زینب کو انصاف دو: اسوہ سکول گنش ہنزہ میں طلبہ و طالبات کا احتجاجی مظاہرہ

ہنزہ (ذوالفقار بیگ ) قصور میں بد اخلاقی کے بعد قتل ہونے والی زینب کے لئے پورا پاکستان سوگوار ہے اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں اسی طر ح ضلع ہنزہ میں بھی ننھی کلی زینب کے قتل کے خلاف اُسوہ پبلک سکول گنش میں اساتذہ سمیت طلباء نے پلے کارڈ اُٹھاکر احتجاج کیا گیا ۔پلے کارڈ پر نعرے درج کرکے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا کہ ننھی پری زینب کے قاتل کو سر عام بازار میں پھانسی دی جائیں ۔ ننھی پری ہم شرمندہ ہے قاتل اب تک زندہ ہے۔۔بعداز احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سابق ڈائریکٹر اُسوہ ایجوکیشن سسٹم ڈاکڑ علی محمد نے قصور میں قتل کی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ یہ واقعہ دل دہلا دینے والا ہے یہ واقعہ پنجاب حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے ۔ پنجاب حکومت لوگوں کی جان ، مال اور عزت کی حفاظت میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے یہ قصور کا پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے پہلے ایک سال میں گیارہ سے زائد ایسے واقعے رونما ہوچکے ہیں ۔ پنجاب میں گڈ گورننس نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ اُنہوں نے کہاکہ ننھی پری زینب کے قاتل کو سر عام بازار میں مجموعے کے سامنے پھانسی دی جائیں تاکہ یہ پورے ملک کیلئے نشان عبرت بنے ۔ تاکہ آئندہ آنے والے نسلوں کو محفوظ کیا جا سکیں ۔ پنجاب حکومت کی غفلت کی وجہ سے کئی کلیاں ان درندہ صفت انسانوں کی نذر ہوچکیں ہیں ۔ پنجاب حکومت کی زمہ داری ہے کہ قاتل کو فی الفور تلاش کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائیں ۔ پاکستانی قوم سوگ کے عالم میں ہے جب تک زنیب کے قاتل کو سرعام پھانسی نہیں دی جاتی ۔ چین سے نہیں بیٹھ ینگے ۔ اُنہوں نے مزید کہاکہ تمام چھوٹے بڑے پاکستانی شہریوں کی جان ، مال اور عزت محفوظ رکھنا ریاست کی اولین زمہ داری ہے ۔اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو عوام اپنے جان ،مال اور عزت محفوظ رکھنے کیلئے اقدام اُٹھانے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔

آپ کی رائے

comments