وزیر اعلی نے سوشل میڈیا اور ٹی وی کے ذریعے فرقہ واریت اور بدامنی پھیلانے کی سرتوڑ کوشش کی، نصیر خان

 استور( پ۔ر) فرقہ واریت اور بد امنی ن لیگ کا فیورٹ سبجیکٹ ہے ان کا کام ہے کہ کسی طرح بھی علاقے میں فرقہ ورانہ تصادم ہو ٹیکسز کے معاملے میں حفیظ الرحمن نے اخبارات اور سوشل میڈیا سمیت الیکڑونک میڈیا کے ذریعے سر تورڈ کوشش کی کہ گلگت بلتستان میں حالات خراب ہو مگر گلگت بلتستان کی باشعور عوام تاجر برادری اور عوامی ایکشن کمیٹی نے صبر و تحمل کے ساتھ کام لیا جس پر حفیظ بد امنی پھیلانے میں مکمل ناکام ہوگئے ان خیالات کا اظہار سابق صوبائی وزیر محمد نصیر خان نے صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا پیپلز پارٹی کا ایجنڈہ گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دلانا ہے گلگت بلتستان میں آج تک جتنی بھی  انتظامی اور دیگر اصلاحات ملی ہیں وہ پیپلز پارٹی کے مرحون منت ہے جبکہ ن لیگ نے سرتاج عزیز کی سربراہی میں ایک ذرامہ باز کمیٹی تشکیل دیا تھا اور جس کا رزلٹ ملنے کا دور تک بھی کوئی امکان نہیں ہے حفیظ الرحمن نے فرقہ واریت کی بنیاد پر ووٹ حاصل کیا اور ابھی لوگ ووٹ دینے کے بعد مایوسی کے عالم میں مبتلا ہے کہ ن لیگ کو ووٹ دیکر گناہ کرنے کے بعد اس کا کفارہ کیسے کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ ٹیکسز کا معاملہ اگر پہلے ہی مسلم لیگ ن کی حکومت حل کر لیتی ہو شاید ان کو یہ کریڈٹ جاتا مگر یہ کریڈٹ اس نام نہاد گورنمنٹ کو نہیں بلکہ گلگت بلتستان کی بہادر اور غیور عوام کو جاتا ہے جنہوں نے متحد ہو کر عوامی ایکشن کمیٹی کا ساتھ اس کے بعد مجبوری سے حکومت نے گڑھنے ٹیک دیں اس وقعے پر انہوں نے مزید کہا کہ ضیاولحق کی پیداوار کو عوام اور جمہوریت سے کوئی غرض نہیں ان کا غرض صرف کرپشن کر کے پیسےکمانا ہے حفیظ الرحمن نے اپنے دائیں اور بائیں سایٹ پر ٹھکیداروں کو بیٹھایا ہے اور وہ صرف پیسے کما رہا ہے انہوں نے کہا کہ ماضی میں لاشے گرانے میں بھی ن لیگ کا بڑا ہاتھ تھا لیکن اب انشا اللہ گلگت بلتستان کی عوام بہت ذیادہ باشعور ہو چکی ہے اور گلگت بلتستان میں ن لیگ کے ناسوروں کو بد امنی پھیلانا نہیں دیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments