروازے پر دستک دی گئی کھولا تو اس نے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ تمام لوگوں نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا وہ آج ہی چھٹی پر آئے تھے۔سب سے ملاقات کرنے کے بعد وہ راقم کے قریب بیٹھ گئے۔سب سے خیریت ردیافت کی اور دادا کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا۔ اب معمول کے مطابق سب آپس میں گپ شپ میں مصروف تھے۔ وہاں موجود ایک شخص نے ان کے ڈیوٹی سے متعلق پوچھا تو کہا وہ سیاچن میں اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے اس سے پہلے وہ کراچی میں تھے۔ پوچھنے پر کہا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اپنا تبادلہ سیاچن میں کراوایا ہے۔اسی دوران اس نے آہستہ سے بتایا کچھ دن قبل وہ سیاچن کے اگلے محاز پر جاتے ہوئے برفانی تودے کے زد میں آگئے تھےتاہم وہ بچ گئے ہیں۔ان کا ایک اورساتھی حولدار علی مدد جو اسی گاوں سمال سے تعلق رکھتا ہے ایم ایچ پنڈی میں زیر علاج ہے۔ اس نے اپنے سر اور جسم پر زخم دیکھاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے گھر میں نہیں بتایا ہے کیونکہ اس کی امی پریشان ہوتی ہے۔ اس سے پوچھا یار ہم ان پہاڑوں کئ درمیان پیدا ہوگئے، یہاں پر پلے بڑھیں یہاں پھر آپ نے سیاچن کئ مشکل پہاڑوں پر جانے کا فیصلہ کیوں کیا؟ آپ فٹ بال کھلتے کھلتے اپنی سروس پوری کرسکتے تھے۔ جواب میں اس کے الفاظ کچھ اس طرح کے تھے (کاکا جو مزہ سیاچن کی پہاڑوں میں ہے وہ شہروں میں کہاں۔ آپ درست کہہ رہے ہیں میں شہروں میں اپنی سروس پوری کرسکتا تھا لیکن میں چاہتا تھا کہ میں اپنی جوانی کے دن سیاچن کے مشکل ترین محازوں پر گزار دوں تاکہ میں مظبود بن جاوں۔اور کاکا دشمن کے سامنے سینہ تھان کے نوکری کرنے کا مزہ ہی الگ ہے)شکر ہے یار تم بچ گئے اور دعا کرو حولدار علی مدد بھی جلد ٹھیک ہو۔( ہاد رہے سردی کے باعث جلنے پر حولدار علی مدد کے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں کاٹ دی گئیں اور ان کو آرمی سے سبکدوش ہونا پڑا) بچنے والے جملے پر کہا کہ کاکا مرنے بچنے کا کوئی ٹینشن نہیں ہم اتنے اچھے کہاں کہ شہادت نصیب ہو۔ اس رات اس سے بہت ساری باتیں ہوگئی یہاں تک کہ صبح کی آزان ہوگئی۔وہ سپاہی عقیل خان تھا۔

سپاہی عقیل کا تعلق گلگت بلتستان کے ضلع غذر کے گاوں سمال سے تھا وہ انتہائی مخلص، ملنسار، خوش اخلاق ، اور نیک انسان تھے۔وہ بچن سے ہی فٹبال کا شوقین تھا اور فٹ بال کا بہترین کھلاڑی تھا۔شہید عقیل نے پانچ نومبر دو ہزار بارہ کو پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی وہ بہت خوش تھے ابتدائی تربیت کے بعد وہ پاکستان آرمی کے اے کے رجمنٹ 43 جو کراچی میں تھی منسلک ہوگئے یونٹ کے لئے بھی وہ فٹ بال کے مقابلوں میں حصہ لیتے رہے۔ گاوں میں جب فٹ بال کے مقابلے ہوتے ان کے ساتھی ان کو ٹیلی فون پرچھٹی آنے پر مجبور کردیتے اور وہ کراچی سے طویل راستہ طے کرکے یہاں مقابلوں میں حصہ لینے پہنچ جاتے تھے۔ فٹ بال تو ان کا جنون تھا۔شہید عقیل نے پاکستان آرمی کی 23 اے کے رجمنٹ کے ساتھ ولنٹئر کے طور پر سیاچن جانے کا فیصلہ کیا ان قریبی دوستوں کے مطابق ایک افسر نے یہ کہہ کر اس کو سیاچن جانے روکا کہ تم یونٹ کے لئے فٹ بال کھیلتے ہو مت جاو لیکن شہید عقیل کا جذبہ دیکھ کر بعدازاں جانے کی اجازت دے دیا۔وہ سیاچن کی سخت سردی اور مشکل محازوں پر اپنی ڈیوٹی بڑی خوش اسلوبی سے انجام دے رہا تھا۔ ایک بار برفانی تودے کی زد میں آنے کے باوجود ان کے حوصلے سیاچن کے پہاڑوں سے بھی اونچے تھے۔شہید عقیل کے ایک سنئر افسر کئ بقول وہ اتنے بہادور اور تگڑے تھے کہ ان کی پہاڑوں پر چلن ماخور جیسی تھی۔وہ کبھی نہیں تھکتے تھے وہ سیاچن کے دشوار گزار راستوں سے گزرتے ہوئے بھی ہنستے مذاق کرتے جہاں ایک طرف خون جمادینے والی سردی تو دوسری جانب دشمن کا خطرہ لیکن ان کو کسی چیز کی پرواہ نہیں ہوتا۔

28 دسمبر کی شام وہ دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے اور دشمن سے نبرد آزما ہونے کے لئے اپنے پانچ ساتھیوں حوالدار نثار، سپاہی امجد، سپاہی اقبال، سپاہی نعیم۔طارق کے ساتھ اگلے محاز کے لئے روانہ ہوگئے۔ ان کا یہ سفر زندگی کا آخری سفر ثابت ہوا۔اندازے کے مطابق رات دس بجے کے قریب وہ ایک بے رحم برفانی تودے کی ذد میں آگئے ان رابطہ منقطع ہونے پر پاک آرمی کی ٹیم نے تلاش شروع کردی۔ 29 دسمبر کی صج خبر ملی کہ پاک آرمی کے پانچ جوان برفانی تودے کی زد میں اگئے ہیں تاہم ان کی تلاش جاری ہے۔ پاک آرمی کے تازہ دم جوانوں کو وہاں اتارا گیا انہوں نے اپنی جوان مردی، بلند حوصلہ اور بہادوری کے ساتھ سخت موسم اور مزید برفانی تودوں کی خطرات کے باوجود اپنے ساتھیوں کی لاشوں کو 48 گھنٹوں کے اندر اندر تلاش کیا۔یوں سپاہی عقیل کواپنے پانچ ساتھیوں کے ساتھ شہادت نصیب ہوئی۔شہید عقیل خان نے پانچ سال پاک آرمی میں اپنی خدمات انجام دی ،جن میں ڈیڑھ برس سیاچن میں ڈیوٹی دیا۔ان کی میت کو پورے پروٹوکول کے ساتھ آبائی گاوں پہنچایا توایک طرف ان کی کم عمری میں اچانک موت پر کہرام تھا تو دوسری جانب ان کی شہادت پر لوگوں کے سر فخر سے بلند تھے۔شہید عقیل خان کو 31 دسمبر کو ان کئ آبایی گاوں سمال میں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کردیا۔ ان کی ماں نے یہ کہہ کر پاک آرمی کا شکریہ ادا کیا کہ شہہد عقیل خان کی شادی اسی سال طے تھی لیکن میرے بیٹے نے دھرتی ماں کی حفاظت کی خاطر اپنی جان کا نزرانہ پیشن کیا ہے جس پر مجھے فخر ہے۔میں فخر سے کہوں گی کہ اس چمن کی آبیاری میں میرا خون شامل ہوگیا ہے اور میں پاکستان آرمی کی شکر گذار ہوں میرے بیٹے کو اس دب دبے سے آخری آرام گاہ تک پہنچایا ہے۔شہید عقیل کی والدہ کے ان الفاظ پر وہاں موجود کرنل نے ان کو سلام پیشں کیا۔ گلگت بلتستان کے جوان ، بوڑھے، مرد، خواتین

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments